( ملفوظ 64 )آج کل کے تکلفات اور بے تکلفی کی راحت

فرمایا کہ میں تو فتوے لکھنے میں مشغول تھا ۔ ایک ضعیف شخص نے آ کر بہت ہی ستایا ، مرنے کے قریب ہیں مگر اب تک سلیقہ نہیں ، میں نرمی سے اپنی عدیم الفرصتی کا عذر کرتا رہا مگر وہ مرغ کی ایک ہی ٹانگ ہانکے چلے گئے جب میں نے وہی ضابطہ کا طرز اختیار کیا سیدھے ہو گئے اور اٹھ کر چل دیئے ۔ اب بتلائیے مجھ پر لوگ الزام لگاتے ہیں میرے یہاں جس قدر قواعد ہیں وہ ایسے ہی کوڑ مغزوں کے لیے ہیں خود قواعد مقصود نہیں اگر مقصود ہوتے تو کسی شخص کا بھی استثناء نہ ہوتا ۔ مقصود تو یہ ہے کہ نہ مجھ کو اذیت ہو نہ ان کو اور میری تو ہر بات کی شکایت ہوتی ہے ۔ ذرا دوسرا مشائخ اور پیروں کے یہاں جا کر دیکھو کیسی کیسی خدمتیں لیتے ہیں اور کیسے کیسے ادب و تعظیم کراتے ہیں کئی کئی دن دربار میں باریابی نصیب نہیں ہوتی ۔ اگر ہو بھی گئی تو بول نہیں سکتے ، دست بستہ کھڑے رہتے ہیں ، کہیں دست بوسی ہے کہیں پا بوسی ہے کہیں چڑھاوے اور نذرانے ہیں ۔ غرضیکہ سر سے پیر تک قیود ہی قیود بس ایسے کوڑ مغز اور بدفہموں کی ایسی ہی جگہ کھپت ہے ۔ میں نے حیدر آباد میں دیکھا ہے کہ مشائخ تک میں بڑا تکلف ہے اور ان کے جو حالات سننے میں آئے ان سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بعضے پیر تو وہاں کے فرعون ہیں ۔ ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ حیدر آباد کے امراء تو جنتی اور فقراء دوزخی ہیں کیونکہ امراء تو فقرا سے تعلق رکھتے ہیں اللہ کے واسطے اور طالب حق جنتی اور فقراء تعلق رکھتے ہیں امراء
سے دنیا کے واسطے اور طالب دنیا دوزخی ہیں ۔ جب حیدر آباد گیا تھا تو واپسی کے روز میں چارپائی پر پیر لٹکائے اسباب بندھوا رہا اور جمع کرا رہا
تھا ۔ ایک صاحب آئے اور میرے پیروں کی طرف ہاتھ بڑھائے ، میں نے کہا ذرا ٹھرئیے میں اچھی طرح بیٹھ جاؤں وہ ٹھر گئے میں نے پہلے
پیروں کو اٹھا کر چارپائی پر اس طرح سمیٹ لیا کہ پاؤں چھپ گئے ، بس وہ عاجز رہ گئے ۔ وہاں کی تہذیب کی یہ حالت ہے میرے یہاں تو اصلاح کا پہلا قدم یہ ہے کہ بد تہذیب ہو جاؤ یعنی ان کی اصلاح کی تہذیب کے مقابلے میں ان خرافات اور تکلفات کو پسند نہیں کرتا نہ اپنے بزرگوں کو ایسی باتیں پسند کرتے دیکھا ، میں ایک غریب طالب علم ہوں ، محبت کا برتاؤ رکھنا چاہیے ۔ ان رسمی حرکات سے مجھ کو سخت نفرت ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر جان دینے کو تیار مگر بے تکلف اس ڈھونگ بنانے میں کیا رکھا ہے ، دوستوں میں ملے جلے رہنا چاہیے ۔ صاحب آخر میں بھی بشر ہوں یہ کون سی دوستی ہے کہ میرے نفس کو فرعون بنایا جائے کیا مجھ پر ہی آپ لوگوں کا حق ہے میرا حق آپ پر نہیں ، نفس پر کسی وقت بھی مطمئن نہیں ہونا چاہیے اس کی ہر وقت حفاظت کی ضرورت ہے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :

