فرمایا کہ بعض امور فطری ہوتے ہیں وہ کسی کی رعایت سے کیسے بدلے جا سکتے ہیں ۔ مثلا مجھ کو کسی ایسے شخص سے کہ جس سے بے تکلفی نہ ہو ، خدمت لیتے ہوئے حجاب معلوم ہوتا ہے یہ فطری چیز ہے کسی کی خاطر سے اس کو کیسے بدل دوں ۔ ایک مولوی صاحب کے ایک مرید تھے وہ ایک شرعی ضرورت سے ان کو چھوڑ کر یہاں پر آئے ، ان کو پہلے پیر کی یہاں عادت تھی ہر طرح کی خدمت کرنے کی اور یہاں ان کو کسی خدمت کی بھی اجازت نہ ہوئی ۔ آپ نے ایک رقعہ مجھ کو دیا کہ میں تو سعادت سمجھ کر خدمت کرتا تھا ، مجھ کو سعادت سے محروم کیا گیا ، میں نے کہا کہ جہاں سعادت تقسیم ہوتی ہے وہاں جاؤ آدمی بے چارے نیک ہیں پھر وہ سمجھ گئے ، میں نے ان کی دلجوئی کے لیے دو چار مرتبہ ان سے کچھ کام بھی لے لیا جس سے ان کا وہم رفع ہو گیا ۔
