( ملفوظ 348 )اخلاق کی درستی درشتی پر موقوف ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اخلاق کی درستی درشتی پر موقوف ہے مصلح بدون تھوڑی سی سختی کے دوسرے کی اصلاح نہیں کر سکتا ۔ مامون رشید کے پاس قاضی یحیی بن اکثم امام بخاری کے شیخ قیام فرمائے ہوئے تھے ، شب کو کسی ضرورت سے مامون رشید نے پکارا یا غلام یا غلام یا غلام اول تو غلام بولا نہیں اور جب بولا تو بہت ہی بگڑا کہ غلاموں کو زہر دے دو ، تلوار سے سر قلم کر دو ، دن بھر تو راحت ملتی نہیں شب کی بھی چین نہ رہی یا غلام یا غلام یہی ہر وقت رہتا ہے ۔ باوجود اس قدر گستاخی کے مامون رشید غلام پر برہم نہیں ہوا ۔ قاضی صاحب نے کہا کہ یہ بہت گستاخ ہو گئے ہیں ان کی اصلاح ہونا چاہیے ۔ مامون رشید نے کہا کہ پہلے میں اپنے اخلاق خراب کروں جب ان کے اخلاق درست ہوں اور ان کی اصلاح ہو سو میری جوتی کو کیا غرض پڑی کہ میں ان کی وجہ سے اپنے اخلاق خراب کروں اور بدون مواخذہ و مطالبہ و محاسبہ اصلاح ہو نہیں سکتی پھر فرمایا میرے یہاں اصلاح کے لیے مواخذہ تو ہے مگر بحمد اللہ عین مواخذہ کے وقت بھی تحقیر کسی کی قلب میں نہیں ہوتی ہاں مجھ سے ہر ایک کی بنتی بھی نہیں اور یہ عدم توافق کسی نقص ہی کی بناء پر نہیں ہوتا بلکہ عدم مناسبت اس کا اصل سبب ہے ۔ دیکھئے حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ عدم مناسبت ہی کی بناء پر تھا جس پر ” ھذا فراق بینی و بینک ” کہا گیا ورنہ موسی علیہ السلام میں کس قسم کا شبہ ہو سکتا ہے ۔ ( نعوذباللہ ) ایسے ہی یہاں پر ہے کہ میں کسی نقص ہی کی بناء پر فراقی جواب نہیں دیتا بلکہ عدم مناسبت ہی اکثر سبب ہوتا ہے ۔