ملفوظ 205: ایک صاحب کا سلیقہ کا خط

ایک صاحب کا سلیقہ کا خط فرمایا ! کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ احکام شریعت میں کچھ جانتا ہوں اور جس قدر جانتا ہوں حتی الامکان اس پر عمل بھی کرتا ہوں مگر وہ چیز نہیں جانتا جو بزرگوں سے ملا کرتی ہے وہ چیز حضرت سے پوچھنا چاہتا ہوں اور اس کے حصول کا طریقہ ، فرمایا کہ یہ اگر اپنی ہی ہانکتے رہتے تو چکر ہی رہتے اب صاف لکھا اور سلیقہ سے لکھا میں اب انشاءاللہ راہ بتلاؤں گا ـ لوگ مجھ کو وہمی کہتے ہیں اگر اس طرح پر کھو و کرید نہ کروں تو مجھ کو کس طرح اطمینان ہو کہ جس چیز کو یہ حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے ذہن میں اس کی حقیقت ہے کیا ؟ میں تو اس طرح کام لیتا ہوں جیسے بچے کی مثال کہ اس سے ہر ہر حرف الگ الگ پوچھا جاتا ہے اس ہی سے ہجے نکلوائے جاتے ہیں میں بھی اسی طرح طالب کو سبق پڑھاتا ہوں اور مطالبہ کراتا ہوں جب وہ خود عاجز ہو جاتا ہے ـ اور تمیز کے ساتھ اپنا عجز ظاہر کر کے پوچھتا ہے تب بتلاتا ہوں ـ قاعدہ سے سب کام ہو جاتے ہیں بے قاعدہ کوئی کام نہیں ہو سکتا یہ ہیں وہ چیزیں جن پر مجھ کو بدنام کیا جا رہا ہے ـ خیر کریں بدنام ـ اصول صحیحہ کو نہیں چھوڑا جا سکتا میرا تو اس میں کوئی نقصان نہیں بلکہ نفع ہے کہ بد فہموں سے نجات ملی ـ