(ملفوظ 3) بندہ کی طلب اور اس کی مثال :

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں فرمایا عادۃ اللہ یہی ہے ـ کہ بدون طلب کے کچھ نہیں ہوتا اس طرف سے طلب ہو پھر اس طرف سے سب ہی کچھ ہوتا ہے اس پر میں ایک مثال دیا کرتا ہوں کہ بچے کو باپ پچاس قدم کے فاصلے پر کھڑا کر کے اس کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے اس بچہ نے ابھی کھڑا ہونا سیکھا ہے چل نہیں سکتا مگر باپ کے ہاتھ پھلانے پر وہ اس طرف آنے کے لئے حرکت کرتا ہے مگر گر جاتا ہے اب باپ دوڑ کر آغوش میں لے لیگا جو مسافت یہ بچہ سال بھر میں بھی قطع نہ کرسکتا وہ باپ کی حرکت سے ایک منٹ میں طے ہو گئی خلاصہ یہ ہے کہ طلب شرط ہے پھر کام تو سب اسی طرف کے چاہنے سے ہوگا اور اگر طلب نہیں تو عدم طلب پر تو یہ فرماتے ہیں کہ انلزمکموھاوانتم لھا کا رھون ـ