ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت عبدیت کے لئے دعا کرنا کیسا ہے فرمایا ! عین مقصود ہے ـ عرض کیا کہ کہیں یہ جاہ تو نہ ہوگی کہ اتنے بڑے مقام کی تمنا ہے فرمایا تو یہ عدم جاہ ہے عرض کیا کہ حضرت پر بھی تو شان عبدیت کا غلبہ ہے ـ فرمایا میں تو رات دن لوگوں سے لڑتا بھڑتا رہتا ہوں کیا عبد ایسا ہی ہوتا ہے ـ عرض کیا کہ حضرت کا یہ طرز اصلاح و تربیت کی وجہ سے ہے اس سے تو مقصود حضرت کا دوسروں کو بھی عبد بنانا ہے ـ فرمایا کہ یہ آپ کا حسن ظن ہے اور اسی سلسلہ میں فرمایا کہ میں تو اکثر کہا کرتا ہوں کہ میری بداخلاقی کا منشاء خوش اخلاقی ہے خیر میں تو جیسا کچھ ہوں وہ تو مجھ کو ہی معلوم ہے مگر مجھ سے تعلق رکھنے والوں کی بالکل ایسی مثال ہے جیسے پہلوان اپنے شاگردوں کو سر سے اونچا اٹھا کر ٹپکتا ہے کسی کا ہاتھ ٹوٹا کسی کا سر پھوٹا ـ مگر وہ شاگرد بڑے پہلوانوں میں شمار ہوتے ہیں اور کہیں مار نہیں کھاتے تو حضرت ایک جگہ آدمی اپنی اصلاح و اخلاق کی درستی کرا لے پھر انشاء اللہ تعالی اس کو کہیں کچھ خطرہ نہ ہوگا
