(ملفوظ 329)زمانہ تحریکات میں حضرات حکیم الامت کے پیچھے نماز نہ ہونے کا فتوٰٰی

ایک سلسلہ گفتگو فرمایا کہ تحریکات کے زمانہ میں تو بعض علماء نے میرے متعلق یہ فتویٰ دیا کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں میں نے کہا کہ مجھ کو نماز پڑھانے کا ایسا شوق بھی نہیں ایک قریب کے قصبہ میں ایک مولوی صاحب نے بیان کیا تھا کہ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں جب میں نے سنا کہ میرے پیچھے نماز کو ناجائز کہتے ہیں تو میں نے ایک مضمون بصورت اسفتاء لکھ کرمولوی شبیر علی کو آس پاس کے مشاہیرے علماء کے پاس بھیجا ان میں وہ بزرگ بھی تھے انہوں نے جاکر وہ پرچہ دیا کہ اس کے متعلق جوشرعی حکم ہولکھ دیجئے دیکھ کرکہا کہ کون کہتا ہے کہ ان کے پیچھے نماز جائز نہیں کہنے لگے ( خلافت کے متعلق مسئلہ ) اختلافی اوراجتہادی مسئلہ ہے اس میں غلونہ کرنا چاہئے یا تو عدم جواز اقتدا کو بیان کیا تھا اور پوچھنے پریہ فرمایا کہ حالت تدین کی ہے اس کے بعد پھر تواسقدر نرم ہوئے کہ ہدیہ بھیجنے لگے اور بقیہ علماء نے اسی کے قریب لکھا ۔