( ملفوظ 178)انگریزی پڑھ کر دین کی حفاظت کا طریقہ

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں نے ایک وعظ میں کہا تھا کہ میں انگریزی پڑھنے کو منع نہیں کرتا اگر ضرورت ہے پڑھو اور نہ میں کہتا ہوں کہ عربی پڑھ کر سب علامہ بن جائیں ہاں
دین کی حفاظت کی ہر مسلمان کیلئے ضرورت ہے سو اس کی ایک صورت بیان کرتا ہوں کہ انگریزی پڑھ کر بھی حفاظت ممکن ہو وہ صورت یہ ہے کہ تعطیلات کے زمانے میں نصف حصہ لہو و لعب میں صرف کرو اور کم از کم نصف حصہ اہل اللہ کی صحبت میں صرف کرو یہ صحبت بڑی چیز ہے تو اس صورت میں دین محفوظ رہے گا ورنہ نری انگریزی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے جیسے دیوبند کا ایک قصہ ہے وہاں کے رہنے والے ایک ڈپٹی صاحب تھے ان کے باپ پرانی وضع کے سادہ مزاج گاڑھا پوش تھے بیٹے سے ان کی نوکری پر ملنے گئے ان کے دوست احباب نے پوچھا کہ آپ کی تعریف باپ کہتے ہوئے عار آئی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے پڑوسی ہیں ان بڑے میاں نے کہا کہ یہ جھوٹا ہے میں اس کی ماں کا پڑوسی ہوں وہ میری بغل میں رہا کرتی ہے لوگ سمجھ گئے کہ بڑے میاں ڈپٹی صاحب کے باپ ہیں ایک واقعہ ہے ایک صاحب ولایت پاس کر کے آئے باپ سے ملے تو مصافحہ کرتے وقت پوچھا کہ ول بڈھا تم اچھا ہے ادب کا تو نام نہیں رہتا فرمایا کہ ادب پر آیا یاد دہلی میں حکیم عبدلمجید خاں صاحب سب جانتے ہیں کس درجہ کے تھے فن میں بھی عزت میں بھی میں نے ان سے نفیسی کے کچھ سبق پڑھے بھی ہیں اس معنی کو میرے استاد بھی تھے ان کے ایک مصاحب بیان کرتے تھے کہ ایک بار انہوں نے یہاں آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ان ہی صاحب سے جو کہ تھانہ بھون کے رہنے والے تھے کہ وہاں جانے کے کیا شرائط اور ملنے کے کیا اوقات ہیں انہوں نے کہا کہ آپ کو اس تحقیق کی کیا ضرورت ہے آپ تو ان کے استاد ہیں تو حکیم صاحب نے یہ فرمایا کہ میں جس حیثیت سے جارہا ہوں اسی طرح جاؤں گا اس میں استادی شاگردی کا کوئی دخل نہیں یہ ہے ادب آج شاگرد اتنا ادب نہیں کرتے استاد کا جتنا پہلے استاد کرتے تھے اپنے شاگردوں کا ایک واقعہ یاد آیا خورجہ کے رہنے والے مظفر نگر میں ایک ڈپٹی صاحب تھے جو صاحب نسبت صاحب طریقت بھی تھے ایک مرتبہ وہ ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے ملے تنے وہ معمر شخص تھے اور حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی عمر اس وقت بہت تھوڑی تھی مگر حضرت کی شہرت ہو چکی تھی بہت لوگ معتقد بھی تھے ان ڈپٹی صاحب نے بھی ایک بیاض لکھی ہے بیاض دلکشا اس کا نام ہے اس میں حضرت حاجی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت کی برکت کی نسبت لکھا ہے ـ
آہن کہ بپارس آشنا شد فی الحال بصورت طلا شد
( جو لوہا پارس سے چھو بھی فورا سونا ہو جاتا ہے 12 – )
محض ایک ہی ملاقات معلوم ہوئی ہے اور خود بھی صاحب نسبت تھے اور معمر اور معزز مگر ایک ہی
ملاقات کا یہ اثر ہوا کہ کیسی عقیدت کا اظہار فرمایا یہ ہے ادب ـ
6 محرم الحرام 1351 ہجری مجلس بعد نماز جمعہ

