ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ایک مرتبہ وقارالملک کے بلانے پر علی گڑھ کالج میں جانا ہوا ، وہاں مجھ کو ایک سائنس کے کمرہ کی بھی سیر کرائی گئی اس میں بجلی بھی دکھلائی گئی اس کے بعد جمع کی نماز پڑھ کر میرا بیان ہوا ، میں نے اس میں ایک پر یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ آپ کو اس پر شبہ ہو کہ جو برق کی حقیقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث شریف میں بیان کی ہے وہ اس برق پر صادق نہیں آتی ۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے کہ برق کی دو قسمیں ہیں ایک برق سماوی اور ایک برق ارضی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے جس برق کی حقیقت بیان فرمائی ہے وہ سماوی ہے اور یہ قسم برق کی ارضی ہے ۔ اسی طرح اور بھی بعض چیزوں کو میں نے بیان کیا ۔ سامعین حیرت سے منہ تکتے تھے ، آنکھیں کھل گئیں اور اس تقریر کا بے حد اثر ہوا ، پھر کبھی جانے کا اتفاق نہیں ہوا کیونکہ پھر بلایا نہیں گیا ۔ وجہ یہ ہوئی کہ نئی روشنی کے بعض اخباروں نے یہ لکھا کہ اگر ایک دو مرتبہ یہ شخص کالج میں اور آ گیا تو سرسید کے کعبہ کو ویر بنا دے گا ۔ یہ حقیقت ہے ان کی تحقیقات کی اور فہم کی ۔
