( ملفوظ 38 ) اصل وجد تو علوم پر آنا چاہئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صوفیوں کو قوالی اور ڈھولک سارنگی پر بڑا وجد ہوتا ہے جو مطلق نفسانی ہے در حقیقت وجد کے قابل تو یہ صورت ہے ) جس وقت علوم مبارکہ کا بیان ہوتا ہے اور تحقیق ہوتی ہے اس وقت ایک عجیب لطف اور کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور جب علم میں یہ لطف ہے تو عمل میں کیا کچھ ہوگا اور پھر حال میں کیا ہوگا اور پھر مقام میں کیا ہوگا ـ