( ملفوظ 177)بزرگوں کی ہر بات میں برکت ہوتی ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بزرگوں کی ہر بات با برکت ہوتی ہے پانی پت میں ایک بزرگ تھے عادۃ تو وہ صاحب سماع نہیں تھے مگر اس سے پرہیز بھی نہ تھا کسی مجلس میں اتفاق سے شریک ہو گئے ایک بار اتفاق ہی سے ایک مجلس میں شریک تھے قوال یہ کہہ رہا تھا ایسا ٹونا کردے ری ایسا ٹونا کردے یعنی ایسا سحر کردے اسی وقت میں ایک عورت اپنے خاوند کی شکایت لے کر آئی کہ مجھ کو سب ستاتا ہے ناراض رہتا ہے اون بزرگ نے خادم سے کہا کہ یہ ہی لکھ کر دیدو کہ ایسا ٹونہ کردے ری خادم نے یہ ہی لکھ کر اس عورت کو دے دیا خدا کی قدرت سے خاوند مسخر و مطیع ہو گیا ـ

( ملفوظ 176) ہدیہ رد کرنے کا فائدہ

ایک نو وارد صاحب نے پانچ روپیہ ہدیہ حضرت والا کی خدمت میں پیش کئے معمول کے خلاف ہونے کی بناء پر حضرت والا نے قبول فرمانے سے انکار فرمایا تھوڑی دیر میں ان صاحب سے ایک غلطی ہوئی اس پر تنبیہ فرماتے ہوئے حضرت والا نے فرمایا کہ اس وقت میرے پانچ روپیہ کا تو نقصان ہوا لیکن اگر میں وصول کر لیتا تو اس وقت آپ کی اصلاح کے متعلق صاف صاف نہ کہہ سکتا تھا لے لینے کے بعد خیال تو ہوتا ہی ہے کہ یہ میرے محسن ہیں ان کی رعایت کرنا چاہئے یہ نہ لینے ہی کی برکت ہے کہ صاف صاف کہہ دیا اور اگر نہ کہتا تو ان کے دین کا نقصان تھا اور اب تو اپنا دنیا کا نقصان کیا بلا سے پانچ روپیہ نہ ملے مگر ایک مسلمان کو ہمیشہ کے لئے جہل سے نجات مل گئی ـ

ملفوظ( 175)زیادہ غلطیاں فکر کی کمی سے ہوتی ہیں فہم کی کمی سے نہیں

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں اس پر قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ فہم کی کمی سے غلطیاں بہت کم ہوتی ہیں زیادہ فکر کی کمی سے ہوتی ہیں اور فکر ہوتے ہوئے اگر فہم کی کمی بھی ہو اس سے غلطیاں عدد میں بھی کم ہوتی ہیں اور کیفا بھی کم ہوتی ہیں مگر فکر و غور سے کام نہیں لیتے اس سبب سے غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اگر فکر ہو تو سمجھ میں نہ آنے پر دوسرے سے پوچھے گا کہانتک غلطی ہوگی چونکہ فکر اور توجہ سے کام نہیں لیتے اس لئے مجھ کو زیادہ غصہ آتا ہے اور فکر کی کمی کا سبب طلب کی کمی ہے چناچہ خدا کی اتنی بھی طلب نہیں کہ جتنی کسی رنڈی پر یا لڑکے پر عاشق ہوجانے پر اس کی طلب پے پھر شیخ کی تعلم کا کیا خاک اثر ہو خدا سے صحیح اور قومی تعلق پیدا کرنا چاہئے اور وہ بدون اس کے فکر کے ساتھ اعمال میں احوال میں باطنا بھی ظاہرا بھی شریعت کا پورا اتباع ہو ہی نہیں سکتا ـ

