ایک طالب علم کی کسی نالائقی پر آج صبح حضرت والا نے اس کو مدرسہ سے نکل جانے کو فرمایا تھا ۔ اب بعد نماز ظہر حافظ اعجاز صاحب سے دریافت فرمایا کہ وہ نالائق دور ہو گیا یا نہیں ؟ معلوم ہوا کہ یہیں پر ہے اور معافی کا خواستگار ہے فرمایا کہ معافی تو ایسی ہو گی کہ وہ بھی یاد رکھے گاجھوٹ بولتا ہے پھر جھوٹ پر جھوٹ اس کی نالائقیوں کا ذکر فرماتے ہوئے فرمایا : حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمۃاللہ علیہ طالب علموں کو مارتے وقت بڑی ظرافت سے کام لیتے تھے ، فرمایا کرتے تھے کہ اس عصا میں یہ خاصیت ہے کہ اس سے مردے زندہ ہوتے ہیں ۔ مارنے کے وقت طالب علم کہتے کہ حضرت ہم مر گئے ، حضرت فرماتے مارنے ہی کے لیے تو مار رہا ہوں ۔ حضرت اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے واسطے معاف کر دیجئے ، فرماتے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہی نے تو حکم دیا ہے کہ ایسے نالائقوں کی خبر لو ۔ پھر فرمایا کہ اب جب سے معافی چاہنے کے الفاظ کان میں پڑے ہی جوش تو جاتا رہا ۔ ہاں رنج ہے اور اس کا بھی رنج ہے کہ میں نے اسے کیوں مارا ، فرمایا بات یہ ہے کہ ایسوں کو پڑھانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں اگرچہ یہ مقتداء ہو گئے تو آئندہ اور خرابی کا اندیشہ ہے ، دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔ ایک اور ایسا ہی نالائق تھا اس کی بھی حرکات ایسی ہی تھیں اس کو بھی مدرسہ سے نکلوایا تھا ، خدا معلوم یہ گاؤں کے رہنے والے جہاں کچھ دو چار حرف پڑھے اپنے کو کیا سمجھنے لگتے ہیں جیسے ایک گاؤں والے نے کہا تھا کہ میاں جی میرے لونڈے کو ڈھیر ( زیادہ ) نہ پڑھا دیجئے کبھی لوٹ پوٹ پیگمبر ( پیغمبر ) نہ ہو جائے مزاحا فرمایا کہ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نالائق کو ( ایک کاذب مدعی نبوت کا نام لیا ) میاں جی نے ڈھیر پڑھا دیا ( زیادہ پڑھا دیا ) کہ لوٹ پوٹ پیگمبر ( پیغمبر ) ہو گیا ۔ ایک گاؤں والے سے کسی نے پوچھا تھا کہ تیرا لڑکا انگریزی کس قدر پرھا ہے ، کہا یہ تو خبر نہیں مگر کھڑا ہو کر موتنے لگا ہے ( کوئی نصاب خاص ہو گا کہ کہ وہاں پہنچ کر کھڑا ہو کر موتنے لگتا ہے ) اب تم معلوم کر لو کتنا پڑھا ۔
