ملفوظ 71 : اپنے بزرگوں کی جوتیوں کا صدقہ

فرمایا ! جب کوئی کام اچھا ہو جاتا ہے بحمداللہ کبھی میرے قلب میں وسوسہ تک نہیں آتا کہ یہ میں نے کیا بلکہ اس وقت اپنے بزرگ یاد آتے ہیں اور یہ خیال ہوتا ہے کہ یہ سب انہیں حضرات کی جوتیوں کا صدقہ ہے اور یہ شعر پڑھا کرتا ہوں ایں ہمہ مستی ومدہوشی نہ حد بادہ بود٭باحریفاں انچہ کرد آں نرگس مستانہ کرد (ایسی مستی اور مدہوشی شراب کا اثر نہیں تھی ، مستوں پر جو اثر کیا ہے (ساقی کی ) اس چشم مستانہ نے کیا ہے )بات یہ ہے کہ مجھ کو دعائیں بہت ملی ہیں اور ہر قسم کے بزرگوں کی دعائیں ملی ہیں یہ سب اس کے ثمرات ہیں ان میں بعضے وہ بھی تھے جو بدعتی کہلاتے تھے مگر تھے اللہ اللہ کرنے والے ان کی بھی دعائیں لی ہیں ـ وہ بدعتی بزرگ بھی ایسے نہ تھے جیسے اب ہیں ان میں تدین تھا اب تو فسق وفجور میں مبتلا ہیں ـ یکم رمضان المبارک 1350ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