ملفوظ( 174)طالب کی اصلاح میں کمی کرنا خیانت ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میں ہر شخص کے ساتھ یہ چاہتا ہوں کہ بات صاف ہو معاملہ صاف ہو اس میں تلبیس نہ ہو ایہام نہ ہو خصوص ان لوگوں سے جو محبت کا دعوی کرتے ہیں تعلق کا دعوی کرتے ہیں ان کی تو اگر ذراسی بات بھی بے ڈھنگی ہوتی ہے تق برداشت نہیں کر سکتا اور اصل بات یہ ہے کہ اصلاح موقوف ہے فہم پر اور فہم لوگوں میں نہیں پھر اصلاح کس طرح ہو اگر میں ان کی بہودگیوں پر سکوت کروں تو یہ ہو سکتا ہے کیا مشکل ہے بلکہ اس میں مجھے راحت بھی ہے مگر میں ایسے سکوت کو خیانت سمجھتا ہوں جیسے مریض طبیب کے پاس جائے اور طبیب اس مریض کے مرض پر اطلاع نہ دے اس کے مرض کو چھپائے کیا یہ خیانت نہیں اور تف ہے ایسے چھپانے پر اور ایسی خوش اخلاقی پر جو آج کل کے رسمی پیروں کے ہاں مروج ہے اب تو خلاصہ اس تعلق کا یہ رہ گیا ہے کہ مرید نے ہاتھ پاؤں چوم لئے نذرانہ پیش کر دیا آگے نہ مرید کو اصلاح کی ضرورت نہ پیر کو احتساب کی ضرورت شمع کی طرح پیر صاحب بیچ میں بیٹھے ہیں اور پروانے ( مرید چہار طرف جمع ہیں سو مجھ کو تو یہ طرز کسی درجہ میں بھی پسند نہیں لیکن اگر اس کے مقابلہ میں کسی کو ہمارا طرز بھی پسند نہ ہو تو ہم یہ کہتے ہیں کہ یہاں مت آؤ اور اگر آگے ہو اور دھوکا ہو گیا ہے تو اب چلے جاؤ بلانے کون جاتا ہے اور اگر باوجود ہمارے اس طرز کے بھی ہم کوئی لپٹے تو پھر اس طرز کے حقوق ادا کرو بقول عارف شرازی ـ
یامکن با پلیبا نان دوستی یا بنا کن خانہ بر انداز پیل
یامکش بر چہرہ نیل عاشق یا فرد شو جامہ تقوی بہ نیل
( یا تو ہاتھی والے سے دوستی نہ کرو یا گھر ایسا بناؤ جہاں ہوتھی آسکے یو تو عاشقی کا دعویٰ نہ کرو اور اگر کرتے ہو تو تقویٰ کو خیر باد کہو )
اور یہ حقوق وہ ہونگے جن کو ہم حقوق سمجھتے ہیں وہ نہیں جن کو تم حقوق سمجھتے ہو اور اگر کسی سے یہ ہو سکتا تو ہم سے تعلق مت رکھو لوگ تو یہ چاہتے ہیں کہ بلی کے گوہ کی طرح ان کے نقائص کو دبائے رہو سو اگر ایسا کیا گیا تو پھر اصلاح کس طرح ہوگی اور مجھ سے یہ توقع رکھنا کہ میں دوسرے کی حالت کو چھپاؤں مشکل ہے جبکہ میں اس کا اخفا کرنا خیانت سمجھتا ہوں پھر یہ بات بھی تو قابل رہے کہ خود میری حالت کھلی ہوئی ہے بری یا بھلی میں خود اس کو نہیں چھپاتا اگر اس حالت میں میں کسی کو پسند ہوں مجھ سے تعلق پیدا کریں ورنہ اور کہیں جائیں بقول غالب
ہاں وہ تعلق وفا پرست جاؤ وہ بیوفا سہی جسکو ہو جان و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
میرے طرز کو تشدد کہا جاتا ہے حضرت شیخ اکبر نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ مریدوں کو آپس میں زیادہ نہ ملنے دینا چاہئے کیا یہ بھی تشدد ہے اور واقعی شیخ نے یہ بڑے کام کی بات فرائی اس لئے کہ دیکھا جاتا ہے کہ آپس میں زیادہ نہ ملنے دینا چاہئے کیا یہ بھی تشدد ہے اور واقعی شیخ نے یہ بڑے کام کی بات فرمائی اس لئے کہ دیکھا جاتا ہے کہ آپس میں بیٹھ کر کہیں شاعری ہو رہی ہے لطیفے ہو رہے ہیں بے سمجھے نکات و اسرار بیان ہو رہے ہیں غرض یونہی وقت فضول بیکار برباد کیا جاتا ہے نہ ذکر ہے نہ شغل ہے نہ فکر نہ تلاوت ہے نہ نفل ہیں بس مجالس ہی مجالس رہ جاتی ہے اور حضرت شیخ اکبر تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مرید شیخ سے کسی تعلیم کی مصلحت پوچھے اس کو نکال دو ایک بزرگ کا واقعہ ہے کہ جب کوئی طالب آکر بیعت کا سوال کرتا ہے تو آپ کھانے میں امتحان لیتے کہ کھانا کھا چکنے کے بعد جو کھانا بچا ہے اس میں روٹی سالن تناسب سے بچایا نہیں اگر تناسب نہ ہوتا تو بیعت سے عزر فرمادیتے کہ تمہاری طبیعت میں انتظام نہیں ہمارے یہاں تمہارا نباہ نہ ہوگا اور بزرگوں نے ہمیشہ طالبوں کے بڑے بڑے سخت امتحانات لئے ہیں میرے یہاں تو پھر بھی بہت وسعت ہے باقی میرا اصلی مذاق یہی ہے کہ قبل مرید کے تو اس کی دوستی کے حقوق کو پورے طور سے محفوظ رکھتا ہوں ـ مگر بعد مرید ہونے کے پھر دوستی کے علاقہ کو نا پسند کرتا ہوں اس وقت مریض اور طبیب کے علاقہ کی ضرورت ہے مگر لوگوں کو خبر نہیں اس طریق کی اور اس کے آداب کی اور عوام تو بیچارے کس شمار میں ہیں اکثر علماء تک کو خبر نہیں اور اللہ میں تو بہت رعایتیں کرتا ہوں مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ میں غلامی بھی نہیں کرتا ایک مولوی صاحب ہیں ان کو میری سیاست کے وقت لوگوں پر بہت رحم آتا تھا میں نے ان کو ایک رسالہ آداب الشیخ دیا کہ اس کو بغور دیکھئے یہ رسالہ شیخ اکبر کے ایک رسالہ کا ترجمہ ہے اصل رسالہ عربی میں تھا اس کا میرے ایک دوست نے اردو میں ترجمہ کر دیا ہے انہوں نے دیکھا کہنے لگے کہ یہ تو آپ سے بھی کہیں آگے بڑھے ہوئے ہیں اس کے بعد انکا تشدد کا گمان رفع ہوا ـ

