(ملفوظ 179) زمانہ تحریکات میں حضرت کو قتل کی دھمکیاں :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زمانہ تحریک میں لوگوں نے ستانے میں کون سی کسراٹھا رکھی تھی جوکچھ نہ کہنا تھا کہا جوکچھ نہ کرنا تھا کیا میں تو خدا کے سپرد کرکے مطمئن ہو چکا تھا ایک روز مسلمانوں کی موجودہ حالت کا مجھ پراس قدراثر ہوا کہ کھانا تک تلخ معلوم ہونے لگا اسی روز اپنی ایک حالت کا غلبہ ہوا کہ تمام دنیا ایک طرف جارہی ہے اور اس میں علماء بھی بکثرت شریک ہیں کہٰیں میں ہی تو غلطی پرنہیں اس حالت کا اس قدر غلبہ تھا کہ اس روز کھانا بھی نہیں کھایا گیا عشاء کی نماز پڑھ کرمکان پرپہنچا چارپائی پر بیٹھ کرلیٹنے کا ارادہ تھا کہ دفعتہ زبان پریہ جاری ہوگیا اب چاہے اس کو وارد سے تعبیر کرلیاجائے ۔ امنت بااللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الآخر والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالٰی والبعث بعدالموت ( ایمان لایا میں اللہ پراوراس فرشتوں پر،اور اس کی کتابوں پر،اوراس کے رسولوں پر، اورقیامت پرتقدیر کی ہربھلائی اور برائی پر، کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور بعد موت کے اٹھائے جانے پر۔ 12) پرقلب میں ڈالا گیا کہ تم تو بعدالموت کے لئے تیاری کررہے ہوان دنیا کے ذرا سے فتنوں سے کیوں ڈرتے ہو اور مشوش ہوتے بعدالموت جو واقعات پیش آنے والے ہیں ان کے سامنے ان کی حقیقت ہی کیا ہے مثلا جان کندنی ہے قبر ہے ، میدان حشرہے ، میزان عدل ہے ،پل صراط ہے بس اسی وقت قلب کو سکون ہوگیا پھرتوچین سے کھاتا تھا چین سے سوتا تھا یہاں تک لوگوں نے ستانے اور ایذا پہنچانے کی کوشش کی کہ بھنگن تک سے کہا گیا کہ تو اس گھرکمانا چھوڑدے اس نے جواب دیا کہ چاہے تمام قصبہ چھوڑ جائے مگر یہ گھر نہیں چھوٹ سکتا یہ سب خدا کی طرف سے فضل تھا ورنہ عنایت فرماؤں کی عنایتوں کا کوئی حددود حساب ہی نہ تھا اب کیا کہا جائے وہ قصہ ہی ختم ہوچکا غالب نے خوب کہا ہے
سفینہ جبکہ کنارے پہ آلگا غالب خدا سے کیا ستم وجور ناخدا کہئے
میں توسب کو دل سے معاف کرچکا ہوں ہاں جن لوگوں نے ستایا سب وشتم کیا بہتان باندھے ان سے خصوصیت کے تعلقات نہیں رکھ سکتا عام مسلمانوں کا ساتعلق رہے گا دل ملنا مشکل ہے ایک بات ہوتو عرض کی جائے قتل کی دھمکیاں الگ تھی خانقاہ خالی کرانے پرزور دینے کے الگ منصوبے ہورہے تھے نماز پیچھے نہ پڑھنے کا اعلان الگ تھا سی آئی ڈی سے تنخواہ پانے کی شہرت الگ دی جارہی تھی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجھ کوکسی کے دروازہ پرجانے کی ضرورت پیش نہیں آئی ان ہی لوگوں کو یہاں پربھیج دیا اور قریب قریب سب نے معافی کی درخواستیں کیں میں نے اس نیت سے سب کو معاف کریا کہ میں بھی اللہ کا قصوروار ہوں شاید وہ بھی مجھ کو معا ف کردیں ۔
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں مخالفین کے متعلق فرمایا کہ بکنے بھی دو جس وقت آنکھیں کھلیں گی اس وقت سب پتہ چل جائےگا اورمجھ کوجوجی چاہے کہیں مجھ پر بحمداللہ کوئی اثر نہیں نہ ان کے جواب کی فکر کہ عبث ہے اوریہ حق تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہے کہ مجھ عبث سے طبعا نفرت ہے بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ س فکر میں پڑنا اچھی خاصی مخلوق پرستی ہے کہ ان بیہودوں کی للو پتو کیا کریں کوئی خوش رہے یا ناراض کوئی معتقد کوئی یا نہ آئے سب برابرہے
حافظ خوب کہتے ہیں
ہر کہ خواہد گو بیاؤ ہر کہ خواہد گو برو داروگیروحا جب ودربان دریں درگاہ نیست
( جس کا جی چاہے آئے اورجس کا جی چاہے چلا جاوے اس درگاہ میں نہ کوئی دربان ہے نہ داروگیر۔ 12)
اہل حق کا کوئی کام مخلوق کے راضی کرنے یا ناراض کرنے کی بناء پرنہیں ہوتا بلکہ ہرکام کی بناء رضا حق ہوتی ہے نہ ان کو مخلوق سے طمع ہوتی ہے نہ ان پرمخلوق کا خوف ہوتا ہے کہ جس کوجہ سے وہ کتمان حق کریں بلکہ اس بارہ میں خود ان کی یہ شان ہوتی ہے جس کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
ہیت حق است ایں ازخلق نیست ہیبت ایں مرد صاحب دلق نیست
( یہ ہیبت اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے مخلوق کی نہیں ۔ نہ اس گڑری والے کی ہے ۔ 12)
ان کی نظروں میں مخلوق کی وقعت ہو ان کے دل میں ان کے خوف کیا ہوسکتا ہے اور ان کے دکھلانے یا راضی کرنے کے واسطے ان کیا کام ہوسکتا ہے وہ بدون کس خوف کے لایخافون لومتہ لائم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے ، پرعمل کرتے ہوئے صاف اظہار حق کرتے ہیں اور وہ خدا سے کام رکھتے ہیں مخلوق کے جھاڑو مارتے ہیں اور ان کی یہ شان ہوتی ہے
خلق میگوید کہ خسرو بت پرستی میکند آرے آرے باخلق و عالم کارنیست
(مخلوق کہتی ہے کہ خسروبت پرستی کرتا ہے ، ہاں ہاں کرتے ہیں کرے کوئی کیا کرے ہمارا معاملہ اللہ تعالٰی سے ہے ، مخلوق وغیرہ سے نہیں کوئی کام نہیں ۔ 12)