( ملفوظ 339) تحریکات کا دینی نقصان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان تحریکات میں یہانکے لوگ تو اپنا دشمن ہی ہیں مگر بعض عیسائی بھی اپنا دشمن سمجھتے ہیں چناچہ کوہ منصوری پر عیسائیوں کا ایک وفد تبلیغ کے لئے امریکہ سے آیا تھا اس میں ایک پادری تھا میرے ایک عزیز سے اس کی ملاقات ہو گئی اس نے میرے متعلق پوچھا کہ ان تحریکات میں اس کا کیا خیال ہے انہوں نے کہا کہ وہ ان تحریکات کے خلاف ہے یہ سنکر اس پادری نے کہا کہ یہ شخص عسائیت کا سخت دشمن معلوم ہوتا ہے ان عزیز نے کہا کہ یہ تحریکات خود عسائیت کے خلاف ہیں تو اگر وہ اسمیں شریک ہوتے تب تو عسائیت کی دشمنی کے کیا معنی کہا کہ تم اس بات کو نہیں سمجھتے اس وقت ہندستان میں دو مذہب ہیں ایک ہندو اور ایک مسلمان اور دونوں میں بوجہ اختلاف مذہب کے تصادم ہے اسوجہ سے اپنے اپنے مذہب ہر سختی سے جمے ہوئے ہیں مگر ان تحریکات میں دونوں بہت سے کام اپنے مذہب کے خلاف کر رہے ہیں جس سے ان پر لا مذہبی کا غلبہ ہو جائے گا اور لا مذہبی کے بعد عسائیت کی قابلیت قریب ہو جاتی ہے تو تحریکات کے خلاف کرنا عسائیت سے روکنا ہے یہ راز ہے جس کو یہ شخص سمجھا ہے اور تحریکات کا مخالف ہے اس لئے ہم کہتا ہے کہ یہ شخص عسائیت کا سخت دشمن ہے پھر فرمایا کہ آج کل کی عسائیت کا پہلا زینہ لا مذہبیت ہے عیسائی ہوتے ہی وہ ہیں جو مذہب ہیں اور ان تحریکات میں مسلمانوں نے تو بلا وجہ ہی سر کٹائے نہ ہندو ہی راضی ہوئے نہ انگریز ان کو تو صرف ایک ذات راضی کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ راضی ہو جائیں تو پھر کسی کی نا راضگی سے کچھ نہیں اور وہ حق تعالی کی ذات ہے اور اب تو مسلمان اسکے مصداق ہو گئے جیسا کہ ایک صاحب سرگرم تحریفات نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے ـ
اس نقش پا کے سجدہ نے کیا کیا کیا ذلیل
ہم کو چہ رقیب میں بھی سر کے بل گئے

