( ملفوظ 224 ) عقل و فہم کی کمی کا کوئی علاج نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج صبح کا قصہ ہے ایک صاحب نے بوقت رخصت تمام اہل مجلس سے فردا فردا مصافحہ کیا اور سب سے دعا کے لیے کہا جس سے بہت دیر تک جب تک یہ شغل ختم نہ ہوا سب مشوش رہے ۔ بتلائیے رسمیں ایسی جم گئیں کہ باوجود سعی اور کوشش کر ہلائی نہیں ہلتیں ۔ واقعی بات وہی ہے جو میں کہا کرتا ہوں کہ جو جی میں آیا کر لیا ، سوچتے ہی نہیں اگر سوچ اور فکر ہو تو عقل پیدا ہو مگر سوچنے کے لیے بھی سوچ کی ضرورت ہے کہ یہ سوچنے کا موقع ہے یا نہیں ۔ میں نے ایک شخص کو اس بناء پر کہ ہر کام بر بات اس کی بے فکری سے ہوا کرتی تھیں یہ تدبیر بتلا دی تھی کہ ہر کام یا بات کرنے سے قبل سوچ لیا کرو کہ یہ کرنے یا کہنے کی ہے یا نہیں ، اس پر ان کا عمل شروع ہو گیا ۔ ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ آپ سفر میں جا رہے تھے ریل کا سفر تھا بیوی ریل میں سوار ہو گئی ۔ اسباب ریل میں رکھا گیا آپ کا جی چاہا کہ ایک پیسے کے چنے خریدیں ریل سے اتر کر چنے خریدنے لگے اب اس نصیحت کے موافق کھڑے سوچ رہے ہیں کہ خریدوں یا نہیں ، وہاں ریل چھوٹنے کے لیے سیٹی دے رہی ہے مگر آپ کا مراقبہ ہی ختم نہ ہوا حتی کہ ریل چل دی ، اب اس کا کس کے پاس علاج ہے کہ ہر نصیحت میں دور دور کی قیدیں لگایا کرے ۔ بات یہ ہے کہ جب تک گھر کی عقل نہ ہو مشکل ہے مطلق ٹھیلنے سے کیا کام چلتا ہے آخر کہاں تک کوئی ٹھیلے گا ۔ اسی واسطے ایسے بد فہموں و کم عقلوں کو میں کہہ دیتا ہوں کہ مجھ کو تم سے اور تم کو مجھ سے مناسبت نہ ہو گی ۔ لہذا کسی دوسرے مصلح سے اپنی اصلاح کراؤ اگر چاہو گے تو پتہ میں بتلا دوں گا اور تعلیمی اصول تو غلط نہیں مگر استعمال کا موقع تو معلوم کرنے کے لیے عقل کی ضرورت ہے ۔ چنانچہ اس واقعہ میں سوچنے کی صورت یہ تھی کہ خرید کر ریل میں جا بیٹھتے اور وہاں سوچتے کہ نفس کو کھانے دوں یا نہ دوں اگر دینا مناسب ہوتا کھا لیتے نہ مناسب سمجھتے کسی حاجت مند کو دے دیتے ۔ دوسرے یہ مراقبہ تو تم ہی تک محدود تھا بیوی کو دے دیتے وہ بیچاری کھا لیتی ۔ حاصل یہ ہے کہ سلیقہ کی بھی ضرورت ہے جن لوگوں میں خداداد سلیقہ ہوتا ہے اور فکر سے بھی کام لیتے ہیں غلطیوں کا صدور ان سے بھی ہوتا ہے مگر امید اصلاح کی ہوتی ہے نیز غلطیوں کا صدور ہونا بھی کم ہے کما بھی کیفا بھی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر صاحب معاملہ کو معلوم ہو جائے کہ اس شخص میں فکر ہے سوچ ہے تو پھر اس کو رنج بھی نہیں ہوتا بشریت سے معذور سمجھتا ہے درگزر کرتا ہے باقی جب یہ معلوم ہوا کہ یہ شخص قوت فکریہ سے کام نہیں لیتا تو بے شک رنج ہوتا ہے لیکن آج کل تو فکر ہی نہیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں کہ بزرگوں کے صحبت یافتہ پرانے نمٹے ہوئے اور خود بھی مقتداء مگر نہایت آزاد ، بے فکر جو زبان پر آیا کہہ دیا جو جی میں آیا کر لیا ۔ افسوس بعض کفار کو تو ایسی چیزوں کا اہتمام ہے اور بعض مسلمانوں کو اہتمام نہیں ، کافروں کی مدح کرنا تو نہ چاہیے اور میرا مقصود بھی مدح نہیں تھا ، غیرت دلاتا ہوں مسلمانوں کو بعض کافروں کی تو سلیقہ میں یہاں تک حالت پہنچی ہوئی ہے کہ ایک مرتبہ شاہ ایران ولایت گئے شاہی خاندان میں دعوت ہوئی ، بعد کھانا کھا لینے کے نہایت خوش نما پیالوں میں صابن گھلا ہوا ہاتھ صاف کرنے کے لیے جدا جدا سب کے سامنے لایا گیا ، شاہ ایران سمجھے کہ کوئی پینے کی چیز ہے صابن کی پیالی پی گئے ۔ اب یہ بات سوچنے کی ہے کہ سب اہل مجلس نے وہ پیالیاں پی لیں ، کیا ٹھکانا ہے اس رعایت کا اور ذرا کسی کے بشرے وغیرہ سے تمسخر آمیز ہنسی ظاہر نہیں ہوئی ۔