مفلوظ 496: ایک بنگالی طالب علم کی تھانہ بھون رہنے کی خواہش

ایک بنگالی طالب علم کی تھانہ بھون رہنے کی خواہش مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک طالب علم بنگالی میرے ساتھ ہے وہ یہ کہتا ہے کہ تھانہ بھون میں آ کر معلوم ہوا کہ تھانہ بھون ہی میں اسلام ہے اور یہ کہتا ہے کہ میرا جی چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تھانہ بھون آ کر رہوں فرمایا اس کی ضرورت نہیں کہ تھانہ بھون میں آ کر رہا جائے بلکہ زیادہ فضیلت یہ ہے کہ دارالحرب میں رہے اور مسلمان رہے عرض کیا کہ میرا تو اسکی اس بات سے بڑا جی خوش ہوا یہ اس کی سمجھ کی بات ہے کہ اس نے محسوس کیا ورنہ حضرت اکثر بنگالی جو اس طرف آ کر مدارس میں پڑھتے ہیں یہ لوگ وطن واپس جا کر وہاں کا رنگ دیکھ کر اپنے مصالح اور اغراض کی بناء پر ان ہی جیسا برتاؤ شروع کر دیتے ہیں ان کے علم سے لوگوں کو کوئی نفع نہیں ہوتا فرمایا کہ اس کا مطلب خاص یہ ہے وہ یہ کہ جس قدر علوم ظاہری کے حاصل کرنے میں وقت صرف کرتے ہیں اس کا دسواں حصہ بھی اگر اپنی اصلاح باطن اور تربیت میں صرف کریں تو کار آمد ہوں بدوں تربیت اور اصلاح کے کچھ نہیں ہو سکتا –