(ملفوظ 182)زمانہ تحریکات بوجہ اہمال احکام فتنہ کا زمانہ :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ زمانہ تحریک بوجہ اہمال احکام کے بڑے فتنہ کا زمانہ تھا میں نے توصاف بزریعہ اشتہاراعلان کردیا تھا کہ یہ تحریک فتنہ ہے اس اعلان ہی کی وجہ سے زیادہ دشمنی لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوگئی تھی اس لئے کہ وہ اس کو دین سمجھ رہے تھے میں نے فتنہ کہہ دیا بعض لوگوں نے مجھ سے بیان کیا کہ یہ معترضین یوں کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے لاکھوں مخلوق بیٹھی ہوئی ہے میں نے سن کر کہا کہ بلکل غلط ہے میں ہی لاکھوں مخلوق کی مصلحت کی وجہ سے بیٹھا ہوا ہوں اور اس کی شرح یہ ہے کہ اگر بروز قیامت حق تعالٰٰی نے مجھ سے سوال فرمایا کہ جس مسئلہ کوتو سمجھا نہ تھا اس میں کیوں شرکت کی جس کی وجہ سے ہماری لاکھوں مخلوق تباہ اور پریشان ہوئی تو میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں باقی ان عوام شرکاء میں زیادہ وہ لوگ ہیں جن کو نہ عاقبت کی فکر نہ خدا کا دل میں خوف نہ اللہ رسول سے محبت بس ایک ہی چیز دل میں بسی ہوئی ہے یعنی دنیا اور اس کی ترقی ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ترقی کے کچھ حدود بھی ہیں یا نہیں کیونکہ ایسی ترقی کہ جس میں نہ حدود کے تحفظ کا خیال ہو نہ احکام پرعمل کرنے کی کوئی پرواہ ہو ایسی ترقی کیا ترقی ہے میں نے ایک مرتبہ لکھنؤ ایک وعظ میں جس میں نئے تعلیم یافتہ اور بیرسڑ اور وکلاء کا زیادہ مجمع تھا بیان کیا تھا کہ ترقی ترقی گاتے ہو آخراس کے کچھ حدود بھی ہیں اوراس کا کوئی معیار بھی ہے یا نہیں کیا ہرترقی کوگو اس کے نہ اصول ہوں نہ قواعد سب ہی کو محمود سمجھتے ہواگر یہ بات ہے تو پھر مرض کی وجہ سے جو مریض کے جسم پر ورم ہوجاتا ہے جس سے وہ فربہ نظرآنے لگتا ہے ڈاکٹروں اور طبیبوں سے اسکا علاج کیوں کراتے ہو اور اس کو کیوں مذموم سمجھتے ہو وہ بھی تو ایک ترقی کی قسم ہے اس بیان کا ان لوگوں پربڑا اثر ہوا۔