( ملفوظ 173)دین میں نظر آنے والی دشواریوں کی مثال

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل لوگوں کو دین سے توحش ہے اس کا سبب جہل و کسل ہے اگر علم صحیح و طلب صادق ہو تو دین میں کوئی دشواری اور تنگی پیش آ سکتی ہے مجھے تو اس باب میں اس قدر شرح صدر ہے کہ میں اس پر قسم کھا سکتا ہوں جتنی دشواریاں دین میں نظر آرہی ہے ہیں اگر ارادہ کرو اور عمل شروع کردوں تو میں سچ عرض کرتا ہوں اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ سب دشواریاں ہٹتی چلی جائیں میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ جنگل میں دیکھا ہوگا یا کسی پختہ سڑک پر کہ راستہ کے دونوں طرف کے درخت ہوتے ہیں اور دور سے نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگے چل کر دونوں طرف کے درخت آپس میں ملے ہوئے ہیں اور راستہ بند ہے اب یہ اس کو دیکھ ہر اس زدہ کھڑا ہے کوئی مبصر آیا اس نے دریافت کیا کہ کیوں ہراس ہے کہتا ہے ک راستہ آگے بند ہے منزل مقصود پر کیسے پینچوں گا وہ کہتا ہے کہ جہاں تک راستہ کھلا ہے وہاں تک تو چل اور پہنچ پھر آگے دیکھنا اب وہاں پہنچ کر جس راستہ کو بند سمجھتا تھا اتنا ہی اور راستہ بھی کھلا ہوا نظر آیا لیجئے کام بن گیا جب تک چلنا شروع نہ کیا تھا وقت تک راستہ بند نظر آرہا تھا اگر چلنا شروع کرو خود بخود درخت اور پہاڑ سب ہٹتے نظر آئیں گے اور واقع میں وہ پہاڑ ہی نہیں تھے محض تمہارا خیال اور وہم تھا اسی کو فرماتے ہیں ـ
اے خلیل اینجا ارودود نیست جز کہ سحر و حذعہ ، نمرود نیست ،
طلب اور ہمت پر جبکہ خلوص کیساتھ ہو بڑے بڑے پہاڑ حباء منثتورا ہو کر میدان بن ہو جاتے ہیں اسی کو فرماتے ہیں ـ
گر رخنہ نیست عالم را پدید خیرہ یوسف وارمی باید دوید
( اے خلیل ابراہیم یہاں شعلے اور دھواں نہیں ہے سوائے نمرود کے مکر و فریب کے اور کچھ نہیں ہے 112 اگر عالم میں راستہ نظر نہیں آتا مگر یوسف علیہ السلام کی طرح بھاگنا چاہئے خود بخود راستہ کھلتا چلا جاوے گا ـ 12 ـ

