ملفوظ 216: ایک صاحب سے قیام تھانہ بھون کی وجہ کی دریافت

ملفوظ 216: ایک صاحب سے قیام تھانہ بھون کی وجہ کی دریافت خواجہ صاحب نے عرض کیا کہ حضرت فلاں مقام سے جو صاحب آئے ہوئے ہیں میرے واسطے سے حضرت کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں فرمایا کہ صبح انہوں نے بہت دق کیا جو بات پوچھی گئی ایک کا بھی سیدھا جواب نہ ملا ـ ان سے پوچھئے چاہتے کیا ہیں ـ عرض کیا کہ رہنا چاہتے ہیں فرمایا کہ رہیں میرا کیا حرج ہے مگر رہنا بھی تو کسی نفع کیلئے ہی ہوگا ـ یہ بتلا دیں وہ کیا نفع ہے مجھے بھی تو اطمینان ہو کہ ایک شخص اتنی دور سے بال بچوں کو چھوڑ کر روپیہ اور وقت صرف کر کے آیا ہے اس کا مقصود ہے کیا ـ کیا مجھ کو اتنا بھی حق نہیں کہ میں یہاں پر ان کے قیام کی وجہ معلوم کر لوں ـ ان صاحب نے عرض کیا کہ دین کا نفع مقصود ہے فرمایا یہی تو پوچھ رہا ہوں کہ دین کا کیا نفع سوچا ہے ـ عرض کیا کہ صحبت میں خاموش بیٹھے رہنا اور نیک باتیں سننا فرمایا کہ اگر میں باتیں نہ کروں تو پھر کیا ہو گا ـ عرض کیا میں خاموش بیٹھے رہنے کو بھی دین کا نفع سمجھتا ہوں ـ فرمایا کہ اتنا دق کر کے یہ ذرا سی بات بتلائی اچھا رہیے ! اگر صبح ہی اتنی بات بتلا دیتے تو کون سا قاضی گلہ کرتا کچھ نہیں ـ رسمیں ہی خراب ہو گئیں اور اس کا سبب بے فکری اور غفلت ہے اس کا بالکل اہتمام ہی نہیں کہ ہم سے کسی کو اذیت نہ پہنچے سخت تکلیف پہنچاتے ہیں اور پیروں کو تو یوں سمجھتے ہیں کہ یہ تو بے حس ہوتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ بت ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فانی فی اللہ ہیں انہیں کیا خبر کچھ ہوا کرے کیا لغو خیالات ہیں ـ