( ملفوظ 140 ) ایک صاحب کی عدم مناسبت کی بناء پر خدمت کرنے سے انکار

خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں صاحب میرے توسط سے معافی کی درخواست کرتے ہیں ۔ کل حضرت والا نے ان کی غلطی پر مواخذہ فرماتے ہوئے فرمایا تھا کہ اب براہ راست مکاتبت مخاطبت نہ ہو کسی کے واسطہ سے کہنا جو کچھ کہنا ہو ، فرمایا کہ دل و جان سے معاف کرتا ہوں ، انہوں نے میرا کوئی ضرر نہیں کیا لیکن تعلق رکھنا نہیں چاہتا اس لیے یہ موقوف ہے مناسبت پر اور اس حرکت سے معلوم ہو گیا کہ ان میں مجھ میں مناسبت نہیں ، لہذا خدمت سے معافی چاہتا ہوں ۔ ان صاحب نے عرض کیا کہ میں اپنی غلطی سمجھ چکا ہوں اور اچھی طرح محسوس کر چکا ہوں ۔ فرمایا کہ مجھ کو کیسے اطمینان ہو کہ جو شخص ایک ہفتہ تک اپنی غلطی محسوس نہ کر سکا وہ ایک دن میں کیسے محسوس کر سکتا ہے ۔ عرض کیا کہ مجھ میں بے فکری کا مرض ہے اب میں اپنی بے فکری کا علاج کروں گا ، فرمایا کہ کیوں خود بھی گڑبڑ میں پڑتے ہو اور کیوں دوسروں کو بھی پریشان کرتے ہو اجی دو طریق ہیں ایک بے خطر اور ایک خطرناک تو بے خطر طریق کو چھوڑ کر خطرناک کو اختیار کرنا اس کی ضرورت ہی کیا ہے وہ بے خطر یہ ہے کہ اصلاح کا تعلق مجھ سے رکھا ہی نہ جائے ایسے دوستانہ تعلق جیسا اور مسلمانوں سے ہے مجھ سے بھی رکھیں ۔ خدا نخواستہ مجھ کو کوئی عداوت تھوڑا ہی ہے ہاں بوجہ عدم مناسبت خدمت سے معذور ہوں ، جب عدم مناسبت کی بناء پر کوئی نفع نہ ہوا تو کیا نام کرنا ہے کہ ہمارا تعلق بھی فلاں شخص سے ہے ۔ یہ باتیں تو دکاندار پیروں کے یہاں ہوتی ہیں کہ ان کو ضرورت ہے فوج جمع کرنے کی مجھ کو تو ایسی باتوں سے نفرت ہے اگر تم چاہو گے تو کسی اور مصلح کا نام بتلا دوں گا ۔ عرض کیا کہ میں تو حضرت ہی سے تعلق رکھنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا کہ مان نہ مان میں تیرا مہمان یہ وہی قصہ ہے کہ ایک شخص سے اس کے دوست نے پوچھا کہ آج کل کیا شغل ہے ، کہنے لگا کہ شہزادی سے نکاح کا انتظام کر رہا ہوں ۔ اس نے پوچھا کہ کیا کچھ سامان ہو گیا ، کہنے لگا کہ آدھا سامان ہو گیا ، آدھا باقی ہے اس نے پوچھا آدھا کیسے کہنے لگا کہ میں تو راضی ہوں وہ راضی نہیں ، عرض کیا کہ حضرت ہی مشورہ فرما دیں کہ مجھ کو اپنی اصلاح کا طریقہ کیا اختیار کرنا چاہیے اور مناسبت کس طرح پیدا ہو ، فرمایا کہ جس طرح آپ نے اپنی اصلاح کی فکر کی ہے اور سوچا ہے اسی طرح اس کے طریقہ کو بھی سوچئے اور یہ تو بالکل ہی خلاف اصول ہے کہ مجھ سے ہی مناسبت پیدا کرنا چاہتے ہو اور مجھ سے ہی اس کا طریقہ پوچھتے ہو ، اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ایک شخص ایک عورت سے محبت کرنا چاہتا ہے اور اسی سے اس کا طریقہ پوچھتا ہے وہ کہے گی کہ کسی اور سے پوچھ اس کا خود بتانا بالکل غیرت کے خلاف ہے تو کیا یہ بھی میں ہی بتاؤں یہ کسی اور سے پوچھئے اور حضرت محبت و عقیدت میں بے فکری کہاں جس کا آپ نے ابھی اقرار کیا ہے اہل محبت کی تو حالت ہی دوسری ہوتی ہے ۔ جس کو سعدی فرماتے ہیں ۔
دمادم شراب الم درکشند وگرتلخ بینند دم درکشند
اور جو لوگ محبت سے خالی یا غافل ہیں ان کی نسبت کہا گیا ہے :
اے ترا خارے بپا نشکستہ کے دانی کہ چیست حال شیرا نے کہ شمشیر بلا برسر خورند
اہل محبت پر تو ہر وقت آرے اور بھالے چلتے ہیں ایک لمحہ اور ایک سیکنڈ بھی ان کو چین نصیب نہیں بلکہ اس کی یہ حالت ہوتی ہے :
جس کا دل دلبر میں ہو کب اس کو بس آتی ہے نیند کروٹیں ہی لیتے صاف اڑ جاتی ہے نیند
اور اس کی یہ حالت ہوتی ہے :
کشتگان خنجر تسلیم را ہر زماں از غیب جانے دیگر است