( ملفوظ 172)عوام کی بے استقلالی اور چندہ کی دلوں پر گرانی

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ لوگوں کی بے استقلالی کی حالت دیکھ کر کیا کسی کام کرنے کو جی چاہے اور کیا ہمت بڑھے معترض لوگ کہتے تو ہیں کہ یہ کسی کام میں شرکت نہیں کرتا اگر یہ شرکت کرے تو سب کام ہو جائیں مگر ان باتوں کو تو میں ہی سمجھتا ہوں مجھ کو لوگوں کی حالت کا تجربہ ہے میں اپنے تجربات کو دوسروں کے کہنے سے کیسے فراموش کر دوں مثال میں ایک واقعہ پیش کرتا ہوں یہاں پر ایک چندہ ہوا تھا احباب خاص میں وہ بھی تھی اس میں ایک حصہ چند آدمیوں نے مل کر اپنے ذمہ لیا تھا رمضان المبارک سے قبل کا واقعہ ہے آج تک بھی ایک پیسہ نہیں آیا یہ حالت ہے ایک خط اطلاعی گیا اس کا جواب نہیں اور تماشہ یہ ہے کہ یہ سب لوگ بعت کا تعلق رکھنے والے ہیں جن کی یہ حالت اس کے مصداق ہے ـ
گرجان طلبی مضائقہ نیست گر زر طلبی سخن وریں ھست
( اگر جان مانگو تو حاضر ہے اگر روپیہ مانگو تو اس میں ذرا تردد ہے ـ 12 ـ )
کسی ظریف کا قول ہے محبت رکھیں پاک لینے دینے کے منہ میں خاک ان ہی واقعات سے مجھ کو آج کل کے چندہ سے بے حد نفرت ہے لوگ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے بھی یوں وصول کیا اور اس ترکیب سے وصول کیا بھیک مانگنے میں کون سی عزت ہے اس میں تو ذلت ہے اگر جبر سے یا اثر سے کام لیا تو یہ ڈکیتی ہوئی اس میں بھی کونسی عزت ہے اور اگر ڈکیتی میں عزت ہے تو پھر کھلم کھلا ڈکیتی ہی ڈالو عزت کا کام تو کرنا چاہئے ایک بہت بڑے علامہ سے میری گفتگو ہوئی تحریک خاص پر کہ یہ جائز نہیں پوچھا کہ کیا دلیل ہے میں نے حدیث پڑھی : الا لا یحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفس منہ ۔ یعنی کسی مسلمان آدمی کا مال بدون اس کی خوشدلی کے حلال نہیں تو کہتے ہیں ہاں مگر اس درجہ کا حرام نہیں میں نے دل میں کہا کہ کل کو یہ کہے گا کہ مال حرام ہے مگر اس درجہ کا حرام نہیں یہ تو گرانی کی تسلیم پر گفتگو تھی اور اگر کسی کو شبہ ہو کہ لوگ ہمارے مرید ہیں مرید کو گرانی نہیں ہوتی سو اس کا اندازہ ایک حدیث سے ہو سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات سے فرماتے ہیں کہ مجھ کو اپنے بعد تمہارے بہت خیال ہے کہ کون تمہاری خدمت کرے گا غور کرنے کی بات ہے کہ صحابہ کے متعلق حضور کا یہ خیال اس کے بعد کسی پیر یا شیخ کو اپنے مرید پر کس طرح اعتماد ہوسکتا ہے کہ تحریک خاص پر گرانی نہ ہو گی کیا منہ ہے کسی کا جبکہ حضور کا یہ خیال ہے کہ ہزاروں میں سے کم ایسے ہونگے جو خدمت کر سکیں گے باوجود اس کے صحابہ جان نثار تھے قربان جایئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کیسی پاکیزہ تعلیم فرما گئے ـ

( ملفوظ 171) میلان الی الامرد کے علاج کا نفع :