نفس از بس مدحہا فرعون شد کن ذلیل النفس ہونا لا تسد

میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ مجھ کو ان بناوٹی باتوں اور تکلفات کی حرکات سے سخت اذیت پہنچتی ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنا رہے ہیں میں دل چیر کر کس طرح دکھلاؤں اگر ایسی تعظیمات کو گوارا کر لیا جاوے پھر نفس کو یہی عادت ہو جاتی ہے ۔ مجھ کو یاد ہے جب میں کان پور سے آیا وہاں کے تکلفات کا یہ اثر تھا کہ تم کا لفظ بھی ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کسی نے پتھر مار دیا اور اب تو کے لفظ میں لذت معلوم ہوتی ہے ، بے تکلف باتیں جن میں کوئی تکلف نہ ہو ، سادگی ہو ، اچھی معلوم ہوتی ہیں اور ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت جمعہ کے روز جب حضرت والا لوگوں سے بغیر مصافحہ کیے ہوئے سہ دری میں تشریف لا کر کسی ضرورت سے حجرہ میں تشریف لے گئے تو ایک گاؤں کا شخص اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا ابے چل وہ تو حجرہ میں بڑ گیا اس پر حضرت والا نے تبسم فرماتے ہوئے فرمایا کہ کیسی بے تکلف زبان ہے کیا پیارا معلوم ہوتا ہے اور مفہوم کو کتنا صاف ادا کر دیا اور اس متعارف مدح اور تعظیم کیلئے مولانا فرماتے ہیں :

تن قفس شکل ست اماخارجاں از فریب داخلان و خارجان

اینت گوید نے منم انباز تو آنت گوید نے منم ہمراز تو

اوچوبیند خلق راسر مست خویش از تکبر میرود از دست خویش

( انسان کا بدن پنجرے کی طرح ہے ( جس میں روح بند ہے ) لیکن بعض اوقات اپنوں اور غیروں کے فریب میں مبتلا ہو جانے کی وجہ سے یہ بدن روح کے لیے مثل کانٹے کے ہو جاتا ہے ، کوئی کہتا ہے کہ بھلا میں آپ کی برابری کہاں کر سکتا ہوں ، کوئی کہتا ہے کہ میں آپ کا ہمراز بننے کی کہاں قابلیت رکھتا ہوں ( ان لوگوں کی ان خوشامدانہ باتوں اور حرکتوں کو کانوں سے سنتا اور آنکھوں سے دیکھتا ہے اور کان بدن ہی کے اجزاء ہیں ) یہ سننے والا اور دیکھنے والا جب مخلوق کو اپنا معتقد دیکھتا ہے تو تکبر کی وجہ سے آپے سے باہر ہو جاتا ہے ( یہی چیز روح کے لیے کانٹا ہو جاتی ہے ) ۔

افسوس میں تمہیں سنواروں اور تم تعظیم کر کر کے مجھے بگاڑو ۔ اسی طرح ہدایہ کے لیے بھی یہ ہی ہونا چاہیے کہ کبھی لے آئے کبھی نہیں ، مداوت سے طبعا امید کی نظر ہو جاتی ہے جو ایک قسم کی طمع ہے ۔ سو میں تو تمہاری طمع کا علاج کروں اور تم میری طمع کو بڑھاؤ اور حضرت میں اسی اصلاح کے لیے قواعد بنانے پر مجبور ہوا اور بدنامی اصلاح کے لیے لازم ہے جس کو گوارا کرنا چاہیے ۔ اسی کو فرماتے ہیں :

گرچہ بدنامی ست نزد عاقلاں مانمی خواہیم ننگ و نام را

اور وہ قواعد واقع میں سخت نہیں مگر احتساب کے وقت لہجہ تو تیز ہو ہی جاتا ہے تادیب کے وقت غلامی کا لہجہ تو ہو نہیں سکتا لہجہ سے قواعد کی سختی کا جاہل کو شبہ ہو جاتا ہے ۔ ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت بعض لوگ نووارد قواعد سے بے خبر ہوتے ہیں ۔ فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہاں کے جو لوگ رہنے والے ہوں ان سے وہاں کے قواعد اور آداب معلوم کر لیے جائیں جیسے کچہری میں جاکر قوانین معلوم کرتے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ ایک تو ہے بے فکری اور ایک ہے فکر جو غلطی بے فکری سے ہوتی ہے وہ ناگوار ہوتی ہے ۔ اس پر مواخذہ ہوتا ہے اور جو فکر سے غلطی ہو وہ ناگوار نہیں ہوتی اس پر مواخذہ بھی نہیں کیا جاتا ۔ اب ایک کام کی بات عرض کرتا ہوں کہ نرے قواعد پورے طور پر منضبط نہیں ہو سکتے ، بڑی بات انس و محبت ہے یعنی سب سے اول شرط اس طریق میں یہ ہے کہ باہم موانست ہو جب موانست ہوتی ہے تو ہر ضروری بات سمجھ میں آ جاتی ہے ۔