( ملفوظ 188) چشتیہ کا مذہب

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ چشتی بچارے تو نہ کسی کا بدنام کرنے کی پروا کرتے ہیں اور نہ کسی کے نیک نام کرنے کی پرواہ کرتے ہیں ان کا مذہب تو یہ ہے ـ
گرچہ بد نامی ست نزوعاقلان مانمی خواہیم ننگ و نام را
عاشق بدنام کو پروائے ننگ و نام اور جو خود ناکام ہو اس کو کسی سے کام کیا
( اگرچہ عاقلوں کے نذدیک یہ بات بدنامی کی ہے مگر ہم ننگ و نام کے خواہشمند نہیں ـ 12 ـ )

( ملفوظ 187) سماع اور خواجہ نقشبندی

ایک صاحب کے جواب میں فرمایا کہ سماع کے متعلق حضرت بہاء الدین نقشبندی نے فرمایا ہے نہ انکا میکنم و نہ این کار مکینم اور قاضی صاحب پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ بھی منکر نہیں تارک ہیں ـ

( ملفوظ 186) بزرگوں کی عظمت سے نور ایمان قوی ہوتا ہے

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بزرگوں کی عظمت قلب میں ہوتو اس سے نور ، ایمان قوی ہوتا ہے دین میں رسوخ ہوتا ہے ـ

( ملفوظ 185) خالی رائے دینے والوں کا علاج

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ رائے دینا بہت آسان ہے مگر جب کچھ کام کرنا پڑے اور وہ آسان ہوتا ہے مگر سب ختم ہو جاتے ہیں

( ملفوظ 184) صرف بیعت ہو جانا کافی نہیں

فرمایا کہ ایک صاحب کا خط آیا ہے لکھا ہے کہ قلب میں وساوس آتے ہیں اس کے واسطے کوئی ورد بتلا دو یہ صاحب ایک بہت بڑے شیخ سے مرید ہیں لیکن آج تک یہ خبر نہیں کہ ورد سے بھی وسوسوں کا علاج ہوتا ہے اس لئے میں کہتا ہوں کہ فقط بیعت سے کچھ کام نہیں چلتا تعلیم و تنظیم کی ضرورت ہے اس پر مجھ کو بدنام کیا جاتا ہے کہ سخت ہے بس یہ سختی ہے کہ میں ناواقفوں کو واقف بناتا ہوں کیا یہ بھی جرم ہے ایک قصبہ ہے تیتروں وہاں سے بہت سی عورتیں بیعت ہونے آئیں ایک چھکڑا کیا بھرا ہوا تھا اس میں ایک جھگڑا بھرا ہوا تھا میں نے بیعت کرنے سے اس بناء پر انکار کر دیا کہ تم اپنے اپنے خاوندوں سے پوچھ کر نہیں آئی ہو میں بیعت نہ کروں گا میں نے بعد میں سنا کہ ان عورتوں نے کہا کہ یہ مولوی اچھا نہیں گنگوہ والا مولوی اچھا تھا ترت یعنی فورا مرید کرلے تھا میں نے کہا کہ بالکل سچی بات ہے دونوں جز صحیح ہیں حضرت مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کا اچھا ہونا اور میرا برا ہونا مگر بلانے کون گیا تھا تم یہاں پر آو اور آکر مرید ہو سب خفا ہو کر چلی گئیں ـ

( ملفوظ 181)نہ قلب میں غل ( بالکسر ) نہ زبان پر غل بالضم

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے دل میں کسی کی طرف سے ذرہ برابر الحمداللہ بغض نہیں یا خلش نہیں نہ قلب میں غل ( بالکسر ) نہ زبان پر غل ( بالضم اور الحمد اللہ دوسرے بھی میرے ساتھ ایسے ہی ہیں اہل وطن کو اکثر دیکھا ہے کہ مخالفت ہے نہ تعظیم ہے ہاں محبت سب کو ہے حتی کہ ہنود کو بھی بھنگی چماروں تک بھی محبت ہے بعض لوگ ان ہی اہل وطن میں ایسے بھی ہیں جو تحریکات کے زمانہ سے اختلاف رکھتے ہیں مگر ہمیشہ سے جب ملتے ہیں جھک کر سلام کرتے ہیں میں بھی خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ آپ کا فضل ہے رحمت ہے ورنہ مجھ میں ایسا کونسا سر خاب کا پر ہے ـ