فرمایا گیا کہ ایک شخص کا خط آیا تھا لکھا تھا کہ ایک لڑکے کی طرف میلان ہو گیا ہے ہر وقت شب و روز اس کا دل میں خیال رہتا ہے اب چند ماہ بعد ہوش آیا ہے آپ کو لکھتا ہوں دعاء بھی فرمادیں کہ اس بلاء سے نجات ہو اور اصلاح بھی فرمادیں میں نے جواب میں لکھ دیا تھا کہ التکشف جلد اول کے صفحہ 10 پر اس کا علاج مذکور ہے دیکھیں اور عمل کریں آج پھر خط آیا ہے لکھا ہے میں نے اس کو دیکھ کر عمل کیا اللہ کا شکر ہے کہ مرض کا علاج ہو گیا اب کسی وقت بھی اس کا خیال نہیں آتا میں نے جواب لکھ دیا ہے کہ مبارک ہو اس پر فرمایا کہ اگر کوئی خود اپنا علاج چاہے اللہ تعالٰی مدد فرماتے ہیں ـ التکشف میں جو اس کے متعلق تدبیر میں لکھی ہیں الحمد اللہ اس سے بہت لوگوں کو نفع ہوا ـ

( ملفوظ 170)چندہ لینے میں احتیاط

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ آج کل چندہ کے بارے میں بہت ہی کم احتیاط ہے حتی کہ قریب قریب تمام مدارس میں بھی اس باب میں احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا ہے میں اس معاملہ میں سخت ہوں اور زیادہ بے احتیاطی یہ ہے کہ جو فردا فردا چندہ کی تحریک کی جاتی ہے اس سے دوسرے پر بار ہوتا ہے گرانی ہوتی ہے نیز نہ دینے پر بخل بھی ثابت ہوتا ہے جس کا حاصل ایک مسلمان کو متہم کرنا ہے اور یہ کسی طرح جائز نہیں ہیں جو تحریک عام اور تحریک خاص میں امتیاز کرتا ہوں اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک مسلمان پر بار نہ ہو گرانی نہ ہو اور بدنام نہ ہو دعوت عام اور چیز ہے اور انفرادی صورت میں کسی سے سوال کرنا اور چیز ہے مجھ کو تجربہ ہے لوگوں کی حالت معلوم ہے اس تحریک خاص کا اثر ظہور بخل قرآن مجید میں بھی مذکور ہے ـ ان یسئلکموھا فیحفکم تبخلوا ۔ کیونکہ اخفاء والحاف خطاب خاص ہی میں ہو سکتا ہے اور اس کے بعد خطاب عام کا اس عنوان سے ذکر ہے ـ انتم ھؤلاء تدعون لتنفقو فی سبیل اللہ ۔ یہ دعوت خطاب عام ہے اور اسی فرق کی وجہ سے اخفاء پر جو بخل ہو اس میں نکیر نہیں فرمایا گیا کہ معزور ہے اور دعوت پر جو بخل ہو اس پر نکیر فرماگیا ـ فمنکم من یبخل ومن یبخل فانما یبخل عن نفسہ الایۃ ۔ میں نے میرٹھ کے ایک وعظ میں اس فرق کو بیان کیا تھا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب بھی اس بیان میں شریک تھے وعظ کے بعد خوش ہو کر فرمایا کہ آج آیت کے معنی معلوم ہوئے یہ ان کی تواضع و محبت تھی مولانا خلیل احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ میرے متعلق فرمایا کہ میں اس کو اس وقت سے جانتا ہوں کہ یہ مجھ کو نہ جانتا تھا مجھ سے بڑی محبت فرماتے اور حضرت صاحب میرے پاس ہے ہی کیا بس یہ ہی ایک چیز ہے یعنی اللہ والوں کی محبت مولانا نہایت سادہ تھے کوئی بناوٹ نہ تھی ـ

( ملفوظ 169) ملقب بہ تنبیہ الاحزاب علی ضرورۃ الحجاب : ( یعنی پردہ کی ضرورت )

ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ بے پردگی اعلی درجہ ک بے حیائی اور بے غیرتی ہے نصوص اور مسائل کے خلاف ہونے کے علاوہ بے پردگی خود ایک غیرت کی چیز ہے جو کہ فطری ہے ان بے حسوں میں غیرت بھی رہی مجھ کو تو مسلمانوں کی اس حالت پر بے حد صدمہ اور رنج ہے کیا کروں اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہو تو ایک دن میں ان کو درست کر دوں حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں ایک شخص ضبیع نام مدینہ میں وارد ہوا اور قرآن شریف کے متشابہات میں سوال جواب کرنا شروع کیا آپ نے حاضر ہونے کا حکم دیا اور سر پر قمچیاں مارنا شروع کیں بس دماغ درست ہو گیا پھر اس کو وطن واپس کر دیا اور حضرت ابوموسٰی اشعری کو جو کہ عامل تھے لکھ دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو اس کے پاس کوئی نہ بیٹھے کزافی روح المعانی ہمارے حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نعل دار جاتا روشن دماغ ہے واقعی صحیح ہے اور یہ فرمایا کرتے تھے جہاں چار کتابیں آسمان سے نازل ہوئی ہیں تو توریت ، زبور ، انجیل ، قرآن اگر ان سے عملی فیصلہ نہ ہو تو اس کے لئے ایک پانچویں چیز بھی حق تعالی نے نازل فرمائی ہے وہ اس آیت کے مذکور ہے : وانزلنا الحدید فیہ باس شدید ـ
یعنی لوہے کو بھی نازل فرمایا ہے مراد اس سے سیف ہے اس سے عملی فیصلہ ہو جاتا ہے اسلام میں آج کل یہ ہی تو نہیں رہی اسی کی ساری خرابی ہے آزادی کا زمانہ ہے جو جس کے جی میں آتا ہے کرتا ہے جو منہ میں آتا ہے بکتا ہے اس آزادی سے یہاں تک نوبت آگئی ہے کہ عام پلیٹ فارموں پر بے پردگی کے متعلق لیکچر دیئے جاتے ہیں قرآن و حدیث میں تحریف کی جاتی ہے اور ان تازہ تحریکات کی بدولت اور زیادہ گمراہی کا دروازہ کھل گیا لوگ دلیر ہو گئے اور ان آزاد لوگوں کو زیادہ جرات مولویوں کی شرکت سے پیدا ہوئی اگر یہ جماعت الگ رہتی تو ان کو اتنا حوصلہ نہ ہوتا اس لئے مولویوں کی شرکت کی وجہ سے عوام ان قصوں میں شریک ہو گئے اور ان بد دینوں کو ان کے گمراہ کرنے کا موقع ہاتھ لگ گیا اورجن لوگوں نے خدا ترسی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ دین محفوظ رہے ان تحریکات سے علیحدگی رکھی ان پر قسم قسم کے الزام اور بہتان باندھے گئے بدنام کیا گیا کہ یہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن سی آئی ڈی کے محکمہ سے تنخواہ پانے والے ہیں اور جا بجا مسلمانوں کو قتل اور مسجدوں کو شہید کرنا شروع کیا تب حقیقت منکشف ہوئی کہ واقعی ہم کہاں اور کس طرف جارہے تھے یہ اس کا نتیجہ ملا کہ خدا کے دشمن کے ساتھ سازش کی تحید اور رسالت کے منکروں کو مسلمانوں کے مجمع میں مذکر بنایا مساجد کے ممبروں پر ان کو بٹھایا یہ ہیں عقلا بیدار مغز یہ ہیں روشن دماغ جن کے دماغوں میں گیس کے انڈے اور بجلیاں اگر اس سے دماغ روشن ہو تو پھر دیکھو کہ خدا کی اعانت خدا کی امداد خدا کی رحمت خدا کی نصرت تمہارے سروں پر بادل کی طرح سایہ افگن ہو اور اس وقت تمام عالم کی غیر مسلم اقوام بھی مل کر تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کیوں کہ گدا گری کرتے پھرتے ہو تمہارے گھر کے اندر خود خزانہ دفن ہے اگر تم کو خبر نہں تو جن کو خبر ہے ان سے دریافت کرو اس کے حصول کا طریقہ معلوم کرو ان کی جوتیاں سیدھی کرو ان کی ناز برادری کرو پھر دیکھو کہ کیا کچھ ملتا ہے کور باطن دوسری قوموں کی ترقی اور دولت کو دیکھ کر رال ٹپکاتے پھرتے ہیں تم کو خود ایک اتنی زبر دست دولت سے نوازا گیا ہے کہ وہ دولت اور کسی کو حاصل ہی نہیں اور اس دولت کے سامنے تمام ترقیاں اور دولتیں گرد ہیں وہ اپنے خناس کو دماغ سے نکال دو تب دیکھو ابھی تک تو بتوں ہی کی پرستش میں گزری ہے ذرا خدا کی پرستش کر کے بھی دیکھ لو اگر اعتقاد سے نہیں تو بطور امتحان ہی سہی اسی کو فراماتے ہیں ـ
