ایک صاحب نے کوئی مسئلہ پیش کر کے عرض کیا کہ فلاں صاحب نے یہ دریافت کیا
ہے ان کی حالت کے مناسب فرمایا کہ خود آپ کو جو ضرورت ہو اس کو معلوم کیجئے دوسروں کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہئے بڑی ضرورت اس کی ہے کہ ہر شخص اپنی فکر میں لگے اور اپنے اعمال
کی احلاح کرے آج کل یہ مرض عام ہو گیا ہے عوام میں بھی اور خواص میں بھی کہ دوسروں کی تو
اصلاح کی فکر ہے اپنی خبر نہیں ـ میرے ماموں صاحب فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا دوسروں کی جوتیوں
حفاظت کی بدولت کہیں اپنی گٹھڑی نہ اٹھوا دینا ـ واقعی بڑے کام کی بات فرمائی ـ
