( ملفوظ 420) ذکر میں یکسوئی نہ ہونا مضر نہیں

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے کہ ذکر میں یکسوئی نہیں ہوتی ـ میں نے لکھ دیا کچھ مضر نہیں اور مزاحا فرمایا کہ اگر کپڑا سل جائے اور ایک سوئی بھی پاس نہ رہے تو حرج کیا ہے ـ کپڑا پہن لیا جائے ـ اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میاں ی تو ساری عمر کی ادھیڑبن ہے ایسے تغیرات سے بد دل نہ ہونا چاہئے ـ اسی کو فرماتے ہیں ـ
اندریں رہ می تراش دمی خراش تادم آخر دمے فارغ مباش
( اس راہ میں نشیب فراز بہت ہیں ـ لہذا آخر دم تک ایک لمحہ کے لئے بھی بے فکری نہ چاہئے )
پہلے بزرگوں کے یہاں تو برکات پر کام چلتا تھا ـ آئین کی ضرورت نہ تھی اور اب ضرورت کی وجہ سے آئین بنا کر میں نے اس کا مستقل محکمہ بنا دیا ہے پس وہاں برکت تھی یہاں حرکت ہے ـ