ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بعض لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ گائے کا گوشت کھانے سے قساوت پیدا ہوتی ہے اور میں یہ کہتا ہوں کہ قساوت کا علاج ہی گائے کے گوشت کھانے میں ہے چناچہ مشاہد ہے کہ جو قومیں گائے کا گوشت نہیں کھاتیں وہ بے رحم ہیں اور جو کھاتے ہیں وہ رحم دل ہیں ـ
Author: حبیب اللہ
( ملفوظ 196)غیر مسلموں کو علم سے مناسبت
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ علوم میں ساری دنیا مسلمانوں کی محتاج ہے اور ہمیشہ سے رہی دوسری قوموں کا عدم مناسبت علمی کے سلسلہ میں ایک واقعہ بیان فرمایا کہ مولوی نورالحسن صاحب کاندھلوی کی ایک انگریز سے ملاقات ہوئی یہ ملاقات ایک سر شتہ دار نے اس انگریز کی تمناؤں کے بعد کرائی تھی اس انگریز نے سوال کیا گنگ مولوی صاحب نے سوال کو ملہمل سمجھ کر جواب میں بطور تمسخر کہہ دیا سنگ بس قافیہ ملا دیا جن صاحب نے مولوی صاحب کی انگریز سے ملاقات کرانے کی کوشش کی تھی ان سے مولوی صاحب نے کہا کہ یہ کیا واہیات آدمی ہے کیا لغو حرکت کی وہ کہنے لگے وہ انگریز مجھ سے کہتا تھا کہ مولوی صاحب بہت بڑے عالم ہے ہم نے پوچھا تھا کہ دریائے گنگ کہاں سے نکلا انہوں نے کہا کہ پہاڑوں سے بس یہ علوم ہیں دوسری قوموں کے اور خیر یہ تو محض مہمل بات تھی جو تحقیقات ان کے یہاں مایہ ناز ہیں وہ بھی اسلامی علوم کے سامنے محض لچر ہیں اس کا مشاہدہ ہے ـ
7 محرم الحرام 1351 ہجری مجلس خاص بوقت یوم شنبہ
( ملفوظ 197) ایک صاحب کے سکوت پر مواخزہ
ایک صاحب کی غلطی پر حضرت والا نے تنبیہ فرماتے ہوئے جواب طلب فرمایا کہ اس غلطی کا جواب دو وہ صاحب خاموش رہے اس پر فرمایا کہ جواب نہ دینا بھی بہت ہی ایزا رسانی کی بات ہے ایک خیر خواہ بصورت سوال دوسرے کو اس کے جہل سے نکالنا چاہتا ہے اور وہ اس میں جواب سے اس کی امداد نہیں کرتا ـ آدمی پوچھنے پر جواب دے جواب نہ دینے کا مرض بھی عام ہو گیا ہے ـ اس پر بھی وہ صاحب کچھ نہ بولے ـ خاموش رہے ـ حضرت والا نے فرمایا کہ ارے میاں جب تم نہ بولنے کی قسم کھا کر آئے تھے تو یہ بتلاؤ کہ دوسرا اصلاح کس طرح کرے ـ اپنا تو حساب لگا لیا کہ جاؤں گا یہ کہوں گا ، یہ ہوگا ، وہ ہوگا مگر دوسرے کی بات کا تو جواب دے دو تمہارے نزدیک دوسرے کا سوال لغو ہے بیکار ہے ـ عرض کیا کہ غلطی ہوئی فرمایا کہ بندہ خدا اتنا دق کر کے کہا پہلے سے یہی کہہ دیا ہوتا خدا معلوم لوگوں کا فہم کہاں گیا ـ یہاں پر جتنے آتے ہیں منتخب ہو کر ایسے ہی آتے ہیں ـ
( ملفوظ 195) صرف وعظ اور لیکچر کافی نہیں
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگ یہ جانتے ہیں کہ لیکچروں یا وعظوں سے مسلمانوں کی حالت سنبھال لیں فی نفسہ اچھی بات ہے مگر بدون عملی جامہ پہنائے نرے وعظوں اور لیکچروں سے کفایت نہیں ہو سکتی اس کی طرف کسی کو بھی التفات نہیں محض زبانی عملدرآمد ہے –
( ملفوظ 194)کسی مسلمان کے انتقال پر حالت خوف ہونا