( ملفوظ 338) بعض متعلقین کا اختلاف اور حضرت کا طرز عمل

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تحریک خلافت کے زمانہ میں میں نے فلاں صاحب سے جو یہاں خانقاہ میں مقیم تھے کہا تھا کہ تم یہاں پر رہے ـ پلے بڑھے سب کچھ ہو مگر میں پھر بھی تمہاری رائے میں مزاحمت نہ کروں گا ـ مگر تم کو بھی یہاں رہ کر اختلاف کرنا مناسب نہیں تو اس حالت میں یہاں پر تمہارا رہنا بھی مناسب نہیں ـ ایک جگہ سے دو مختلف جواب ملنا اس میں بڑا مفسدہ ہے باقی اگر تم اپنی رائے پر عمل کرو اور طریقہ کے ساتھ کرو تو مجھ کو بحمدللہ ایسے اختلاف سے کبھی گرانی نہیں ہوتی ـ گرانی ہوتی ہے خلاف سے اور یہ بھی صرف ان کے خلاف سے جو محبت کا دعوی کرتے ہیں ـ تعلق کو ظاہر کرتے ہیں ـ ورنہ اوروں کی طرف سے خلاف کرنا بھی گراں نہیں ـ فلاں خاح صاحب نے مجھ کو ہمیشہ گالیاں دیں ـ کافر کہا ذرہ برابر بھی مجھ پر اثر نہیں ہوا ـ اس لئے ک وہ مخالف تھے ـ شکایت دوستوں سے ہوا کرتی ہے ـ دشمنوں سے کیا شکایت ـ ایک دوسرے صاحب کا واقعہ ہے کہ انہوں نے یہاں کا رد لکھا اور لوح پر بلا ضرورت خانقاہ امدادیہ کا نام بھی لکھ دیا ـ پھر بھی معافی چاہی میں نے ان سے بھی یہی کہا کہ عمل تو اسی پر کرو جو تمہاری رائے ہے اور جب تم معافی چاہتے ہو تو اس کا اعلان کر دو کہ رائے تو میری وہی ہے جو لکھ چکا ہوں مگر میں نے جو لوح پر یہ لکھا ہے کہ یہ خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون کا جواب ہے ـ کہ اسے لکھنے کی ضرورت نہ تھی جواب تو بدون اس کے بھی ہو جاتا لوگ خود سمجھ لیتے کہ فلاں فتوے کا رد ہے ـ بس اس طرح کا اعلان کر دو مگر وہ اس اعلان پر آمادہ نہ ہوئے میرا بھی دل منقبض رہا ـ میرا خاصہ ہے کہ اگر کوئی اصول صحیحۃ پر رہے تو مجھ کو محبت بدرجہ عشق ہوتی ہے اور اگر اصول کے خلاف ہوتو اس سے قلب پھر جاتا ہے ـ مگر اب دس برس کے بعد اعلان کیا میں صاف ہو گیا کیونکہ مجھ کو تو دیکھنا تھا ورنہ اعلان نہ کرنے سے میرا کوئی ضرر نہ تھا ـ اور اب اعلان کر دیا میرا کوئی نفع نہیں ہو گیا ـ نفع اور ضرر سب انہیں کا تھا ـ اور یہ ہی میں فلاں مولوی صاحب سے چاہتا ہوں جو دارالعلوم دیوبند کو بندنام کر چکے ہیں اور اب معافی چاہتے ہیں ـ ان سے بھی اس لئے انقباض ہوا کہ وہ مجھ سے ایک زمانہ میں تعلق رکھ چکے ہیں اور مجھ سے تربیت کی خدمت لے چکے ہیں گو ممکن ہے کہ ان کو ضرورت نہ ہو مگر خدمت لی تو یہی ـ ان چیزوں کا طبعی اثر ہوتا ہے پھر اس میں تو میرا معاملہ بھی نہیں ـ مدرسہ کا معاملہ ہے ـ وہ ایک چیز ہے جس سے مخلوق کو نفع ہو رہا ہے ممکن ہے اس میں کچھ کوتاہیاں ہوں اور اصلاح کی ضرورت ہو ـ اصلاح کرو نہ کہ انہدام کرنے لگو مدرسوں کو بدنام کرنے کا جو طرز اختیار کیا گیا تھا اس کے تدارک کے لئے اس اعلان کی ضرورت ہے کہ ہم نے جو طرز اختیار کیا تھا وہ غلط تھا گو مطالبات ہمارے اب بھی وہی ہیں اور مشورہ یہ ہے لیکن اگر ہماری رائے قبول نہ کی جاوے ہم پھر بھی مدرسہ کے خادم ہیں ـ بتلائے اس میں کیا ضرر ہے تو سب کی مصالح کی رعایت رکھتا ہوں ـ مگر بے اصول کام مجھ سے نہیں ہو سکتے ـ معافی بھی بے اصول نہیں ہو سکتی ـ چاہے کسی کو گوارا ہو یا نا گوار ـ کوئ راضی رہے یا نا راض اور کسی کی ناراضگی سے ہوتا کیا ہے ؟ حق تعالی راضی رہیں اور کسی کی کچھ پروا نہیں کرنا چاہئے ـ ایک اور صاحب کا واقعہ ہے جن کو محبت اور تعلق کا دعوی تھا مگر انہوں نے ایک تحریر لکھی اس میں میرے متعلق طعن آمیز کلمات لکھے تھے ـ وہ یہاں پر مہمان ہوئے ہیں ـ میں نے بحمدللہ ان کے حقوق مہمان کے ادا کرنے میں ذرا کوتاہی نہیں کی مگر جو شکایت ان سے بھی وہ اب بھی ہے اور جب تک اس کا تدارک نہ ہوگا رہے گی ـ باقی مجھے تدارک کا نہ انتظار ہے نہ استدعا ہے اسلئے کہ یہاں تکثیر سواد کی ضرورت ہی نہیں ـ یہی تو میرا گنوارا پن ہے ـ جس کی وجہ سے بکثرت لوگ مجھ سے ناراض ہیں ـ اسی اخیر کے واقعہ میں انہوں نے تو اپنی اس نکال لی مگر مجھ کو وہ نا راضی ادائے حقوق سے مانع نہیں ہوئی ـ ہاں انبساط نہیں ہوا اور ان پر ظاہر بھی کر دیا کہ میں ناراض تھا اور اور ہوں اور رہوں گا ـ مجھ کو رنج تھا اور ہے اور رہے گا ـ مجھ کو آپ سے شکایت تھی اور ہے اور رہیگی اس کو بھی صاف کہہ دیا یہ اس معاملہ کا حق تھا اس کو بھی نہیں چھپایا ـ

