( ملفوظ 515)بات صاف کہنا اور آج کل کے محاورے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے یہاں ایک یہ بھی مستقل تعلیم ہے کہ بات صاف کہو مجھے آج کل کی تہذیب سے سخت نفرت ہے جیسے عام محاورہ ہو گیا کہ ایسا ہو سکتا ہے حالانکہ استفہام مقصود نہیں ہوتا یہاں ایک صاحب مقیم تھے وہ کسی کو اسٹیشن پر پہنچانے کے لئے جانا چاہتے تھے مجھ سے اجازت لینے آئے سیدھی بات یہ تھی کہ میں اسٹیشن جانے کی اجازت چاہتا ہوں مگر اس کے بجائے یوں فرماتے ہیں کہ کیا میں اسٹیشن جا سکتا ہوں میں نے کہا کہ کیوں نہیں جا سکتے خدا نے پاؤں دیئے چلنے کو ـ آنکھ دی دیکھنے کو قوت ارادیہ دی ارادہ کرنے کو ارادہ کیجئے اور تشریف لیجائیے چلنا شروع کیجئے پہنچ جاؤ گے کیا خرافات ہے اور کیا مہمل بات ہے غالبا یہ عسائیوں سے لیا ہے اور ان میں یہ کوئی نئی بات نہیں اور نہ نیا محاورہ انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام سے کہا تھا ـ ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدۃ من السماء ۔ ان عسائیوں سے مسلمانوں نے یہ محاورہ سیکھ لیا ہے دوسروں کی نقالی کرنا تو اس وقت مسلمانوں کے لئے بعث فخر ہو گیا ہے ہونا تو یوں چایئے تھا کہ دوسرے لوگ ان کی وضع اختیار کرتے مگر انہوں نے سب سے پہلے پیش قدمی کی اور دوسروں کی وضع اور طرز اختیار کیا ـ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