( ملفوظ 168) استاد کے بغیر علم اور شیخ کے بغیر عمل نہیں آتا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بدون استاد کے کوئی کام نہیں آسکتا ایک ادنی سی بات ہے قلم بنانا مگر وہ بھی بدون استاد کے نہیں بنا سکتا یعنی جب تک کسی استاد سے بنانا نہ سیکھے نہیں بنا سکتا میں ہی ہوں حالانکہ لوہے کے قلم سے لکھ کر میرا جی خوش نہیں ہوتا سادہ قلم سے لکھنا تو جی خوش ہوتا ہے مگر قلمل خود نہیں بنا سکتا جب ضرورت ہوتی ہے دوسرے سے بنواتا ہوں تو جب ادنی چیزوں میں استاد کی ضرورت ہے تو مسائل بدون استاد کے اور اہل علم کے سیکھے ہوئے اور پڑھے ہوئے کیسے سمجھ میں آ سکتے ہیں اور اسی طرح بدون شیخ کامل کے اصلاح باطن کس طرح ہو سکتی ہے علم میں ضرورت ہے استاد کی عمل میں ضرورت ہے شیخ کامل کی محض کتابیں دیکھ کر کام نہیں چلا سکتا جیسے مریض کہ طب کی کتاب دیکھ کر اپنا علاج نہیں کر سکتا ـ