سالہا تو سنگ بودی دل خراش آذموں را یک زمانے خاک باش
در بہاراں کے شود سر سبز سنگ خاک شوتا گل بروید رنگ رنگ
برسوں تک تو سخت پتھر کی طرح رہا ہے ـ آزمائش کے لئے چند ہی روز کے لئے خاک کی طرح نرم ہو جاؤ دیکھ زمانہ بہار کی پتھر سر سبز نہیں ہوتا اور خاک میں رنگ رنگ کے پھول کھلتے ہیں ـ 12 ـ میں بقسم عرض کرتا ہوں کہ اس کے بعد پھر تم ہی تم نظر آؤ گے میں یہ کہہ رہا تھا کہ ساری خرابی آزادی کے سبب ہے ایک صاحب کا واقعہ یاد آیا کہ وہ پردہ کے خلاف لیکچر دے رہے تھے ایک شخص نے درمیان لیکچر میں کہا کہ آپ پہلے اپنی بیوی کو پردہ کا خلاف لیکچر دے رہے تھے ایک شخص نے درمیان لیکچر میں کہا کہ آپ پہلے اپنی بیوی کو پردہ سے نکالئے گھر گئے اور اپنی بیوی کو بے پردگی پر راضی کر کے نکال لائے مگر کپڑے وہی ہندستانی گلبدن کا پاجامہ وغیرہ اتفاق سے ایک مرتبہ ان کو سفر پیش آیا تو ریل کے اندر فسٹ کلاس کے درجہ میں سفر کیا اس لئے بڑے آدمی تھے ایک اسٹیشن پر کسی چیز کی ضرورت ہوئی خاوند صاحب تو چیز لینے گئے اور وہاں پر ایک انگریز کوئی بڑا افسر اس درجہ میں آکر بیٹھا اس نے اس عورت کو دیکھ کر کہا کہ تم رنڈی ہے تم کیوں اس درجہ میں بیٹھی ہو کسی دوسری جگہ جاؤ اس عورت نے کہا کہ میں رنڈی نہیں ہوں گھر ستن ہوں اس پر جھگرا ہو ہی رہا تھا کہ خاوند صاحب تشریف لے آئے انہوں نے بھی اس انگریز سے کہا کہ یہ ہماری منکوحہ ہے اس نے کہا کہ ہم کو ہندستان میں اتنا زمانہ گزر گیا ہم نے کبھی کسی شریف عورت کی صورت نہیں دیکھی تم جھوٹ بولتے ہو یہ رنڈی ہے اور تم اس کے آشنا ہو یہ صاحب اسٹیشن ماسٹر کو بلا کر لائے اس نے تصدیق کی کہ میں ان کو جانتا ہوں یہ ان کی بیوی ہیں پھر اس نے مزاحمت تو نہیں کی مگر نفرت ظاہر کر کے خود دوسرے ڈبہ میں جا بیٹھا اب غور کیجئے ایک انگریز بے دین بے قید بے باک مگر اس قدر غیرت آئی کہ ہندستان میں شریف عورت اس طرح کیوں بے محابا پھرتی ہے اپنی عورت کے لئے تو ان کی بے حیائی کو گوارا کر لیا مگر ہندستانی عورت کیلئے گوارا نہیں کیا جہاں تک تتبع کیا گیا پردہ کے مخالف یا تو رذیل ہیں یا بدمعاش رذیل تو اس وجہ سے کہ اوروں کا کبڑا ہونا تاکہ جس طرح وہ مجھ کو ہنستے ہیں میں بھی ان کو ہنسوں اور بدمعاش اس وجہ سے کہ اوروں کا کبڑا ہونا تاکہ جس طرح وہ مجھ کو ہنستے ہیں میں بھی ان کو ہنسوں اور بدمعاش اس وجہ سے کہ اپنی خواہشات کو پورا کریں ایک صاحب کا دوسرا واقعہ ہے منصوری پہاڑ پر اپنی نیوی کو ساتھ لئے جا رہے تھے چند بدمعاشوں نے مل کر یہ حرکت کی کہ دو نے اس کے خاوند کو پکڑ لیا اور بقیہ اس کو لے گئے اور زبردستی منہ کالا کیا پھر دو پھر ان دو نے بھی کیا یہ نتائج ہیں بے پردگی کے اس کے بعد اس شخص کو ہوش آیا اور اپنی بیوی کو پردہ کرایا تجربہ سے قبل تو احکام کی ان لوگوں کے قلوب میں وقعت اور عظمت ہوتی ہی نہیں ایسے کور مغز ہیں ـ
30/ ذی الحجہ 1350 ہجری مجلس بعد نماز ظہر یوم شنبہ