( ملفوظ 337) محبت کے حقوق

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل محبت اور تعلق کا دعوی تو سب کرتے ہیں مگر امتحان کے وقت کورے نکلتے ہیں ـ محبت کے حقوق میں تو یہاں تک لکھا ہے کہ اگر دوست دوست سے اپنی ضرورت میں روپیہ طلب کرے اور دوست یہ پوچھے کہ کتنا تو وہ دوستی کے قابل نہیں ـ بلکہ جو کچھ پاس ہو سب پیش کردے ـ پھر وہ خواہ کل لے لے یا جزء لے لے ـ ایک شخص کی حکایت ایک کتاب میں مذکور ہے کہ ان کے ایک دوست نے مکان کے دروازہ پر آکر آواز دی ـ یہ شخص مکان سے کچھ توقف کے بعد باہر اس طرح آیا کہ ایک غلام کے سر پر روپیہ کی تھیلیاں ہیں اور خود اس شخص کی کمر سے تلوار بندھی ہے اور ساتھ ایک عورت نہایت حسین زیور سے آراستہ ہے ـ دوست نے دریافت کیا کہ یہ کیا قصہ ہے ـ کہا کہ مجھ کو یہ خیال ہوا کہ دوست آیا ہے نہ معلوم کیا ضرورت ہے اگر کسی دشمن کا مقابلہ ہے تو میں حاضر ہوں اسی لئے تلوار ساتھ لایا ہوں اگر روپیہ کی ضرورت ہے تو یہ تھیلی موجود ہے ـ اگر خادم کی ضرورت ہے تو یہ غلام حاضر ہے اگر انس کے لئے عورت کی ضرورت ہے تو یہ کنیز موجود ہے ـ یہ ہے دوستی ـ محبت پر ایک اور قصہ یاد آ گیا ـ حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ ایک رئیس کے یہاں مہمان ہوئے ـ وہ رئیس نہایت منتظم تھے ـ وہ کھانوں کی ایک فہرست مرتب کر کے غلام کے دو دیتے تھے کہ یہ کھانے تیار ہوں گے ایک دن امام صاحب نے غلام سے فہرست لے کر اس میں ایک کھانے کا اضافہ کر دیا ـ جب دسترخوان پر کھانا آیا تو رئیس نے دیکھا کہ فہرست میں جو کھانے لکھے تھے اس سے زاید دسترخوان پر ایک کھانا موجود ہے اس کا سبب غلام سے دریافت کیا غلام نے عرض کیا کہ امام صاحب نے کھانے کا اضافہ کر دیا تھا جب دسترخوان پر کھانا آیا تو رئیس نے دیکھا کہ فہرست میں جو کھانا لکھے تھے اس سے زائد دسترخوان پر ایک کھانا موجود ہے اس کا سبب غلام سے دریافت کی عرض کیا کہ امام صاحب نے کھانے کا اضافہ فرما دیا تھا اس رئیس پر مسرت کا ایسا حال طاری ہوا کہ اس غلام کو آزاد کردیا ـ محض اس بناء پر کہ مہمان کی فرمائش پر اس نے عمل کیا ـ

