ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ پہلے جو بدعتی ہوتے تھے اللہ اللہ کرنے والے ہوتے تھے اللہ کے نام کی برکت سے ان کو علماء سے نفرت نہ تھی اور آج کل کے بدعتی تو بکثرت فاسق و فاجر تک ہونے لگے ہیں ۔ بعض تو ایسے بددین ہیں کہ ذکر و شغل تو کیا نماز تک بھی نہیں پڑھتے حالانکہ حضرات مشائخ رحمہم اللہ کی یہ حالت نہ تھی چنانچہ حضرت شیخ ردولوی رحمۃ اللہ علیہ نے تیس برس تک جامع مسجد میں نماز پڑھی مگر راستہ نہ معلوم ہوا ۔ مطلب یہ کہ یاد نہ رہتا تھا کہ ایک خادم آگے آگے حق حق کہتا چلتا تھا تب آپ مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کرتے تھے ، یہ تھے اللہ والے کہ استغراق کی یہ حالت مگر نماز باجماعت مسجد ہی میں پڑھتے رہے ۔
