ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ زمانہ تحریک خلافت میں نے توکھلی آنکھوں حق تعالٰٰی کی رحمت اور فضل کا مشاہدہ کیا ہے مجھ کوتو کنکریوں کے بدلے جواہرات عطاء فرمائے گئے ہیں نماز کوئی پڑھے روزہ کوئی رکھے تہجد کوئی پڑھے تلاوت قرآن کوئی کرے اورثواب سب کا ملے اشرف علی کو اس لئے کہ بلاوجہ مجھ کو سب وشتم کیا گیا بہتان باندھے گئے اس کے عوض میں ان کی نیکیاں حق تعالٰی نے مجھ کوعطاء فرمائیں یہی وجہ ہے کہ میں نے سب کومعاف کردیا کیونکہ یہ تو سب میرے محسن ہیں اپنی عبادات کاثوات مجھ کو دیدیتے ہیں لوگوں نے میرا کچھ نقصان نہیں کیا نفع ہی پہنچایا اس کے مناسب ایک بزرگ کی حکایت یاد آئی کہ ان کو ایک شخص گالیاں دیا کرتا تھا یہ بزرگ اس کی مالی اعانت کیا کرتے تھے ایک روز اس نے یہ سمجھ کریہ تومیرے محسن ہیں بری بات ہے کہ میں ان کوگالیاں دوں گالیاں دینی بند کردیں اسی روز سے ان بزرگ نے اس کوجو روپیہ پیسہ دیا کرتے تھے بند کردیا اس نے سبب دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ بھائی یہ تو تجارت ہے لینا دینا ہے تم ہم کودیتے تھے ہم تم کو دیتے تھے یعنی تم گالیاں دیتے تھے جس سے تہماری عبادت کا ثواب مجھ کو ملتا تھا تم نے میرے دین کا نفع بند کرلیا میں تمہاری دنیا کا نفع تم سے روک لیا اسی نکتہ کی وجہ سے مجھ پران برا کہنے والوں کی کسی بات کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ان کو محسن سمجھتا ہوں صاحب ویسے تو کوئی عمل میرے پاس ہے نہیں یوں ہی دوسروں کے چندہ سے کچھ ذخیرہ آخرت جمع ہوجائے گا دنیوی زندگی بھی اسی طرح پوری ہوئی یعنی مفت خوری میں پہلے تو والد صاحب کی حیات میں ان کی کفالت کی وجہ سے کما کرنہ کھایا پھر معتقدین پیدا ہوگئے اب یہ کھلارہے ہیں میرے پاس کرنا دہرنا کچھ بھی ایسےہی آخرت کے لئے نہ کچھ کرانہ دہرا وہاں بھی مفت ہی کام بن جائےگا ۔