( ملفوظ 336) کشف صحیح کے بھی حجت نہ ہونے پر ایک عملی تمثیل

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض کشف ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس میں بالکل احتمال غلطی کا نہیں ہوتا ـ مگر پھر بھی شرعا حجت نہ ہوگا اور اس کو مستبعد نہ سمجھا جاوے کہ جب اس میں غلطی کا احتمال نہیں ـ پھر حجت نہ ہونے کی کیا وجہ ـ اس کی بالکل ایسی مثال ہے کہ ایک شخص رمضان 29 تاریخ کو عید کا چاند دیکھتا ہے اور دیکھنا ظاہر ہے کہ حسی طور پر ہے جس میں کوئی اشتباہ نہیں پھر اس پر یہ بھی واجب ہوگا کہ قاضی سے جا کر ظاہر کرے کیونکہ ممکن ہے کہ اور بھی کوئی شہادت ہو گو اپنے علم میں یہ واحد مگر نہ سمجھے کہ واحد کی شہادت مقبول نہ ہوگی ـ تو شہادت سے کیا فائدہ کیونکہ اگر سب دیکھنے والے اپنے کو واحد سمجھ کر شہادت سے تقاعد کریں تو رویت کیسے ثابت ہو ـ غرضیکہ اس نے جا کر قاضی سے کہا مگر اتفاق سے اور کوئی شہادت نہ تھی ـ اس لئے قاضی نے کہہ دیا کہ حجت نہیں تو اس صورت میں باوجود اس کے کہ اس نے خود دیکھا اور بلا اشتباہ دیکھا مگر پھر بھی خود اس کے لئے بھی حجت نہیں ـ چناچہ یہ بھی روزہ وجوبا رکھے گا ( یعنی اس کو بھی بوجہ عید کا چاند خود دیکھ لینے کے بعد افطار کرنا جائز نہیں بلکہ روزہ ہی رکھنا واجب ہے ـ کیونکہ شہادت شرعی سے چاند ثابت نہیں ہوا ) ایسے ہی اگر کسی کو کشف ہو اور بالکل بلا تلبیس مگر پھر بھی عدم تلبیس مستلزم نہیں ـ حجت کو شیخ اکبر بعض کشوف میں تلبیس کی نفی فرماتے ہیں مگر غلطی سے یہ مشہور ہو گیا کہ وہ کشف بلا تلبیس کو حجت سمجھتے ہیں ان کے قول میں یہ کہیں تصریح نہیں کہ بعض حجت ہے ـ پس مذہب منصور سب کے نزدیک یہ ہی ہے کہ کشف حجت نہیں ـ

( ملفوظ 335)مربی کی تعلیمات اھل خصوصیت کیلئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آنے والے اپنی کوتاہیوں کو نہیں دیکھتے میرے مواخزہ پر نظر کرتے ہیں ـ اور واقعہ کا یہ خلاصہ نکالتے ہیں کہ ذرا سی بات پر خفا ہوگئے ـ یا ہم نے خدمت کی تھی ـ بگڑ گئے ـ کچھ معلوم بھی ہے کہ بدون گرفت اور سختی کے کج فہموں کی اصلاح غیر ممکن ہے ـ دیکھئے جب مربا بنانا ہوتا ہے پہلے اس کو تکلے سے کوچتے ہیں تب اسمیں شیرینی پہنچتی ہے ـ نیز اس کو آگ پر بھی ابالتے ہیں ـ اسی طرح مربی کے فعل کا حاصل یہ ہوگا کہ وہ مربا بنائے ـ سو یہاں پر جب مربا بننے آتے ہیں تو یہ امور ضرور ہوتے ہیں ـ غرض شیخ تربیت کے لئے جس کیلئے جو مناسب سمجھتا ہے تعلیم کرتا ہے ـ برتاؤ کرتا ہے ـ نرمی ہو یا سختی ہو مگر یہ معاملہ اسی کے ساتھ کیا جاتا ہے ـ جو اپنے کو سپر کرتا ہے اور محبت کا مدعی بن کر آتا ہے ـ اس لئے کہ حقوق کی بھی قسمیں ہیں ـ ایک حقوق تو عامہ مسلمانوں کے ہیں ـ اور ایک حقوق اس سے آگے ہے ـ جس کا منشا تعلق ہے ـ خصوصیت کا اس کے اور قواعد ہیں ـ حضرت موسی علیہ السلام حضرت خضر علیہ السلام کے پاس تشریف لے گئے ـ حضرت خضر علیہ السلام نے قوانین بتائے ـ ساتھ رہنے کے دیکھئے حضرت موسی علیہ السلام کی کس درجہ کی ہستی مگر خضر علیہ اسلام سے ایک خاص کام لینا چاہتے تھے ـ اس لئے انہوں نے اس اتنفاع کے شرائط بیان کئے اور خصوصیت کے لئے شرائط تو ہوتے ہی ہیں ـ اگر موسی علیہ السلام ان شرائط کو قبول نہ فرماتے تو خضر علیہ السلام ساتھ رکھنے سے یقینا عذر فرمادیتے اس کے بعد جب شرائط میں اختلال ہوا صاف کہہ دیا ھذا فراق بینی وبینک حالانکہ حضرت موسی علیہ السلام کا کوئی فعل معصیت نہ تھا ـ پس خضر علیہ السلام کا عذر کا یہ حاصل تھا کہ ہماری تمہاری موافقت نہ ہوگی ـ اور یہ تفریق ایسی تھی کہ بدون کسی وجہ کے بھی جائز تھی اس لئے افتراق کے لئے معصیت شرط نہیں ـ

