ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اہل باطل ہر وقت اہل حق کی فکر میں لگے رہتے ہیں ـ چھیڑ چھاڑ کرنا تو ان کا ایک ادنی مشغلہ ہے ـ ایک شخص اپنا واقعہ بیان کرتے تھے کہ میرے ایک دوست تھے وہ قادیانی ہو گئے تھے ـ مجھے چھیڑا کرتے تھے میں نے کہا کہ بھائی قیل وقال سے کیا فائدہ بس مختصر یہ ہے کہ میں تمھارے پاس مرزا کے پاس چلتا ہوں ـ اگر مجھ پر اثر ہو گیا تو میں قادیانی ہو جاؤں گا ـ اور اگر نہ ہوا تو تم قادیانیت سے توبہ کر لینا یہ طے ہو گیا دونوں وہاں گئے اول جاتے ہی وہاں منشی نے اس مرید صاحب سے پوچھا کہ تمہارا کیا نمبر ہے ؟ نمبر بتلایا تو رجسٹر دیکھ کر چندہ کا تقاضا کیا ـ اس کے بعد مرزا سے ملے مرید صاحب نے مرز سے تمام واقعہ باہمی معاہدہ کے ذکر کیا ـ مرزا نے ان پر اثر ڈالنے کے لئے بہت زور لگایا ان پر کوئی اثر نہ ہوا ـ اللہ نے ایمان کو سلامت رکھا اور واپس آکر ان صاحب نے بھی توبہ کر لی ـ ایہ ایک معمولی خوش عقیدہ کے تعلق کا اثر تھا اور بزرگوں کے تعلق میں تو اور زیادہ برکت ہوتی ہے ـ چناچہ ایک اور صاحب بیان کرتے تھے کہ ایک عسائی مجھ کو اپنی طرف مائل کرتا تھا ـ ایک روز مجھ کو کہنے لگا کہ تمھارا کسی عالم یابزرگ سے تعلق ہے ـ کہتے تھے کہ میں نے حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا نام لیا کہ ان سے تعلق ہے فورا اٹھ کر چلدیا ـ پھر کبھی نہ آیا ـ واقعی یہ حضرات سپر اور ڈھال ہوتے ہیں ـ ان حضرات سے صرف تعلق رکھنا بھی ایک قوی سبب ہے فلاح اور بہبود کا دیکھئے مولانا کا نام سن کر اس کی طمع قطع ہو گئی ـ بعض اسباب اس برکت قطع طمع کے محض معمولی امور بھی بن جاتے ہیں ـ چناچہ میں نے ایچولی کے وعظ میں کہا تھا اس وعظ کا نام محاسن الاسلام ہے کہ گائے کا گوشت کھانا مت چھوڑو جب تک اسکو کھاتے رہو گے کوئی تم کو شد ہی کرنے کی ہوس نہ کرے گا چناچہ اسی کے قریب ایک گاؤں والوں کو شد ہی ہونے پر رضا مند کر لیا گیا تھا وہ لوگ وعظ میں بھی آئے تھے اور وعظ کے بعد آنے والوں کو گائے کے گوشت کا پلاؤ کھلایا گیا ـ پس اسی روز دونوں جانب سے شدہی سے مایوس ہوگئ اور اسی لئے تو کہا کرتو ہوں کہ ہندستان میں گاؤ کشی شعائر اسلام سے ہے ـ اس قصد سے اس کا گوشت کھانا موجب اجر ہے ـ
