ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ ان حضرت نے نفس کے علاج کا بڑا اہتمام کیا ہے ۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ بعض مباحات بھی چھوڑ دینا چاہئیں جہاں یہ شبہ ہو کہ یہ غیر مباح کی طرف مفضی ہو جائے گا ، یہ نفس کا علاج ہے ۔ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کو جو کہ پہلے ڈپٹی انسپکٹر تھے مدارس کی چھ ماہ کی تنخواہ نہ ملی تھی جب غدر ہو گیا تو تنخواہ کا نو سو روپیہ آیا انکار کر دیا کہ میں نے کوئی کام نہیں کیا جس کی میں تنخواہ لوں کہا گیا کہ کام سے انکار بھی تو نہیں کیا ، تسلیم نفس تو بحالہ رہا مگر پھر بھی آپ نے کچھ نہیں لیا ۔ ایک تو یہ رنگ تھا اب کہتے ہیں کہ بدون ٹکٹ کے سفر کرنا جائز ہے ۔ ایک صاحب سے میری گفتگو ہوئی ، کہنے لگے کہ اگر ایسے عمل سے ہم پر دوسروں کا حق چاہتا ہے تو کیا حرج ہے ہمارا بھی تو دوسروں کے ذمہ ہے جب قیامت میں مانگے گا ، کہہ دیں گے کہ اس سے وصول کر لو ، میں نے کہا کیا واہیات ہے اگر عدالت کسی قرض خواہ کی ڈگری کر دے کسی پر اور وہ یہ کہے کہ میرا دوسرے پر ہے اس سے وصول کر لو تو کیا یہ عذر قبول ہو گا ، جب یہاں کافی نہیں تو قیامت میں تو کیا کافی ہو گا ، تب ان کی آنکھیں کھلیں اور توبہ کی ۔
