ایک عجیب شعر انیست کہ خوں خوردہ د دل بردہ بسے را ٭ بسم اللہ اگر تاب نظر ہست کسے را( یہی ہے جس نے کسی کا ( یعنی میرا ) خون پی لیا ہے اور دل اڑا لیا ہے اگر کسی کو تاب نظارہ ہے تو ذرا اس کی طرف دیکھ کر دیکھو ـ ( اس کا گویا ترجمہ مومن خاں مرحوم نے بھی خوب کیا ہے کہتے ہیں اے ںاصحو! آ ہی گیا وہ فتنہ ایام ـ لو ہم کو تو کہتے تھے بھلا اب تم ہی دل کو تھام لو ) ـ میں اس شعر کو فذلک الذی لمتننی فیہ کی تفسیر میں پڑھا کرتا ہوں ـ
