ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ بعضے لوگ جو مجھ سے ناخوش ہو جاتے ہیں میں تو خوش ہوتا ہوں کہ بد فہموں سے نجات ملی ، امام کے پیچھے جس قدر مقتدی کم ہوں راحت ہی ہے کیونکہ اگر نماز میں کوئی خرابی آ جائے تو تھوڑوں ہی کو اطلاع دینی پڑے گی ۔ یہاں کا تو یہ طرز ہے کہ نہ بیعت کا جھگڑا اس لیے کہ آج کل اکثر یہ مشغلہ دکانداروں کا اور رسمی پیروں کا رہ گیا ہے ان کے یہاں اس کا تو اہتمام ہی نہیں کہ اصلاح ہو ، روک ٹوک ہو ، بس شب و روز مجمع بڑھانے کی فکر اور نہ یہاں وہ مشغلہ جیسے اکثر درباروں میں ہوتا ہے ۔ مثلا یہاں پر نہ دیرہ دون کی چائے کا ذکر نہ سہارن پور کے گنوں کا ذکر نہ شملہ کی ناشپاتیوں کا ذکر الحمد للہ صرف مشاغل دینیہ ہی کا شغل ہے ۔
ماہر چہ خواندہ ایم فراموش کردہ ایم الاحدیث یار کی تکرارمی کنیم
مشائخ کے درباروں کی طرح ایسی چیزوں کا ذکر ہی نہیں ۔ حضرت میں تو نہ چائے پیوں نہ پلاؤں نہ چاول کھاؤں نہ کھلاؤں یہاں تو روکھا سوکھا معاملہ ہے اگر پسند ہوں آئیں ورنہ اپنے گھر بیٹھیں بلانے کون جاتا ہے ۔
