ایک صاحب کی حضرتؒ سے کتابوں کی فرمائش فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے اس میں میرے نام کتابوں کی فرمائش لکھی ہے ایسے بیہودہ لوگ ہیں اور جواب کے لیے کارڈ بھی نہیں یہ سمجھے ہونگے کہ جب کتابیں منگا رہا ہوں تو جوابی کارڈ کی کیا ضرورت ہے بندہ خدا نے یہ خیال نہیں کیا کہ کیا انہوں نے میرے نام کا کوئی اشتہار دیکھا تھا کہ جو میرے نام کتابوں کی فرمائش بھیجی کچھ نہیں نہ کوئی اصول ہے نہ کوئی قائدہ جو جی میں آتا ہے کرتے ہیں مجھ کو اس کا بھی قلق ہے کہ یہ تین پیسے ان کے فضول ہی خراب گئے ـ
