( ملفوظ 226) بد فہمی کے متعدد دلچسپ واقعات :

ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کا ایک وعظ ہے تقویم الزیغ اس کو جو تسہیل المواعظ کے سلسلہ میں سہل کیا گیا ہے تو اس میں تقویم الزیغ کا ترجمہ مترجم نے کیا ہے کجی کی درستی ایک شخص نے وعظ منگایا اس پر بہت برا بھلا لکھا کہ تم لوگوں کو دھوکہ دیتے ہو وعظ اور لکھا ہے کجی کی درستی اس میں کجی کے نسخے کہاں ہیں خدا کے بندہ نے بجائے قلب کی کجی کے عضو کی کجی کو سمجھ لیا یہ سنکر حضرت والا نے تبسم فرماتے ہوئے کئی واقعے کم فہموں کے بیان فرمائے کہ حق السماع میری ایک کتاب ہے ایک پیرزادے بیان کرتے تھے کہ گنگوہ میں عرس کے موقع پر وہی پیرزادے مختلف کتابیں فروخت کر رہے تھے اس میں سے یہ رسالہ بھی تھا ایک شخص نے رسالہ کی لوح دیکھ کر پوچھا کہ یہ کس کی تصنیف سے ہے اس نے میرا نام لیا تو وہ شخص بہت خوش ہوا کہ سماع کو اس نے بھی حق کہا ہے اور اسکی قیمت دریافت کی اور اس نے قیمت بتلادی شائد ایک ہی دو جلد باقی تھی فورا خرید لی اس خیال سے کہ کوئی اور نہ خرید لے اور پھر نہ ملے خرید کر جو دیکھا تو اس میں سماع کی حقیقت کو ظاہر کیا گیا ہے بہت خفا ہوا کہ لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے ایسا نام رکھا ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع کوحق کہا ہے اور لکھا ہے اسکے خلاف اس بھلے مانس سے کوئی پوچھتا کہ حق السماع کے نام سے سماع کا حق ہونا لازم آیا ایک اور شخص نے لکھا تھا کہ تم نام رکھنے میں بہت دھوکا دیتے ہو تم نے نام تو رکھا ہے اصلاح الرسوم اور اس میں ہے رسوم کا ابطال میں نے کہا کہ مرض کا اصلاح تو اسکے ازالہ ہی سے ہو سکتی ہے اسی طرح بہشتی زیور میں ایک نسخہ ہے نمک سلیمانی کا اس میں مزید آسانی اورسہولت کے لئے نمک کا وزن عبارت میں لکھ دیا گیا ہے کہ نمک سرسٹھ تولہ تو میرے پاس چند خطوط اس مضمون کے آئے کہ ایک تو تم نے نمک کا وزن نہیں لکھا اور دوسرے سڑسٹھ کیا دوا ہے بہت تلاش کی کہیں نہیں ملتی ایک مضمون میں لفظ حضرت سلمہ لکھا تھا تو ایک لکھے پڑھے صاحب پوچھتے ہیں کہ یہ حضرت سلمہ کون ہیں جن سے روایت ہے یہ آفت ہے اس بد فہمی کا کیا علاج اسی سلسلہ میں فرمایا کہ ایک صاحب مجھ سے فرمانے لگے کہ آپ کے وعظوں میں بعض مضامین سخت بہت ہیں اگر ہیں انکو سہل کر دیا جائے تو مناسب ہے میں نے کہا کہ کیا ان میں ایسے مضامین بھی ہیں جو آپکے نزدیک سہل ہیں اور گاؤں والوں کے نزدیک سخت ہیں کہنے لگے ہاں میں نے کہا تو انکو آپ اول سہل کر دیجئے کیونکہ انکو آپ سمجھ چکے ہیں سہل کرنا آسان ہوگا مگر اس تسہیل کا امتحان کرا دیجئے وہ امتحان یہ ہے کہ گاؤں والے سنکر یہ کہدیں کہ ہم سمجھ گئے تو اس سے تسہیل کا طریقہ مجھ کو معلوم ہو جاویگا پھر جو مضامین آپکے نزدیک سخت ہیں اسی طریقہ سے میں انکو سہل کر دونگا پس کھوئے گے مشورہ دے دینا کون مشکل ہے زبان ہی تو ہلانا پڑتی ہے مگر جب کرنیکا نام آتا ہے تو پھر سب ترکی تمام ہو جاتی ہے یہ بھی آجکل لوگوں میں ایک مرض پیدا ہو گیا ہے اور یہ سبق بھی لوگوں نے نیچریوں سے حاصل کیا ہے سمجھتے سمجھاتے خاک نہیں مگر معاملہ میں رائے دینے کو تیار ان لوگوں کی سمجھ کی وہ حالت ہے جیسے ایک شخص نے شیخ سعدی علیہ الرحمتہ کے نذدیک ایک شعر کو سمجھا تھا قصہ یہ ہوا کہ کسی کے ایک دوست کی کسی شخص سے لڑائی ہو رہی تھی وہ دوست بھی ہاتھ پاؤ چلا رہے تھے مگر ان بزرگ نے جاکر دوست کے دونوں ہاتھ پکڑ لئے دوست بیچارے کی خوب مرمت ہوئی یعنی خوب پٹائی ہوئی لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیا حرکت تھی کہا کہ میں نے حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمتہ کے فرمان پر عمل کیا ہے فرماتے ہیں ـ
دوست آن باشد کہ گیر دوست دوست در پریشاں حالی ودر ماندگی
( دوست وہ ہے جو پریشانی اور عاجزی کی حالت میں دوست کی دستگیری اور امداد کرے ـ 12 ـ )
ایک عالم غیر مقلد کی حکایت بیان کرتے تھے کہ کسی کتاب میں ایک حدیث کا اردو ترجمہ دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص امامت کرے وہ ہلکی نماز پڑھے تو آپ جب امامت کرتے تو نماز میں کھڑے ہوئے ھلا کرتے ایک شخص نے بعد نماز کے دریافت کیا کہ نماز میں یہ حرکت کیسی کہتا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ ہلکے نماز پڑھو انہوں نے کہا کہ بھائی ہم نے تو ایسی حدیث نہ سنی نہ پڑھی لاؤ ہمکو بھی دکھلاؤ وہ کونسی حدیث ہے اور کونسی کتاب میں ہے آجکل بڑی بڑی کتابوں کے ترجمہ اردو میں ہو ہی گئے ہیں ایک کتاب اٹھا کر لایا اور لاکر سامنے رکھدی اس شخص نے کتاب دیکھ کر کہا کہ میاں اس میں تو یہ حدیث کہ : من ام منکم فلیخفف یعنی امام کو چاہیئے کہ وہ خفیف یعنی ہلکی نماز پڑھے تاکہ مقتدیوں کو گرنی نہ ہو آپ نے ہلکی بیائے معروف کو ہلکے بیائے مجہول معنی حرکت سمجھا تب میاں کو اپنی غلطی کا علم ہوا یہ حالت ہے آجکل کے چودہویں صدی کے مجتہدوں کی اسپر دعویٰ ہے حدیث دانی کا حق تعالٰی فقہا کو جزاء خیر عطا فرمائیں وہ ہم کو گمراہی سے بچا کر راہ پر لگا گئے جزا ہم اللہ تعالٰی احسن الجزاء