ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اولیاء اللہ کی کتابیں ضرور مطالعہ میں رکھنا چاہیے ۔ اس سے بڑا نفع ہوتا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر جو نفع کی چیز ہے وہ کسی زندہ کی صحبت ہے اس میں وہ اثر ہے جس کو فرماتے ہیں :
گلے خوشبوئے در حمام روزے رسید از دست محبوبے بدستم
بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری کہ از بوئے دل آویز تو مستم
بگفتگا من گلے ناچیز بودم ولیکن مدتے باگل نشتم
جمال ہم نشین درمن اثر کرد وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم
