( ملفوظ 349)بے تکفی اور بے ادبی میں حفظ حدود

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تکلف تو کسی کے ساتھ بھی نہ ہونا چاہئے باقی بڑوں کے ساتھ گو تعظیم نہ ہو مگر ادب ضرور ہونا چاہئے ایسا بے تکلف ہوجانا جو مساوات کا رنگ پیدا کرے یہ بے تکلفی نہیں بلکہ یہ گستاخی ہے اور اتنا بے تکلف ہو جانا جو بے ادبی کے درجہ میں پہنچ جائے کبر سے ناشی ہے اور حالا دوسروں پر یہ ظاہر کرنا ہے مجھکو اسقدر قرب حاصل ہے جو دوسروں کو نہیں اسلئے اسکا منشاء کبر ہے ـ

( ملفوظ 348)امراء کی طرف رغبت ٹھیک نہیں گو نیت صحیح ہو ـ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل درویشوں کی دو قسمیں ہیں ایک محق ایک مبطل پھر محق کی دو قسمیں ہیں ایک محقق ایک غیر محقق باستثناء محققین کے کہتا ہوں کہ آج محقق بھی اسکی کوشش کرتے ہیں کہ امراء سے تعلق ہو باوجودیکہ وہ ال حق ہیں دکاندار نہیں مگر پھر بھی اسکی کوشش کرتے ہیں کہ امراء سے تعلق ہو گو انکی نیت بری نہیں مگر پھر بھی اس مذاق کا ضروری زیادہ ہے اس لئے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللہ علیہ اس سے بہت سختی کے ساتھ نفرت رکھتے تھے لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان لوگوں سے تعلق رکھنے میں گو حب دنیا بھی نہ ہو تب بھی بڑا مفسدہ ہے جسکا بکثرت مشاہدہ ہو رہا ہے اور کہ ایسی بات ہے کہ بجز اہل بصیرت کے اسکو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا ایک صاحب کے سوال پر کہ اگر کسی جائز مصلحت کے لئے تعلق رکھا جاوے تو کیا حرج ہے فرمایا کہ ہر جائز چیز سے بھی تو طبائع سلیمہ کو رغبت نہیں ہوتی مثلا اوجھڑی کا کھانا جائز ہے مگر لطیف المزاج کو اس سے طبعی نفرت ہے اکثر مدرسہ والے بھی ان ہی خیالات میں مبتلا ہیں گو ان کے مقاصد اور نیت بری نہیں مگر اسکا انجام دیکھ کر مجھکو تو طبعی نفرت ہے اس طریقہ کار سے ـ

( ملفوظ 347)چشتیہ کے یہاں فنا اول قدم ہے

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت ایک شخص مجھے کہتے تھے کہ حضرات علما دیوبند درویش ہیں مگر اپنے کو چھپاتے ہیں فرمایا کہ یہ تو درویش کے لوازم سے ہے ایسے سمجھنا لغو نہیں خصوص چشتیہ کے یہاں تو شہرت کی سخت ممانعت ہے وہ اس کو حجاب سمجھتے ہیں چشتیہ میں فنا کا بہت زیادہ غلبہ ہے اپنے کو مٹائے ہوئے ہیں وہ نہ کشف کو کمال سمجھتے ہیں نہ کرامت کو نہ الہام کو انکے یہاں فنا ہو جانا مٹ جانا اول قدم ہے بس انکی تو یہ حالت ہے ـ
عشق آں شعلہ است کو چوں بر فروخت ہچہ جز معشوق باقی جملہ سوخت
تیغ لا در قتل غیر حق براند در نگر آخر کہ بعد لاچہ ماند
ماند الا اللہ باقی جملہ رفت مرحبا اے عشق شرکت سوزتفت

( ملفوظ 346)تعویذات کے سلسلہ میں حضرت کا واقعہ

ایک شخص نے آ کر تعویذ مانگا فلاں چیز کے لئے تعویذ کی ضرورت ہے حضرت والا نے اور کام چھوڑ کر تعویذ لکھنا شروع کیا اور فرمایا کہ چونکہ اس نے پوری بات کہی میں نے سب کام چھوڑ کر اس کا تعویذ لکھدیا میرے یہاں تو اگر کوئی اصول سے کام لے ایک منٹ کی بھی دیر نہیں ہوتی فورا کام ہو جاتا ہے ایک صاحب نے عرض کیا کہ اگر ہر قسم کے تعویذ پہلے سے لکھ کر رکھ لئے جائیں تو بڑی سہولت ہو فرمایا کہ یہ تو کبھی خیال نہیں آیا کہ لکھ کر تعویذ رکھ لئے جائیں مگر سہولت کی ایک صورت اس سے بھی زیادہ تجویز کی تھی کہ جو شخص تعورذ لینے آئے اسکو بسم اللہ لکھ کر دیدیا کرونگا نہ لوگ سوال و جواب کی گڑبڑ میں پڑیں گے نہ میں الجھونگا اسکے بعد ایک روز دو شخص آئے میں نے بدون ان سے دریافت کئے بسم اللہ لکھ کر تعویذ دیدو یا وہ لے کر چلے گئے میں اس تجویز پر بہت خوش تھا کہ یہ اچھا طریقہ ہاتھ آیا مجمع میں اس کو بیان کرنے لگا ایک صاحب نے مجھے کہا کہ کچھ خبر بھی ہے کہ کیا نتیجہ ہو اور آپس میں یہ کہتے جارہے تھے کہ ہم نے کچھ کہا بھی نہیں اور ان کو دلکی خبر ہوگئی میں نے کہا کہ یہ تو اس سے بھی بڑا مفسدہ آخر اس تجویز کو چھوڑ دیا لوگ بھی بڑے ہی حضرات ہیں ان کا کہاں تک کوئی انتظام کرے ـ

( ملفوظ 345)سلف کا زہدنی الدنیا کا حال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگان سلف کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ گویا اس دنیا میں رہتے ہی نہیں تھے کسی اور ہی عالم میں رہتے تھے انکی بات چیت بھی اور رنگ کی کھانا پینا بھی اور ہی رنگ کا ہر بات ہر کام میں رنگ ہی اور تھا اور ساری عمر اسی میں ختم کر گئے کیا ٹھکانا ہے ان حضرات کے تعلق مع اللہ کا اور کسی کام کے رہے ہی نہ تھے ـ
23 محرم الحرام 1351 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم دو شنبہ

( ملفوظ 344)اہل اللہ کی عقل کامل ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کرتا ہوں کہ اگر کسی دنیا بھی حاصل کرنا ہو تو وہ اللہ والوں کی صحبت حاصل کرے کیونکہ ان کی عقل نورانی ہوتی ہے قلب صاف ہوتا ہے حقائق منکشف ہوتے ہیں گو تجربہ نہیں ہوتا مگر جن چیزوں میں عقل کی ضرورت ہے ان میں ان حضرات کو کامل دسترس ہوتی ہے ـ

( ملفوظ 343)مدارس میں ضروری علوم کا اضافہ :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ قرآن شریف کے ترجمہ کے ساتھ توریت انجیل بھی پڑہایا کرتے تھے مولانا شاہ محمد اسحاق صاحب کے زمانہ میں اسکے ثمرہ کا ظہور ہوا واقعہ یہ ہے کہ ایک پادری آیا بعض اہل بدعت کے بہکانے سے اس نے حضرت شاہ اسحاق صاحب کا نام لے کر مناظرہ کا اعلان کیا بہکانے کی وجہ یہ تھی کہ شاہ صاحب سے عداوت تھی جانتے تھے کہ شاہ صاحب کو اس سے کیا مناسبت ـ ہار جائیں گے ذلت ہوگی نفسانیت بھی کیا بری چیز ہے یہ نہ سمجھا کہ اگر ایسا ہوا تو نعوذ باللہ اسلام کی ذلت ہے شاگردوں نے یہ دیکھ کر کہ مولانا کو کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا یہ عرض کیا کہ حضرت ہمکو مناظرہ کی اجازت دیجاوے فرمایا کہ وہ میرا نام لے کر اعلان کرے اور میں خاموش بیٹھا رہوں مجھکو غیرت آتی ہے اب شاگردوں میں بڑی کھلبلی پڑی مگر یہ کون کہہ سکتا تھا کہ آپ کوعسائیوں کے مناظرہ سے مناسبت نہیں کیونکہ ایسے مناظروں میں عادۃ الزامی جوابوں کی ضرورت ہوتی ہے قلعہ میں مناظرہ ٹھرایا عذر کے زمانہ سے قبل کا واقعہ ہے حضرت شاہ صاحب مناظرہ کے لئے تشریف لے گئے مناظرہ ہوا حضرت شاہ صاحب نے توریت و انجیل کے حوالہ سے جواب دینا شروع کئے پادری کو شکست ہوئی لوگوں کو بڑا تعجب ہوا لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت آپکو ان جوابوں کی کیا خبر فرمایا کہ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا معمول تھا کہ قرآن شریف کے ترجمہ کیساتھ توریت اور انجیل بھی پڑھایا کرتے تھے یہ قصہ بیان کر کے فرمایا کہ ضرورت کی بنا پر میری رائے ہے کہ مدارس میں تین چیزوں کی تعلیم کا اور اضافہ کر دیا جائے ایک ریلوے قانون کا دوسرے ڈاکخانہ کے قواعد کا تیسری فوجداری کی دفعات کا تاکہ جرم کی حقیقت سے واقف ہو جائیں بعض مرتبہ جرم کی حقیقت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے جرم کا ارتکاب ہو جاتا ہے ـ

( ملفوظ 342)بزرگوں کا مالی معاملات میں دخل نہ دینا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں رحمتہ اللہ علیہ کی حکایت سنی ہے کہ ایک شخص نے بہت بڑی رقم آپ کے سامنے پیش کی آپ نے فرمایا مجھ کو اس وقت حاجت نہیں عرض کیا کہ حضرت کسی مصرف خیر میں صرف فرما دیجئے فرمایا کہ میں کوئی تمہارا نوکر ہوں جو تقسیم کرتا پھروں خود صرف کر دو یہاں سے تقسیم کرنا شروع کرو گھر تک نہ پہنچو گے کہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گی حضرت مولانا قاسم صاحب کو بریلی میں ایک صاحب نے پانچ چھ ہزار روپیہ یا اس سے زائد دینا چاہا ـ حضرت نے انکار فرمادیا اس نے بھی وہی بات کہی کہ کسی مناسب مصرف میں صرف کر دیجئے آپ نے فرمایا مجھ میں اسکی بھی لیاقت نہیں اس نے عرض کیا آپ کیا فرماتے ہیں آپ نے فرمایا میں دلیل سے کہتا ہوں وہ دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی کے یہاں بخل نہیں اگر مجھ میں لیاقت ہوتی تو مجھ کو دیتے جب تم کو دیا تو تم ہی اسکے اہل ہو خود ہی صرف کرو عرض کیا کہ پھر کوئی مصرف ہی بتلا دیجئے حضرت کو مدارس دینیہ کیساتھ خاص شغف تھا فرمایا کہ اس رقم سے کوئی مدرسہ دینیہ جاری کر دو وہاں ضرورت بھی تھی کوئی ایسا مدرسہ نہ تھا پھر اس واقعہ پر بطور تفریح کے یہ بھی فرمایا کہ حضرت مولویوں کو مالیات میں پڑنا نہ چاہئے اور یہ مال ایسی چیز ہے کہ اسمیں بہت جلد بدنامی ہوجاتی ہے اور بدنام کرنے والے حقیقت پربھی مطلع ہونیکی کوشش نہیں کرتے بد اعتقاد ہوجاتے ہیں دہلی میں ایک متمول صاحب تھے جو میرے صرف اس وجہ سے معتقد ہوئے تھے ایک شخص نے مجھکو دو یا تین روپیہ دینے چاہے میں نے نہیں لئے انکار کر دیا اس لچر بنا پر تو معتقد ہو گئے پھر اعتقاد بھی ایسی ہی لچر بات پر ہو گئے انہوں نے ایک دنیاوی معاملہ میں مجھے سفارش چاہی میں نے نامناسب ہونے کے سبب انکار کر دیا بس اس پر غیر معتقد ہو گئی ان لوگوں کے نہ اعتقاد کا بھروسہ اور نہ بد اعتقاد کا ـ

( ملفوظ 341) حضرت حاجی صاحب اور تقریر کا اعادہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے جہاں کسی نے کسی تقریر کے اعادہ کی درخواست کی تو یہ فرماتے کہ بھائی یہاں کوئی مدرسہ نہیں ہے قیل و قال کے لئے اور کبھی یہ فرمادیتے کہ حاضرین مجلس میں سے فلاں شخص سمجھ گیا اس سے سمجھ لینا ـ

( ملفوظ 340) حضرت حاجی صاحب سے سماع سننے کی درخواست

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ روم میں ایک مولویہ سلسلہ ہے یہ لوگ اہل سماع ہیں یہ لوگ مولانا رومی کے خاندان سے ہیں اور سماع آلات کے ساتھ سنتے ہیں اس میں نے بجاتے ہیں ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے نے سنانے کی درخواست کی حضرت کو نہ سننا منظور تھا نہ اسکی دل شکنی فرمایا کہ میں ان فن کو جانتا نہیں تو نا اہل کے سامنے پیش کرنا فن کی نا قدری کرنا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر ہمارے فلاں مولوی صاحب ہوتے تو وہ قدر کرتے حضرت کے اس ارشاد کو بعض نے تو ان مولوی صاحب پر اعتراض سمجھا اور بعض نے یہ سمجھا کہ ان مولوی صاحب کو سماع کی اجازت ہے ـ