( ملفوظ 183)متکبرین کا تھانہ بھون میں علاج اور حضرت شیخ الہند کا واقعہ

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت مولانا دیوبندی کی بھی اخیر میں یہی رائے ہو گئی تھی کہ بعض کے لئے تشدد کی ضرورت ہے چناچہ ایک معتبر شخص مجھ سے حضرت کا ارشاد نقل کرتے تھے کہ متکبرین کو تھانہ بھون بھیجنا چاہئے یہ وہاں درست ہو سکتے ہیں متکبر آدمی کو تھانہ بھون بھیجنے سے مراد میرے پاس بھیجنا تھا باوجود اس کے کہ حضرت اس قدر وسیع الاخلاق تھے جن کی نظیر مشکل ہے مگر متکبرین کے متعلق حضرت کی بھی یہی رائے تھی حضرت کا اخلاق پر یاد آیا یہ حکایت مجھ سے مولوی محمود صاحب رامپوری نے بیان کی رومپور سے میں اور ایک ہندو دیوبند ایک عدالتی ضرورت سے آئے میں نے حضرت کے یہاں قیام کیا اس ہندو نے مجھ سے کہا کہ میاں ایک چارپائی کی جگہ مجھ کو بھی دیدو تو میں بھی یہاں ہی پڑ رہوں تاکہ تحصیل میں ساتھ جانا آسان ہو میں نے اس کو بھی ایک چارپائی بتلادی گرمی کی دوپہر کا وقت تھا وہ اس پر پڑ کر سو گیا اور ایک چارپائی پر میں لیٹ گیا تھوڑی دیر میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت زنانہ مکان سے دبے دبے پاؤں تشریف لائے اور اس ہندو کی چارپائی کی پٹی پر بیٹھ کر اس کے پاؤں دبانا شروع کر دیئے میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکا اٹھا اور پاس جاکر عرض کیا کہ حضرت تکلیف نہ فرمائیں میں دبا دوں گا فرمایا کہ یہ میرا حق ہے میرا مہمان ہے تم کو حق نہیں جاؤ اپنی جگہ لیٹو کہیں اس قیل و قال سے اس بیچارے کی آنکھ نہ کھل جائے اور پھر اس کو تکلیف ہو غرض حضرت پاؤں دباتے رہے اور اس کو کچھ خبر نہیں پڑا رہوا خر خر کر رہا تھا فرمایا کہ اس میں میں انا مقدر تھا تو حضرت کے اخلاق کی نظیر ملنا مشکل ہے مگر متکبرین کے متعلق حضرت کی بھی یہ ہی رائے تھی کہ ان کو تھانہ بھون بھیجا جائے وہاں ان کے مزاج درست ہونگے اور کمال اخلاق کے ساتھ حضرت کا یہ دوسرا کمال تھا کہ دونون شانیں جمع تھیں ایک وقت گھر پر کافر ضیف ( مہمان ) کا حق ادا ہو رہا ہے اور ایک وقت جب وہ کافر میدان میں آوے تو سیف کا حق ادا ہو رہا ہے جبکہ اس کا ظلم و حیف ( ستم ) ظاہر ہو ـ

(ملفوظ 182 )نہ ڈھیلا بنے نہ ڈھیلا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل جس نام اخلاق ہے اچھی خاصی دکانداری ہے مجھ کو ایسے اخلاق متعارفہ سے نفرت ہے اسی لئے بدنام بھی ہوں مثلا یہ تعویز گنڈوں ہی کا سلسلہ ہے اگر ان لوگوں کے ساتھ ڈھیلا پن برتا جاتا تو اچھا خاصہ میلا لگ جاتا پھر کوئی کام بھی نہ ہو سکتا مزاحا فرمایا کہ سب کام میلا ہوجاتا اور خصوص عورتوں کا تو ہر وقت ہجوم رہتا اور عورتوں یا لڑکوں کا ہجوم فتنہ ہے اس میں بڑے بڑے مفسدے ہیں میری تو اس باب میں یہ رائے ہے کہ ایسے اسباب اختیار کرے کہ نہ ڈھیلا بنے بیائے مجہول اور نہ ڈھیلا بنے بیائے معروف ـ

