( ملفوظ 630) ذکر اللہ اور عشق حقیقی کا غلبہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اپنے محبوب کی طرف اس قدر مشغول رہنا چاہئے کہ کسی کا دلچسپی سے تصور بھی نہ آئے نہ دوست کا نہ دشمن کا چہ جائے جنگ و جدل
گر ایں مدعی دوست بشناختے بہ پیکار دشمن نہ پرداختے
دیکھئے اگر کسی کا بیٹا مر جائے تو جب تک غم رہے گا قدم اٹھاتا ہے مگر اٹھتا نہیں بادل نخواستہ بات کرتا ہے مگر بات نہیں ہوتی اسی طرح وہ شخص دنیا کے کام کا نہیں رہتا جسے آخرت کی فکر ہو جاتی ہے ایک بزرگ کی حکایت ہے کہ حجامت بنوا رہے تھے ہونٹ ہل رہے تھے نائی نے کہا کہ حضرت لبوں پر استرا ہے تھوڑی دیر کو لب روک لیجئے ورنہ کٹ جائیں گے فرمایا میاں کٹ بھی جانے دو اس کا نام لینا کیسے چھوڑا جا سکتا ہے ایک اور بزرگ کی حکایت ہے کہ رات بیٹھ کر گزار دیتے بیوی کہتی کہ سو جاؤ بیمار ہو جاؤ گے کہتے کہ جب سے یہ آیت پڑھی ہے :
یایھا الذین آمنو قوا انفسکم و اھلیکم نارا و قودھا الناس و الحجارۃ
نیند نہیں آتی کیا کروں ۔
12 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم سہ شنبہ