ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہاں پر خاموش بیٹھا رہنا طالبین کو بے حد مفید ہوا ہے جو لوگ چندے خاموش بیٹھ کر واپس جاتے ہیں ـ وطن پہنچ کر اس کا نفع لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس وقت تو یہ معمول تلخ معلوم ہوتا تھا مگر اس قدر نفع طویل مجاہدات سے بھی شاید نہ ہوتا جو دس دن کےاندر خاموش بیٹھنے سے ہوا ـ بد فہم لوگ اس کو ٹالنا سمجھتے ہیں ـ حالانکہ یہ بھی مجاہدہ کی ایک قسم ہے اور قسم بھی وہ جو سلف سے خلف تک معمول یہ ہے کیونکہ مجاہدہ کی چار قسمیں ہیں ـ قلت الطعام ، قلت الکلام ، قلت المنام ، قلت الاختلاط مع الانام ان میں سے محققین نے اس وقت لے لوگوں کی قوت اور صحت کو دیکھتے ہوئے دو کو حذف کر دیا ہے ـ قلت الطعام اور قلت المنام اور دو کو باقی رکھا ہے ـ قلت الکلام اور قلت الاختلاط مع الانام سو کم بولنا نہایت مفید چیز ہے ـ زیادہ بولنا اور بلا ضرورت بولنا نہایت مضر چیز ہے ـ اس سے قلب میں ظلمت پیدا ہوتی ہے ـ اور نورانیت فنا ہوتی ہے چناچہ بلا ضرورت اگر کوئی کسی سے اتنا بھی چوچھ لے کہ کہاں جاؤ گے اس سے بھی قلب میں ظلمت پیدا ہو جاتی ہے اور قلب مردہ ہو جاتا ہے اور اگر کسی کو حس ہی نہ ہو تو اس کا کیا علاج ہے اور ضرورت میں اگر شب و روز کلام کرے مثلا ایک شخص ہے کنجڑ وہ بیوی کی وجہ سے تجارت کرتا ہے اور سر پر کربوزوں کا ٹوکرا لئے دن بھر آواز لگاتا ہے کہ لے لو تو خربوزے اس سے ایک ذرہ برابر بھی قلب پر ظلمت نہ ہوگی ـ غرض فضول گوئی اس طریق میں سم قاتل ہے اس سے قلب برباد ہو جاتا ہے ـ باقی فضول کو ضروری پر قیاس کرنا مع الفارق ہے ـ مثلا شیخ اپنے کو قیاس کرنے لگے کیونکہ اسکا بولنا بضرورت ہے ـ پس یہ قیاس ایسا ہوگا جس کو فرماتے ہیں ـ
کار پا کان را قیاس از خود مگیر گرچہ مانند در نوشتن شیر و شیر
( مرشد کے کاموں کو اپنے کاموں پر قیاس مت کرو ( کہ جو کچھ شیخ کرے وہی تم بھی کرنے لگو ـ
کیونکہ اگرچہ دونوں فعل یکساں ہیں مگر باطنی طور پر بہت فرق ہے تا ہے دیکھو شیر ( یعنی جانور ) اور شیر ( یعنی دودھ ) دونوں لفظ ایک ہی طرح لکھے جاتے ہیں مگر دونوں میں جو فرق ہے وہ ظاہر ہے ) باقی فضول و ضروری کے امتیاز کے لئے خود الجھن میں پڑنے کی ضرورت نہیں ـ اپنے کو جس کے سپرد کیا ہے وہ جو تعلیم کرے اس پر عمل کرتا رہے ـ کیونکہ اس کو وہی سمجھتا ہے کہ ہر چیز کا موقع محل ہے ؟ چناچہ سکوت بھی مطلقا فضیلت کی چیز نہیں ـ بعض نطق سکوت سے افضل ہے بلکہ سکوت کی فضیلت تو بولنے ہی کی بدولت معلوم ہوئی ہے ـ جیسے خلوت کی فضیلت بدولت جلوت ہی کے معلوم ہوئی ـ غرض یہ ہے کہ موقع ہے ہر چیز کا کہیں سکوت مناسب ہے ـ کہیں بولنا مناسب ہے ـ کبھی خلوت کی ضرورت ہے ـ کبھی جلوت کی ضرورت ہے ـ اس اختلاف موقع کی ایک مثال ذکر کرتا ہوں ـ یہ مثالیں مقصود کی توضیح کے لئے ہوتی ہے ـ ایک بہو کی حکایت ہے نئی نئی شادی ہو کر سسرال میں آئی مگر بولتی نہ تھی ـ ساس نے کہا کہ بہو تو بولتی کیوں نہیں کہنے لگی کہ میری ماں نے مجھے منع کر دیا تھا کہ ساس کے گھر بولنا مت ـ ساس نے کہا کہ ماں تیری بیقوف ہے ـ ضرور بولا کر بہو نے کہا کہ تو پھر کچھ بولوں ساس نے کہا کہ ضرور بول ـ اب بہو بولتی ہیں تو دیکھو کیا نور برساتی ہیں ـ کہتی ہے کہ اماں ایک بات تم سے پوچھتی ہوں وہ یہ کہ اگر تمھارے لڑکے کا انتقال ہو جاوے اور میں بیوہ ہو جاؤں تو میری کہیں اور شادی کر دوگی یا یونہی بٹھلائے رکھو گی ـ ساس نے کہا کہ بہو بس تو خاموش ہی رہا کر تیری ماں کا منع کرنا ہی صحیح رہا ہے ـ امام ابو یوسف املا لکھوایا کرتے تھے طلباء میں سے ایک شخص بالکل نہ بولتا تھا ـ آپ نے فرمایا کہ میاں تم کبھی نہیں بولتے کچھ پوچھتے پاچھتے نہیں ـ عرض کیا کہ اب پوچھا کروں گا ـ ایک مجلس میں امام صاحب نے مسئلہ فرمایا کہ آفتاب کے غروب ہونے پر روزہ افطار کر لیا جاوے تو وہ شخص کہتا ہے کہ میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں فرمایا پوچھو کہتا ہے کہ اگر روز آفتاب غروب نہ تو کیا کرے ـ امام صاحب نے فرمایا کہ بس بھائی تمھارا نہ بولنا ہی مناسب ہے ـ حاصل یہ کہ موقع و محل ہوتا ہے ہر چیز کا جس کو مربی مناسب سمجھے گا اس کی تعلیم کرے گا ـ
