ملفوظ 173: ایک صاحب کی ایک روپیہ میں خلافت لینے کی خواہش

 

 

 ایک صاحب کی ایک روپیہ میں خلافت لینے کی خواہش فرمایا ! کہ ایک صاحب کا بڑے مزے کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ ایک روپیہ نذرانہ کیلئے منی آرڈر کرونگا آپ چاروں سلسلوں کی اجازت دیکر بندہ کو بہرا مند فرمائیں ـ فرمایا کہ یہ ایک روپیہ میں خلافت لینا چاہتے ہیں ـ لفافہ پر پتہ ملاحظہ فرما کر فرمایا کہ آپ ماسٹر ہائی سکول بھی ہیں ـ مزاحا فرمایا کہ ہائے اسکول تو نے تباہ کر دیا ـ ان لوگوں کو اب بتلایئے اس بد فہمی اور کم عقلی کی کچھ حد ہے ـ ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمسخرہ کی راہ سے لکھ رہا ہے فرمایا یہ بات نہیں اصل بات یہ ہے کہ روپیہ لیکر لوگ خلافتیں دیتے ہیں ـ میں نے اس قسم کے اکثر واقعات سنے ہیں یہ سب بے خبری کی باتیں ہیں یہ قدر ہے طریق کی ان لوگوں کی نظروں میں اور یہ وقعت ہے ان چیزوں کی ان لوگوں کے دلوں میں ـ میں اگر اس پر مطالبات کرتا ہوں اور اس طریق کی حقیقت کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں تو مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے کہ مزاج میں تشدد ہے سختی ہے ـ مجھ سے تو بے غیرتی نہیں اختیار کی جاتی ـ میں اگر ایسے کوڑ مغزوں کے ساتھ نرمی برتوں تو اس کا اثر مجھ ہی تک محدود نہیں رہے گا اس کا اثر طریق پر پڑیگا تو علاوہ بے غیرتی کے دین کے بھی خلاف ہو گا ـ کیونکہ طریق بدنام ہوتا ہے ایسے موقع میں سیاست کرنے پر جو شخص مجھ پر اعتراض کرتا ہے میں اس معترض ہی سے دریافت کرتا ہوں کہ ایسے شخص کے ساتھ کیا برتاؤ کیا جائے جس نے ایک روپیہ میں خلافت چاروں سلسلوں کی اجازت طلب کی ہے ـ حضرت دور بیٹھے رائے قائم کر لینا بہت آسان ہے ذرا یہاں پر رہ کر واقعات کو دیکھیں تب حقیقت معلوم ہو ـ