فرمایا کہ ایک عجیب بات ہے بہت عرصہ تک میں اس کو سوچتا رہا کہ یہ کیا بات ہے وہ یہ کہ کسی بزرگ کے انتقال کو سنتا ہوں تو ان کے متعلق احتمال مواخزہ کا قلب پر استحضار ہوتا ہے اور اگر کسی گنہگار کے انتقال کو سنتا ہوں تو اس کی نسبت معاملہ رحمت کا قلب پر استحضار ہوتا ہے بڑے ہی سوچ میں تھا کہ یہ کیا قصہ ہے ایک روز سمجھ میں آیا کہ وہاں یعنی بزرگ کی نسبت رحمت کا استحضار تو پہلے ہی سے ہے دوسرے احتمال کا استحضار ہونا چاہئے تاکہ جمع بین الخوف والرجاء ہو اور یہاں یعنی گنہگار کی نسبت اعتدال مواخزہ کا استحضار پہلے ہی سے ہے احتمال رحمت کا استحضار ہونا چاہئے ـ
( ملفوظ 193) عنداللہ محبوب ہونے کا مراقبہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب بندہ نا فرمانی کرتا ہے تو آسمان کہتا ہے کہ میں اس پر گر جاؤں زمین کہتی ہے کہ میں اس کو نگل جاؤں فرشتے کہتے ہیں کہ ہم اس کو ہلاک کر دیں حق تعالٰی فرماتے ہیں کہ تم نے اس کو بنایا نہیں اس وجہ سے ایسا کہتے ہو میں نے بنایا ہے اس کی قدر میں جانتا ہوں کس قدر رحمت ہے اور اپنے بندوں سے کس قدر محبت ہے میں نے تو ایک مرتبہ اس سے استنباط کر کے دوستوں سے کہا بھی تھا کہ عنداللہ اپنے محبوب ہونے کا مراقبہ کیا کرو اس سے بڑا نفع ہوگا کیونکہ اس کی خاصیت ہے کہ اللہ تعالٰی کی محبت تمہارے دل میں پیدا ہو جائے گی پھر یہی مراقبہ میں نے ایک کتاب میں بھی دیکھا ایک بزرگ نے بھی یہی لکھا ہے اس وقت دیکھ کر بڑا جی خوش ہوا کہ جو چیز قلب میں آتی ہے الحمدللہ اس کی تائید بزرگوں سے بھی نکل آتی ہے میں اتنی قید اس مراقبہ میں اور لگایا کرتا ہوں کہ صاحب مراقبہ شریف طبیعت کا ہونا ورنہ برا اثر قبول کرے گا کہ عجب و دلال ( ناز ) اور تعطل پیدا ہو جائے گا ـ
( ملفوظ 192) حضرت شیخ الہند کی حالت گریہ
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ یہ حکایت معتبر ذریعہ سے معلوم ہوئی کہ حضرت مولانا دیوبندی رحمتہ اللہ علیہ جس وقت مالٹا میں تشریف فرما تھے ایک روز بیٹھے ہوئے رو رہے تھے ساتھیوں نے پوچھا کہ کیا حضرت گھبرائے ہیں یہ لوگ سمجھے کہ گھر بار یاد آرہا ہوگا یا جان جانے کا خوف ہوگا فرمایا کہ میں اس وجہ سے نہیں رو رہا ہوں جو تم سمجھے ہو بلکہ اس وجہ سے رو رہا ہوں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں یہ مقبول بھی ہے یا نہیں ـ
( ملفوظ 191) دنیا اور آخرت کی پریشانی سے نجات
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اللہ تعالی دنیا و آخرت میں پریشانی سے بچاوے دنیا کی وہ پریشانی چاہے قلت مال سے ہو یا فقدان تندرستی سے ہو اولاد کی نافرمانی سے ہو اور آخرت کی پریشانی ظاہر ہے کہ صرف معصیت سے ہے اللہ تعالٰی سب سے بچاوے ـ
( ملفوظ 190)سچا آدمی محبوب ہوتا ہے :
ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جس میں مکرو فریب نہ سچا ہو یہ ادا مجھ کو بہت پسند ہے اور یہ ادا جس میں بھی ہو وہ مجھ کو محبوب ہے ـ
( ملفوظ 189)علوم نقشبندیہ کے اور جانبازی چشتیہ کی
ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ علوم کا تو میں نقشبندیوں کا معتقد ہوں ان میں بڑے بڑے علماء گزرے ہیں اور چشتیوں میں اس قدر علماء نہیں گزرے مگر جانباز چشتیوں میں زیادہ ہیں یہ بات دوسروں میں اس درجہ کی نہیں ـ

You must be logged in to post a comment.