ایک صاحب مجلس میں بہت ہی زیادہ ادب کی صورت بنائے بیٹھے تھے حضرت والا نے دیکھ کر فرمایا کہ آپ جس ہیت سے بیٹھے ہیں اور بھی کوئی اس طرح بیٹھا ہے یا آپ ہی سب سے زائد ادب کا غلبہ ہے مجھکو اس هيت ادب سے ايسامعلوم هوتا ہےکہ جیسےمجھ کوبناتے ہوآدمی کو کچھ تو عقل سے کام لینا چاہئے مجھے ایسی نشست سے تنگی ہوتی ہے کہ ایک مسلمان بندھا ہوا ہو بیٹھا ہے صحابہ کرام حضور ﷺ کی خدمت میں نہایت ہی بے تکلفی کے ساتھ رہتے تھے میں یہ نہیں کہتا کہ بے ادب بنو ادب نہایت ضروری چیز ہے مطلب یہ ہے کہ تکلف نہ ہو ادب اورچیز ہے تکلف اور چیز ہےاور اصل ادب نام ہے راحت رسانی کا ادب کہتے ہیں حفظ حدود کو اورکو اور یہ بڑوں کے حقوق ادا کرنے کا نام ادب خلاصہ یہ کہ بڑوں کے ذمہ چھوٹوں کا ادب ہے اور چھوٹوں کے ذمہ بڑوں کا ادب ہے خاوند کے ذمہ بیوی کا ادب ہے بیوی کے ذمہ خاوند کا ادب استاد کے ذمہ شاگرد کا ادب ہے شاگرد کے ذمہ استاد کا ادب پیر کے ذمہ مرید کا ادب ہے مرید کے ذمہ پیر کا ادب باپ کے ذمہ بیٹے کا ادب ہے بیٹے کے ذمہ باپ کا ادب یہاں پر ادب سے مراد حقوق کا اد اکرنا اور راحت رسانی ہے جس کا یہ حاصل ہےکہ کسی کو ایذا نہ پہنچاویں یہ ہے صحیح تفسیر ادب کی یعنی حفظ حدود جس کا خلاصہ ہے کہ سب کو راحت پہنچائیں ادب تو رہا ہی نہیں محض تکلف ہی تکلف رہ گیا ہے ظاہر اتعظیم وتکریم کو ادب سمجھتے ہیں یہ ایسا ہے جیسا کسی نے کہا ہے
ہے شرافت تو کہاں بس شروآفت ہے فقط ست سیاست سے گیا صرف سیا باقی ہے
اور کہتے ہیں
میم و واو میم نون تشریف نیست لفظ مومن پئے تعریف نیست (صرف میم اور واو اور میم اور نون جس کا مجموعہ لفظ مومن ہے قابل عزت چیز اور صرف لفظ مومن تعریف کے قابل چیز نہیں جب تک حقیقت ایما ن حاصل نہ ہو )
تو اس ظاہری اور بناوٹی ادب سے مجھ کو طبعی نفرت ہے اس پر ان صاحب نے معافی کی درخواست کی فرمایا معاف ہے خدا نخواستہ کوئی انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں مگر کیا آگاہ بھی نہ کروں میں ایسے موقع پر خاموش رہنے کو خیانت سمجھتا ہوں یہ للوپتو اور جگہ ہیں یہاں پر بحمد اللہ صاف معاملہ ہے چاہے کسی کو اچھا معلوم ہو یا برا کوئی معتقد رہے یا غیر معتقد غضب کی بات ہے کہ میں تو اصلاح کروں دین کو نفع پہنچاوں اور میرے ساتھ یہ برتاو کریں کہ مجھ کو فرعون بنانے کی کوشش کریں انسان ہے بشریت ہے اس طرز سے کبھی نہ کبھی قلب میں اپنی بڑائی کا خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ لوگ ہماری اتنی تعظیم وادب کرتے ہیں تو واقع ہم بھی کچھ ہونگے جب ہی تو لوگ ایسا سمجھتے ہیں نفس کا کیا اعتبار ہمیشہ یہ بات یا د رکھنے کی ہے کہ نفس کو کبھی ایسا موقع ملے نہ نہایت ہی کام کی بات ہے جس کو میں اس وقت بیان کر رہا ہوں یہ نفس ہی وہ بلا ہے کہ جس نے بڑوں بڑوں کے زہد اور تقوی اور تقدس کو ذراسی دیر میں ملا دیا اس کو کبھی مردہ مت سمجھو بعض اوقات یہ اسباب نہ ہونے کی وجہ سے دباہوا رہتا ہے مگرموقع اور اسباب کا منتظر رہتا ہے اسی کو مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں
نفس اژدر باست او کے مردہ است از غم بے آلتی افسردہ است
(نفس ایک اژدھا ہے جہ مردہ نہیں ہے بلکہ کس وجہ سے ٹھڑا ہوا ہے )
اور فرماتے ہیں
نفس از بس مدحہا فرعون شد کن ذلیل النفس ہونا لاتسد
(زیادہ تعریفیں سن کر فرعون ہوگیا ہے لہذا اس کو کبھی کبھی ذلیل کرلیا کرو)
اس کی چالاکیاں اور مکان کسی شیخ کامل ہی کی صحبت سے محسوس ہوسکتی ہیں اور ان کا علاج ہوسکتا ہے صحبت کامل ہی اس زہر کا تریاق ہے ویسے یہ کہاں قبضہ میں آتا ہے شیطان کو اسی نے مردود بنوایا اسکی تمام عبادت کو ایک لمحہ کے اندر خراب اور برباد کرادیا یہ ایسا دشمن جان بلکہ ایمان ہے ۔
