( ملفوظ 272) ذوقیات کا بیان کرنا مشکل ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعضی چیزیں ایسی ہی ہیں جو بیان میں نہیں آ سکتیں ـ محض وجدانی اور ذوقی ہوتی ہیں اور اس طریق میں زیادہ چیزیں ایسی ہی ہیں جن کے بیان پر قدرت نہیں ـ یہی شان ان حضرات کے کمالات کی ہے کہ نہ انکی تعبیر ہو سکتی نہ نقل اسی کو فرماتے ہیں ـ
نہ ہر کہ چہرہ برا فروخت دلبری داند
نہ ہر کہ آئینہ دارد سکندری داند
ہزار نکتہ بار یکترز مو اینجائیت
نہ ہر کہ سر بتر اشد قلندری داند
( یہ بات نہیں ہے کہ جس نے بناؤ سنگھار کر لیا وہ ادائے معشوقانہ بھی جانتاہو ـ نہ یہ ہے کہ جس کے پاس آئینہ ہو وہ سکندر بھی ہو ـ یہاں راہ سلوک میں ہزاروں نکتے بال سے باریک ہیں ـ صرف سر منڈانے اور درویشوں کا ظاہری لباس پہن لینے سے قلندری کا علم نہیں ہوتا ـ ) اور فرماتے ہیں
شاہد آن نیست کہ موئے و میانے دارد بندہ طلعت آن باش کہ آنے رارد
( حسن کے لئے زلفیں داراز ہونا اور کمر کا پتلی ہونا کافی نہیں اس محبوب کے طلبگار بنو جس میں ادائیں ہو ـ ) اور فرماتے ہیں ـ
گر مصور صورت آں دلستاں خواہد کشید لیک حیرانم کہ نازش را چسپاں خواہد کشید
( مصور اس محبوب کی صورت کی تصویر تو کھینچ دے گا مگر میں حیران ہوں کہ اس کے نازو انداز کی تصویر کس طرح کھینچے گا ـ )
اور وہ ایک کیفیت ہے وہ مقال میں کس طرح آوے گی وہ تو حال ہے ـ