( ملفوظ 334)اس طریق میں فنا و انقیاد ہے

ایک صاحب کی تحریر غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ اس طریق کا نفع چاہتے ہیں تو محو و فنا کا ثبوت دیجئے آپ تو زندگی کا ثبوت دے رہے ہیں سو اگر انقیاد نہیں ہے تو آنا بیکار اور اگر آنا چاہتے ہو تو انقیاد سے کام لو ـ

( ملفوظ 333) بزرگان اسلام کے یہاں اتباع سنت کا اہتمام

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگان سلف نے اتباع سنت کا بڑا اہتمام کیا ہے ـ حضرت عثمانی ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کی حکایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ چونکہ اس طرح خلال کر کے نماز
نہیں پڑھی ـ جو سنت کے معافق ہے ـ اس لئے بیس برس کی نماز لوٹائی ـ سنت کے موافق خلال کر کے حضرت شیخ عبدالحق صاحب روولوی باوجود اس کے کہ ان پر استغراق کا ایسا غلبہ تھا کہ تیس برس تک جامع مسجد میں نماز پڑھی مگر راستہ یاد نہیں ہوا ـ پھر بھی اتباع سنت کس قدر غالب تھا کہ فرماتے کہ بچہ منصور بچہ بود ک از یک قطرہ بفر یاد آمد ایں جا مردانند کہ دریا ہا فرو برندو آروغ نہ زنند ( منصور مبتدی تھا کہ ایک قطرہ پی کر فریاد کرنے لگا ـ یہاں مرد ہیں کہ دریا کے دریا پی جاویں اور ڈکار بھی نہ لیں ) دیکھئے اس غلبہ حال میں بھی خلاف سنت پر نکیر فرمایا پھر ایک غلبہ حال کی حکایت بیان فرمائی ک ان کو ان کے بھائی نے علم درسی پڑھانا چاہا ـ نحو شروع کرائی اس میں ایک مثال آئی ضرب زید عمرا پوچھا زید نے کیوں مارا انہوں کہا مارا وارا نہیں یوں ہی ایک مثال ہے کہا کہ مارا نہیں تو کذب ہے اگر مارا تو ظلم ہے ـ میں ایسی کتاب نہیں پڑھوں گا جس میں پہلے ہی سے تعلم کذب اور ظلم کی ہو ـ

