(ملفوظ 183)زمانہ تحریکات وفودتھا نہ بھون سے سکوت لے کرگئے :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بہت لوگوں نے اس زمانہ تحریک میں تبادلہ خیالات کے لئے یہاں پرآنا چاہا اوربعضے آئے بھی مگر بحمداللہ کچھ دے کرتوگئے نہیں ( یعنی تحقیق ) لے کرہی گئے ( یعنی سکوت ) بعض وفود بھی آنے کیلئے تیارہوئے چنانچہ میرٹھ سے ایک وفد آنے والا تھا بیرسڑ وغیرہ اس کے ارکان تھے کسی نے ان سے کہ دیا کہ جاتورہے ہو دوسرے کو جذب کرنے کے لئے مگر ذرا اپنی خیرمنانا کہیں وہاں جا کرتم ہی ویسے نہ ہوجاؤ نہ معلوم اس مشورہ کا کیا اثر ہوا پھر نہیں آئے ایک سندھی مولوی صاحب نے جوان سے مرید تھے ان سے کہا کہ حضرت کبھی آپ ہی ویسے نہ ہوجائیں وہ بھی نہ آئے ایک اور مولوی صاحب نے ایک مجمع کی طرف سے آئے آنے کے قبل بواسطہ ان سے یہ گفتگو ہوچکی تھی کہ اپنے کی تین غرضیں ہوسکتی ہیں ایک افادہ ایک استفادہ ایک مناظرہ ۔ اگرافادہ مقصود ہے تومیرے ذمہ اس کا جواب نہ ہوگا وہ تبلیغ ہوگی اپنا فرض ادا کرکےتشریف لے جایئے عمل کرنا نہ کرنا میری توفیق پرہے اور اگر استفادہ مقصود ہے تو اس کے لئے پہلے سے تردد لازم ہے اور تردد آپ کوہے نہیں اس لئے کہ شرکت کرچکے شرکت کا اعلان کرچکے یہ شق قایل کو تسلیم نہیں رہا مناظرہ اس میں بے تکلفی شرط ہے سو مجھ میں اورآپ میں پہلے سے بے تکلفی نہی وہاں سے جواب آیا جو چاہو سمجھو آنے کی اجازت دیدو میں نے اجازت دے دی وہ آئے اور درخواست کی کہ مجھ کو تنہائی میں کچھ کہنا ہے میں نے کہا کہ جلوت میں گفتگو کرنے میں تو آپ کے لئے خطرہ ہے کہ آپ کے اسرار ظاہر ہوں گے مگر آپ اس خطرہ کیلئے تیار ہیں اور خلوت میں میرے لئے خطرہ ہے کہ مجھ پراشتباہ ہوگا مگر میں اس کے لئے تیار نہیں پس آپ کے لئے خلوت اور جلوت دونوں برابرہے کیونکہ آپ اعلان کرچکے ہیں توپوں فوجوں بندقوں مشین گنوں اور جیل خانوں کیلئے تیار ہوچکے ہیں مگر میرے لئے خطرہ ہے وہ یہ کہ سمجھا جائے گا کہ گورنمنٹ کے خلاف کوئی سازش کرنے کا ارادہ ہے اس لئے جوکہنا ہو مجمع میں کہئے بس بیچارہ رہ گئے اگے طویل قصہ ہے میں نے اس کا خلاصہ عرض کیا ہے اللہ کا شکر ہے کہ اپنے فضل سے عین وقت پردل میں ضرورت کی چیز ڈال دیتے ہیں اس میں میرا کوئی کمال نہیں جس سے چاہے اپنا کام لے لیں اس ہی زمانہ تحریک میں ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ اگر مسڑمحمدعلی صاحب یہاں پر آئیں توکیا ان کو اجازت ہوسکتی ہے میں نے کہا کرآنکھوں پرآئیں مگر چند شرائط ہیں پہلے سے اس لئے ظاہر کئے دیتا ہوں کبھی آنے کے بعد ان کو خیال ہوکہ کس دیہاتی سے پالا پڑا اس لئے جوباتیں ضروری ہیں صاف صاف کہے دیتا ہوں اول شرط یہ ہے کہ آنے سے پہلے مجھ کو یہ بتلادیں کہ کس غرض سے آرہے ہیں آیا مطلق ملاقات مقصود ہے یا کہ اور کچھ اگر مطلق ملاقات مقصود ہے تو شرائط میں کمی ہوگی ورنہ شرائط زائد ہونگی اور میں اسی وقت وہ بھی بیان کئے دیتا ہوں تاکہ وہ غور کرسکیں پھر جیسے رائے ہو عمل کریں سو اول شرط ہے کہ آنے سے قبل آنے کی غرض بتلادیں ، دوئم یہ کہ جس وقت وہ یہاں پر آئیں گے میں ان کےلئے بجز اول بارکے باربار کھڑا نہ ہونگا اس لئے کہ اس طرح سے کھڑا ہونا اعتقاد تقدس کی بناء پرہوتا ہے اور میں اس میں ان کا معتقد نہیں سوئم یہ کہ زمانہ قیام خانقاہ میں ان کو اور کسی سے گفتگو کی اجازت نہ ہوگی جو کچھ بھی تعلق ہوگا وہ مجھ سے ہوگا یہ ہیں شرائط اگر یہ منظور ہوں بسم اللہ ان کا گھر ہے تشریف لے آویں اس کے بعد پھر کوئی بات نہیں معلوم ہوئی ۔