( ملفوظ 167)ذم التحریف للدین الحنیف یعنی تحریف دین کی مذمت

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میری زندگی کا مدار تو استحضار ثواب پر ہے ورنہ اس قدر طبیعت کمزور واقع ہوئی ہے کہ اگر ثواب کا استحضار نہ ہو تو میں بعض حوادث کا تحمل ہرگز نہیں کر سکتا تھا ـ بس یہ اعتقاد میری زندگی ہے کہ جہاں کوئی تکلیف پہنچی فورا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس میں ثواب ہے اس سے وہ کلفت جاتی رہتی ہے اگر ثواب کا اعتقاد نہ ہوتا تو میں تو ختم ہی ہو جاتا یہ امید ثواب ایسی قوت کی چیز ہے کہ بڑی کلفت اور رنج کو سہل کر دیتی ہے اور افسوس ہے کہ اس کو آج کل معمولی چیز خیال کر رکھا ہے اور سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں ـ نعوذ باللہ استغفراللہ ۔ میں کہتا ہوں کہ جس قدر مسلمانوں کے پاس سامان ہے قوت کا ان سب میں یہ ایک نہایت زبردست چیز ہے نئے تعلیم یافتہ اس پر ہنستے ہیں کہ ثواب کو لئے بیٹھے ہیں پرانے خیال کے ہیں بلکہ علماء تک نے بھی اس کی ترغیب چھوڑ دی وعظوں میں ثواب و عذاب کا ذکر ہی جاتا رہا حالانکہ قرآن و حدیث میں زیادہ یہی بھرا ہوا ہے اگر یہ کر گے ثواب ملے گا نہ کرو گے عذاب ہوگا مسلمان کے پاس اس کا کیا جواب ہے یہ خیال پھیلایا ہے آج کل کے نیچریوں نے نہایت ہی بد عقیدہ لوگ ہیں اور اکثر لیڈر اس ہی خیال کے ہیں خدا سے نڈر ہیں آج کل کے لیڈر بیدار مغز اور روشن دماغ کہلاتے ہیں نہ معلوم ان کے دماغوں میں گیس کے انڈے روشن ہیں یا بجلی سما گئی ہے حالانکہ یہ باتیں سب ظلماتی ہیں اور ان کو زیادہ تو خراب کیا ہے جب جاہ نے پرانے طریقوں کو ذلت سمجھتے ہیں ہماری عظمت اور عزت اسی میں ہے کہ ہم اپنے سلف کے طریقہ پر ان کے قدم بہ قدم چلیں ہماری صورت ہماری سیرت ہمارا لباس ہمارا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سب اسی طرز پر ہو ہم بھی دین پر عمل کریں اور دوسروں سے بھی عمل کریں ـ غرض اسی پرانے طرز کو اختار کریں دیکھئے بوڑھے آدمی کی عظمت اور عزت اسی میں ہے کہ اپنے بڑھاپے کو چھپائے نہیں اگر چھپائے گا پوڈر مل کر یا خضاب کر کے تو ایک روز حقیقت کھلے ہی گی تو پھر جیسی ذلت کا سامنا ہوگا اظہر من الشمس ہے یہ نا معقول قوم کے رہبر اور پیشوا بننے کو تیار ہوئے ہیں اور حالت یہ ہے کہ صورت سے بھی مسلمان کہلانے کے قابل نہیں اور داڑھی کے تو اس قدر دشمن ہیں کہ جس کا حد و حساب نہیں زیادہ افسوس یہ ہے کہ اعتقاد میں بھی تو اس حرکت کے استحسان کا درجہ ہے اس کو معیوب نہیں سمجھتے زیادہ شکایت تو یہی ہے کہ یہ طرز ان لوگوں نے اختیار کیا اور پھر اس کو تاویل سے اچھا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ داڑھی منڈانا تو خاص جہاد کے موقع پر بھی جائز نہیں اور یہ محض جاہلانہ خیال ہے کہ داڑھی کے ہوتے ہوئے دشمن پر ہیبت نہ ہوگی رعب نہ ہوگا بلکہ جہاد میں بھی داڑھی والے کا رعب اور ہیبت ہوتی ہے کہنے کی تو بات نہ تھی کہتے ہوئے شرم آتی ہے مگر بضرورت کہتا ہوں کہ آپ کے ملک میں آپ ہی کے دوش بدوش ایک قوم ہے سکھوں کی اس کو دیکھ لیجئے کیا وہ پولیس میں نہیں وہ جنگ پر نہیں جاتے مگر دیکھ لیجئے کہ ان کے داڑھی ہوتی ہے یا نہیں انکا ذکر اس لئے کیا کہ آخر کس طرح ان بے غیرتوں کو غیرت بھی دلاؤں اور سن لیجئے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ انگریزوں کے بادشاہ کے لئے قانونا حکم ہے داڑھی رکھنے کا اسی طرح اگر عورت حکمران ہو تو اس کو چوٹی کٹانے کی ممانعت ہے یہ اس قوم کا فتوی ہے جن کے یہ کور باطن مقلد ہیں خود انگلستان اور یورپ میں اسی قانون کا بادشاہوں کے لئے نفاذ ہے سو اگر یہ ذلت کی چیز سمجھی جاتی تو وہ اس کو کب گوارا کرتے پھر وہ بھی بادشاہ کے لئے ان باتوں کو سوچ کر کچھ تو شرم آنا چاہئے اس کے بعد ہم مشتاق ہیں کہ یورپ کے فتوی سن لینے کے بعد ہمارے لیڈر صاحبان اور ان کے ہم خیال اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں اس لئے کہ اگر عزت کی بات داڑھی منڈانا ہے تو بادشاہ کیلئے بہت زیادہ ضرورت ہے عزت کی اس کا کیا جواب دیتے ہیں یہ تو مدعی ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ ایک مرتبہ حیدرآباد دکن میں ایک شخص وہابیت کے الزام میں پکڑا گیا اور دلیل یہ بیان کی گئی کہ تم کو جب دیکھو مسجد سے نکلتے ہوئے جب دیکھو قرآن پڑھتے ہوئے جب دیکھو نماز پڑھتے ہوئے ایک اور ان کے خیر خواہ شخص نے کہا کہ نہیں یہ وہابی نہیں میں نے ان کو فلاں رنڈی کے مجرے میں دیکھا تھا فلاں جگہ قوالی میں دیکھا تھا فلاں قبر کو سجدہ کرتے دیکھا تب بیچارے چھوڑے گئے اور جان بچی اس کا حاصل تو یہ ہوا کہ اگر کسی میں خدا کی یاد ہے اور فرمانبرادری ہے تو مجرم قابل سزا بد عقیدہ اور اگر خدا کی نافرمانی اور مصیبتوں کا ذخیرہ ہے تو خوش عقیدہ اور قابل مدح اور پکے سنی اور حنفی انا للہ وانا الیہ راجعون مگر اب الحمدللہ یہ رنگ نہیں رہا حیدرآباد میں بمبئی کے متعلق ایک صاحب نے روایت بیان کی تھی کہ وہاں پر وہابی کی پہچان یہ ہے کہ ٹخنوں سے اونچا پاجامہ ہو گھٹنوں سے نیچا کرتہ ہو پیشانی پر سجدہ کا نشان ہو ارکان نماز کی ادائیگی میں تعجیل نہ کرتا ہو بلکہ اطمینان سے نماز کو ادا کرتا ہو یہ وہابی کی پہچان ہے سو اگر یہی باتیں ہیں تو اس کا تو کسی کے پاس بھی کوئی علاج نہیں ـ

( ملفوظ 166)محقق ہمیشہ مقلد ہوگا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ محقق آدمی جو جامع شرائط اجتہاد کا نہ ہو غیر مقلد نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اپنی تحقیق سے شرائط ہونا دیکھے گا ـ

( ملفوظ 165) اولاد اور بیوی کے نفقہ کا فرق

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اولاد اگر خود مالدار ہو اس کا نفقہ واجب نہیں مگر بیوی کا نفقہ ہر حال میں خاوند کے ذمہ فرض ہے ـ

( ملفوظ 164)مسلمان دیندار اور غیرت مند ہونا چاہئے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں تو کہا کرتا ہوں کہ مسلمان چاہے مالدار نہ ہو مگر دنیدار ہو اور غیرت والا ہو ـ

