(ملفوظ1)آزادی کی وبا اور اصلاح کا طریقہ

بسم اللہ الر حمن الر حیم
12 ذی الحجہ 1350 ھ مجلس بعد نماز ظہر یوم سہ شنبہ
ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ آج کل آزادی ہوگئی ہے یہ مرض نیچریوں میں ہے جو منہ میں آیا بک دیا جو جی میں آیا کر لیا حالانکہ دین بدوں وحی کی اتباع کے سلامت نہیں رہ سکتا ایک صاحب نے عرض کیا کہ فلاں صاحب کے بھی آزاد خیالات ہیں حضرت کے یہاں آ کر امید ہے کہ ان کے خیالات درست ہوجائیں اگر اجازت ہو تو ان کو مشورہ دیا جائے فرمایا کہ ایسا مشورہ دینا مفید نہیں اگر دوسرے کے مشورے سے آئیں گے تو شاید نکال دیئے جائیں اصلاح ہوتی ہے جبکہ خود طلب ہو بدون اپنی طلب کے اصلاح نہیں ہوا کرتی یہ مسلمہ مجربہ مسئلہ ہے آپ ہرگز مشورہ نہ دیں اگر وہ خود آنا چاہیں میں چند شرائط کے ساتھ اجازت دے دونگا اس وقت امید ہے کہ شاید اصلاح ہوجائے ان کے دماغوں میں جو فرعونیت بھری ہوئی ہے اس کا علاج ضابطہ ہی کے برتاؤ سے ہوتا ہے ایک مرتبہ ضلع مراد آبار کے ایک قصبہ میں مدعو کیا گیا وہاں پر ایک وعظ بھی ہوا قبل وعظ ایک جنٹلمین صاحب علی گڑھ کالج کے تعلیم یافتہ تشریف لائے اور آکر فرمایا کہ میں آپ سے کچھ عرض کر سکتا ہوں میں نے کہا کہ ضرور کر سکتے ہیں کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کو علی گڑھ والوں سے نفرت ہے میں سوچا کہ اگر میں کہتا ہوں کہ ہاں تب تو تعصب کا شبہ ہو گا اور اگر کہتا ہوں کہ نہیں تو ایک طرح کی چاپلوسی ہے جو واقع کے بھی خلاف ہے حق تعالی نے دل میں ایک بات ڈالی میں نے کہا ان کی ذات سے تو نفرت نہیں افعال سے نفرت ہے کہا کہ وہ کیا افعال ہیں میں نے کہا کہ ہر فاعل کے افعال جدا ہیں کہنے لگے مثلا میرے کیا افعال ہیں میں نے کہا کہ بعض تو بین ہیں (ان کی داڑھی منڈی ہوئی تھی جن کے اظہار کی ضرورت نہیں کہنے لگے کہ وہ بین کونسے افعال ہیں میں نے کہا کہ مجمع میں ظاہر کرنا مناسب نہیں اور تنہائی میں بھی بدون باہمی مناسبت کے ظاہر کرنا نافع نہیں اور مناسبت کا طریقہ یہ ہے کہ چند روز میرے پاس رہئے تاکہ آپ کو مجھ پر اعتماد ہو جاوے کہ یہ خیرخواہی اور ہمدردی سے کہ رہا ہے اور مجھ کو یہ اطمنان ہو جاوے کہ آپ خلوص سے پوچھ رہے ہیں سمجھ گئے پھر سوال نہیں کیا ـ غرض ان متکبروں کی رعایت کی ضرورت نہیں تجربہ کی بات ہے کہ رعائیتی گفتگو کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہر بات اصول کے ما تحت ہونا چاہیئے ان ہی اصول میں سے ایک یہ ہے کہ اول یہ دیکھ لیا جائے کہ مخالف کو اپنی رائے فاسد پر جزم ہے یا تردد ہے اگر جزم ہے تو ہم گفتگو نہ کریں گے کہ محض فضول ہے اور اگر ترددہے تو بیشک گفتگو کریں گے لیکن اس صورت میں بھی گفتگو سے پہلے قدر موانست کی ضرورت ہے تاکہ باہمی اعتماد ہو ورنہ سب کیا کرایا بیکار جاویگا اس کی مثال طبیب کی سی ہے کہ ایک نسخہ لکھا اگر مریض کو اعتماد نہیں تو کہہ دے گا کہ ٹھیک نہیں پھر دوسرا لکھا اس کو بھی کہہ دیا ٹھیک نہیں تو طبیب ان کا غلام ہے کہ بیٹھا ہوا نسخے کو استعمال کرکے دیکھے پھر آگے چلے (اس طرح نفع ہوتا ہے اور اگر یہ نہیں تو کیوں وقت بھی بیکار کھویا مولانا رومی اسی امتحان کی ضرورت کو فرماتےہیں ـ
سالہا تو سنگ بودی دل خراش آزموں را یک زمانے خاک باش
یہ تو طالب میں شرطیں ہیں نیز مصلح میں بھی بڑی شرط ہے کہ حکیم ہو طالب کی حالت کے موافق علاج کرے ایک رئیس کا واقعہ ہے کہ ان کو داڑھی چڑھانے کا مرض تھا تو محض اس خیال سے کہ پانچ وقت وضو میں داڑھی کھولنی چڑھانی پڑے گی نماز نہ پڑھتے تھے ایک حکیم بزرگ نے ان سے کہا کہ تم نماز پڑھا کرو خواہ بلا وضو ہی پڑھ لیا کرو یہ نماز نہ تھی تشبہ بالمصلی تھا دو چار وقت تو انہوں نے ایسے ہی پڑھی پھر خیال ہوا کہ کیا واہیات ہے کہ نماز پڑھی بھی اور بلا وضو بس وضو بھی کرنے لگے ـ یہ حکیمانہ تدابیر ـ