( ملفوظ 333 ) اکیلے بہنوئی کے ساتھ جانا جائز نہیں

ایک صاحب نے عرض کیا کہ فلاں بی بی بیعت کے لیے یہاں پر آنا چاہتی ہے اگر اجازت ہو تو دریافت فرمایا کہ ہمراہ کون آئے گا ، عرض کیا کہ میں ہمراہ آؤں گا ، وہ شخص اس بی بی کا بہنوئی تھا ، فرمایا کہ اکیلی عورت کا بہنوئی کے ساتھ آنا شریعت میں جائز نہیں اور کوئی عورت بھی ہمراہ آئے گی ۔ عرض کیا کہ میری والدہ آ جائیں گی ، فرمایا کہ یہ ٹھیک ہے اب کہی کام کی بات ، اب آنے کی اجازت ہے ۔ ان سے کہہ دینا کہ فلاں دن دس بجے دن کے قریب آؤ ، کھانا کھا کر آؤ اور اگر اس وقت کسی وجہ سے بیعت نہ کر سکوں تو شب کو ٹھہرو مگر اپنا انتظام ٹھہرنے کا خود کرنا ہو گا ، شب کا کھانا ساتھ لانا ہو گا ، ان شرائط کے ساتھ آ سکتی ہو یہ سب باتیں تفصیل سے کہہ دینا اگر زبانی یاد نہ رہیں تو ایک پرچہ پر بطور یاداشت لکھ لو اگر اس کے خلاف ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے میں ذمہ دار نہ ہوں گا ۔ صاف بات ہے اسی سلسلہ میں فرمایا کہ آج کل پیروں نے اصول چھوڑ دیئے وصول پر پڑ گئے اس لیے نفع دینی کا حصول نہیں ہوتا ۔