( ملفوظ 163) بے طریقہ ایک پیسہ بھی خرچ ہو تو دکھ ہوتا ہے :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اگر دین کے لئے جان مال گھر سب خرچ ہو جائے کوئی مضائقہ نہیں لیکن جی یہ چاہتا ہے کہ طریقہ کے ساتھ ہو باقی یوں ہی گڑبڑ میں تو ایک پیسہ بھی جاتے ہوئے دل دکھتا ہے ـ

( ملفوظ 162)حضرت کی ہر چیز خصوصا سوال میں بھی احتیاط :

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ہر کام ہر بات میں احتیاط کا پہلو اختیار کرتا ہوں مجھ کو اس پر وہمی کہا جاتا ہے ایک مرتبہ حضرت مولانا گنگوہی سے میری شکایت کی گئی کہ یہ جلسہ میں آکر مدرسہ کی رقم سے کھانا نہیں کھاتا حضرت مولانا نے مجھ سے سوال کیا میں نے صاف عرض کر دیا مجھ کو اس کے رقم سے کھانا نہیں کھاتا حضرت مولانا نے مجھ سے سوال کیا میں نے صاف عرض کر دیا مجھ کو اس کے جواز میں شبہ ہے پھر حضرت نے کچھ نہیں فرمایا کہ ایک شخص نے میرا وعظ سن کر سو روپیہ چندہ بلقان میں دیئے اور انجمن ہلال احمر میں داخل کئے اور احمق نے مجھ پر تقاضا کیا کہ قسطنطنیہ سے اس کی مستقل دسید منگا کر دو ورنہ روپیہ واپس دو میں نے قطع شغب کے لئے اپنے سے روپیہ دے دیا ایک مولوی صاحب نے یہ سن کر مجھ سے فرمایا کہ اپنے پاس سے کیوں دیئے اور تمہاری معرفت جو چندہ بلقان جمع ہوتا اس میں سے سو روپیہ رکھ لئے ہوتے اور تاویل یہ کی کہ خاص اس کی دی ہوئی رقم تو واپس کر دینا جائز ہی تھا اور وہ رقم اور دوسرے چندہ کی رقمیں سب ایک ہی حکم میں ہیں کیا ٹھکانہ ہے اس بد احتیاطی کا نفسانی غرض کا جب غلبہ ہوتا ہے ایسی ہی سوجھتی ہیں میں تو اکثر کہا کرتا ہوں کہ اموال کے باب میں اکثر اہل علم کو بھی احتیاط نہیں الا ماشاءاللہ اور عوام کو تو کیا ہوتی ـ

( ملفوظ 161)ایک پیر صاحب کی غزا

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل تو مشائخ کے یہاں ایسی باتیں مایہ ناز ہو رہی ہیں جیسے ایک پیر کے مرید نے کہا کہ حضرت کچھ نہیں کھاتے ایک شخص نے دریافت کیا کہ آخر کچھ کھاتے بھی ہیں کہ صرف آدھ پاؤ بالائی اور ایک چھٹانک مغز بادام اور ایک پیالی چائے اور تھوڑا سا دودھ اس شخص نے کہا کہ حضرت کچھ نہیں کھاتے صرف اتنی اور کسر ہے کہ تجھے اور مجھے نہیں کھایا کیا لغویات ہیں ـ

( ملفوظ 160) مسلمانوں کے افلاس کا علاج :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ اس وقت جو مسلمان کمزور نظر آتے ہیں اور دب گئے ہیں اس کا ایک قومی سبب افلاس بھی ہے جس نے سب کے سامنے جھکا دیا اور پہلے بزرگوں پر قیاس نہیں کرنا چاہئے ان میں قوت ایمانیہ تھی وہ افلاس سے پریشان نہ ہوتے تھے اور اس وقت دین کی قوت تو مسلمانوں میں ہے نہیں اگر مال کی بھی نہ ہو تو سوائے ذلت کے اور کیا ہوگا اب تو یہ ہورہا ہے کہ حکام مسلمان کو الگ دبا رہے ہیں برادران وطن الگ اور یہ افلاس مسلمانوں کا زیادہ تر فضول خرچی کے سبب سے ہے ایک دانشمند شخص خوب کہتے تھے کہ آمدنی تو اختیار میں نہیں مگر لوگ اس کی کوشش کرتے ہیں اور جو چیز اختیار میں ہے یعنی خرچ اس کے گھٹانے کی فکر نہیں واقعی خوب کام کی بات کہی ـ

( ملفوظ 159)ایک صاحب کا خط اور حضرت کا جواب

فرمایا کہ ایک خط آیا ہے لھکا ہے کہ پیرا کا انتقال ہو گیا یہ بتلا دو کہ میرا حصہ کہاں ہے تاکہ وہاں جا کر حاصل کروں میں نے لکھ دیا ہے کہ یہ صاحب کشف کا کام ہے اور میں صاحب کشف نہیں اس پر فرمایا کہ ایسے پاگل طالب رہ گئے –