( ملفوظ 180) سر سید کا ایک وعدہ

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت آج کل سائل سوال کرتے پھرتے ہیں بظاہر نہایت تندرست ہٹے کٹے ہوتے ہیں ان کو کچھ دینا جائز ہے یا نہیں فرمایا نہیں آج کل تو لوگوں نے مانگنے کا پیشہ بنا لیا ہے اس پر استطر ادا ایک سائل کا قصہ فرمایا کہ مجھ سے ایک صاحب نے برادیت محسن الملک کے بیان کیا کہ سید احمد خان اپنی کوٹھی میں بیٹھے تھے اس میں شیشے کے کیواڑ تھے ایک شخص آئینوں میں سے نظر آیا نہایت بوسیدہ اور میلے کپڑے پہنے ہوئے کوٹھی سے باہر آکر بیٹھا یہ شیشہ کے کیواڑوں میں سے دیکھ رہے تھے محسن الملک بھی سید احمد خان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سرسید نے ان سے کہا کہ دیکھو یہ ایک مکار سائل ہے اور اب اپنا لباس تصنع کا بدلے گا اور پھر آکر سوال کریگا مگر میں اس کو ایک کوڑی نہ دوں گا ایسا ہی ہوا اس نے اپنی گٹھڑی میں سے چوغہ عمامہ تسبیح نکالی اور بن ٹھن کر کوٹھی پر آیا اور دستک دی کیواڑ کھول دیئے گئے اس نے اندر داخل ہو کر سلام کیا
ایک کرسی پر بیٹھ کر کہا کہ مجھ کو فلاں ضرورت ہے اعانت چاہتا ہوں سر سید اسی طرح بے التفاتی کے ساتھ لیٹے رہے دوران گفتگو میں اس کے منہ سے یہ بھی نکلا کہ میں شاہ غلام علی صاحب کا دیکھنے والا ہوں اس کے یہ کہنا تھا کہ سید احمد خان نہایت اضطراب کے ساتھ اتھ کر سیدھے بیٹھ گئے وہ کچھ حالات شاہ صاحب کے بیان کرتا رہا اور سر سید بہت توجہ سے سنتے رہے پھر اس کے لئے نہایت ادب و احترام کے ساتھ کھانا منگایا اور کھانے کے بعد پچاس روپیہ پیش کئے جب وہ چلا گیا تو محسن الملک نے پوچھا کہ یہ کیا خبط تھا خود ہی تو کہہ تھے کہ یہ شخص مکار سائل ہے ، پیشہ ور ہے اس کو ایک کوڑی نہ دوں گا یا ایسے معتقد ہوئے جیسے اس نے جادو کر دیا ہو آخر آپ کو یہ سوجھی کیا تھی سید احمد خان نے کہا کہ تم کو خبر نہیں اس شخص نے کس کا نام لیا اگر یہ اس وقت جان طلب کرتا تو میں عزر نہ کرتا حضرت شاہ صاحب کی اس قدر عظمت تھی نام سن کر از خود درفتگی کی کیفیت طاری ہو گئی

( ملفوظ 179) شاہجہان اور تخت طاؤس

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ شاہجہان نے طاؤس بنوایا تھا ، وہ تخت اس وقت یورپ میں ہے بہت ہی قیمتی تخت ہے کئی لاکھ روپیہ صرف ہوا تھا جس وقت یہ تخت بن کر تیار ہوا اور شاہجہان اس تخت پر بیٹھے ہیں ان کے وزیر سعدللہ خاں پانی کے رہنے والے اپنی آستین میں ایک چھرا رکھ کر دربار میں حاضر ہوئے شاہجہان نے تخت پر اول دو رکعت نفل شکرانہ ادا کیا اور عرض کیا کہ اے اللہ فرعون کو تخت آپ نے عطاء فرمایا تو اس نے خدائی کا دعویٰ کیا اور مجھ کو عطا فرمایا تو میں آپ کی بندگی ادا کر رہا ہوں یہ مجھ پر آپ کا فضل اور رحمت ہے پھر سعدللہ خان سے چھرا لانیکی مصلحت پوچھی یہ سن کر سعداللہ خان نے عرض کیا کہ مصلحت یہ تھی کہ اگر آج تخت پر بیٹھ کر کوئی کبر کا کلمہ آپ کے منہ سے نکلتا جس سے آگے کفر اندیشہ ہوتا تو کلمہ کفر نکلنے سے پہلے آپ کا کام تمام کردیتا اس لئے کہ میں نے آپ کا نمک کھایا تھا اس کو حلال کرتا گو اس کے عوض میں دوزخ ہی میں چلا جاتا مگر آپ کو کفریات سے متلبس نہ ہونے دیتا اس پر شاہجہان بہت خوش ہوئے اور سعداللہ خاں کی بڑی عزت اور قدر کی ـ