( ملفوظ 332)تعویذ کے سلسلے میں کچھ حکایات

ایک شخص نے آکر تعویذ مانگا ـ فرمایا کہ اس باب میں لوگوں کو بہت غلو ہے ـ ہر کام تعویذ ہی سے لینا چاہتے ہیں ـ مگر یہی حالت رہی تو آئندہ اولاد بھی تو تعویذ ہی سے مانگنے لگیں گے ـ نکاح کی بھی ضرورت نہ رہے گی فرمایا کہ ہر چیز کے لئے تعویذ مانگنے پر یاد آیا کہ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کے پاس ایک بھنگڑا آیا کہ حضرت بھنگ نہیں بکتی ـ ایک تعویذ دیدیجئے آپ نے تعویذ لکھ کر دیدیا ـ خوب بھنگ بکنا شروع ہوگئی ـ طلبہ نے شبہ کیا کہ حضرت نے بھنگڑ کو بھی تعویذ دے دیا تو اعانت علی المعصیت ہے ـ آپ نے اس بھنگ فروش سے فرمایا کہ بھائی ذرا وہ تعویذ لے آنا تعویذ لے آیا ـ کھول کر طلبہ کو دکھلایا کہ اس میں لکھا تھا کہ اے اللہ جن لوگوں کی قسمت میں بھنگ پینا لکھا ہے ـ وہ تو بھنگ ضروری پئیں گے تو وہ اسکی ہی دکان سے پی لیا کریں ـ سب نے دیکھ لیا کیسا تعویذ ہے ـ بھلا ان حضرات ہر کیا اعتراض ہو سکتا ہے ـ خوب کہا ہے ـ
در نیا بد حال پختہ ہیچ خام پس سخن کو تاہ با ید والسلام
( کاملوں کے افعال کی حقیقت کو ناقص نہیں سمجھ سکتا ـ لہذا سکوت ہی کرنا چاہئے )
تعویذ کے سلسلہ میں بعض حکایات بھی بیان فرمائیں کہ حضرت سید صاحب بریلوی تعویذ میں یہ لکھ دیتے تھے ـ خداوند اگر منظور داری حاجتیں رابرآری حضرت میاں جی رحمتہ اللہ علیہ کی حکایت ہے کہ آپ سے ایک بیمار لڑکی پر دم کرنے کی درخواست کی گئی ـ آپ نے اس کے منہ میں تھوک دیا ـ اللہ تعالٰی نے شفاء بھی عطاء فرمادی ـ اس بی بی نے خود بیان کیا کہ اس روز سے میرا ذہن اور حافظہ اور فہم سب سے بڑھ گیا ـ پھر حضرت میاں جی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی برکات کے متعلق فرمایا کہ حضرت میاں جی رحمتہ اللہ علیہ کہتے تھے کہ ہماریل موت کے بعد دیکھنا ہماری روشنی کیسے پھیلتی ہے ـ پھر حضرت میاں جی صاحب کے اخلاق کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک مولوی صاحب تھے ـ کاندہلہ کے رہنے والے جن کی تصنیف تفسیر سورۃ یوسف منظوم ہے ـ یہ کوئی باقاعدہ مولوی تو نہ تھے مگر مشہور تھے ـ اور ایک زمانہ میں حضرت میاں جی رحمتہ اللہ علیہ کی شان میں گستاخیاں کیا کرتے تھے ـ پھر تنبیہ ہوا تو توبہ کی اور مرید ہوگئے ـ حضرت نے مرید کر لیا اور برابر آتے جاتے رہے ـ مگر ایک مدت کے بعد حضرت نے فرمایا کہ مولوی صاحب آپ اور کہیں رجوع کریں مجھ سے آپ کو نفع نہ ہوگا ـ میں ہر چند آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور نفع پہنچانا چاہتا ہوں ـ مگر آپ کی وہ گستاخیاں یاد آکر مانع ہو جاتی ہیں ـ وصول برکات سے ـ
22 محرم الحرام 1351 ھ مجلس خاص بوقت صبح یوم یکشنبہ

( ملفوظ 331)کھانے کے ذریعہ مناسبت کی پہچان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعض حضرات کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی مرید ہونے آتا اس کو کھانا بھیجتے ـ جب برتن واپس آتے دیکھتے اگر روٹی سالن تناسب سے بچا ہوتا تو اس سے معاملہ کی گفتگو فرماتے ورنہ شروع سے جواب دیدیتے کہ ہمارا تمہارا نباہ نہ ہوگا ـ تم میں انتظام کا مادہ نہیں ـ

( ملفوظ 330)اصلاح کرنے والا نشانہ ملا مت بنتا ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اختلافی مسائل میں متاخرین نے بڑا جھگڑا پھلا دیا ـ دین کو اچھا خاصہ میدان جنگ بنا دیا ـ اختلاف مذاہب کو اختلاف عمل بنا لیا ـ یہ ابن مسعود کا قول سنا گیا ہے گو بڑا عالم نہیں مگر سمجھدار آدمی ہے ـ یہ اختلاف تو علوم ظارہری میں ہو رہا ہے ـ باقی علم باطن میں اختلاف سے بڑھ کر خلاف کیا جاتا ہے ـ چونکہ اکثر اس سے بے خبر ہیں ـ اس لئے اہل خبر پر بکثرت اعتراض ہوتے ہیں ـ خصوص جو شخص اصلاح کا کام اپنے ذمہ لیتا ہے اس کو تو نشانہ ملامت بننے کیلئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے ـ کیونکہ ہر شخص اس کو برا بھلا کہتا ہے ـ بدنام کرتا ہے چناچہ ایک شخص نے اس کا اقرار بھی کیا تھا مجھ کو لکھا تھا کہ میں تم کو قانون باز بلکہ قانون ساز کہا کرتا تھا میں معافی چاہتا ہوں ـ توبہ کرتا ہوں ـ