فرمایا کہ رنگون سے ایک خط آیا ہے کہ ایک مولوی ہے بدعتی ، اس نے ایک شجرہ چھپوایا ہے وہاں پر پیری مریدی کا جال پھیلا رہا ہے ۔ اس شجرہ میں یہ گڑبڑ کی ہے کہ بزرگوں کے نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ و سلم لکھا ہے وہ شجرہ چھپ چکا ہے جس میں مقصود تو صلوۃ علی المشائخ ہے مگر الزام سے بچنے کے لیے علی محمد کا اضافہ کر دیا ، ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تنقیص کرتے ہیں اور یہ تنقیص نہیں خط میں لکھا ہے کہ اس کے ہی گروہ کے لوگ اس سے بد عقیدہ ہو گئے ۔ اب وہ لوگ تھانہ بھون سے استفتاء کرنے والے ہیں ان اہل باطل کو رات دن یہ فکر ہے کہ اہل حق کے خلاف ایجاد کیا کریں ۔ جون پور ایک مولوی صاحب تھے انہوں نے دسویں قائم کی تھی جو ہر مہینہ کی دسویں تاریخ کو ہوا کرتی تھی کسی نے پوچھا کہ گیارہویں تو ہے ہی اب یہ کیا ہے کہا کہ رافضیوں کے یہاں دسویں ہوتی ہے اس میں سنی شریک ہوتے ہیں ان کو روکنے کے واسطے اپنے یہاں یہ دسویں ایجاد کی ہے ۔ ایک شخص نے خوب جواب دیا ، لوگ ہندوؤں کی ہولی دیوالی میں شریک ہوتے ہیں تو آپ ہولی دیوالی بھی کیا کریں تا کہ مسلمان وہاں جانے سے رک جائیں ، فرمایا کہ حضرت حب مال و حب جاہ سب خرابیوں کی جڑ ہے اور اہل باطل حب جاہ اور مال کے دلدادہ ہیں اس کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کی جاتی ہیں ۔ چنانچہ اسی شہرت کی غرض سے القاب عجیب و غریب تجویز کیے جاتے ہیں ، کوئی طوطی ہند بنتا ہے کوئی بلبل ہند ، کوئی شیر پنجاب ، اللہ نے آدمی بنایا اور یہ جانور بنتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے چند روز میں خر ہند اور اسپ ہند فیل ہند بھی بنیں گے ۔ یہ نہیں معلوم کہ اس جاہ پرستی میں سوا ان خرافات کے کیا رکھا ہے ، اللہ کے نزدیک اگر مؤمن لقب ہو جائے تو اس کے سامنے سب گرد ہے اور ہیچ ہے اور صاحب جس کو یہ خبر نہ ہو کہ میں اللہ کے نزدیک مؤمن ہوں یا غیر مؤمن تو وہ کچھ بھی بن جائے کچھ بھی نہیں ۔ دوسرے یہ الفاظ اکثر عوام کی طرف سے عطا ہوتے ہیں جو کمالات کی حقیقت بھی نہیں جانتے تو محض واہیات ہوئے ۔ ہاں اگر چند طالب علم مل کر کسی کو طالب علم کہہ دیں یہ ہے مسرت کی چیز اس لیے کہ وہ اس لقب کی حقیقت سمجھتے ہیں باقی دوسروں کے کہنے پر کیا مسرت وہ کیا جانیں ۔ طالب علم کسے کہتے ہیں ؟ ایک حکایت ہے کہ ایک نائی بادشاہ کا خط بنایا کرتا تھا ، ایک بار غیر حاضر ہو گیا ، معتوب ہوا اس نے خادم خاص سے مل کر یہ کیا کہ جس وقت بادشاہ کو نیند آ گئی وہ آیا اور سوتے ہوئے بادشاہ کا خط بنا گیا ، کس قدر سبک دست تھا ، بادشاہ کی آنکھ کھلی اور جب بادشاہ نے شیشہ دیکھا خط بنا ہوا تھا ، بے حد خوش ہوا اور استاد ہونے کا خطاب دیا ۔ چند عورتیں برادری کی جمع ہو کر اس نائی کی بیوی کو مبارک باد دینے گئیں کہ تیرے خاوند کو استاد کا خطاب ملا ، اس عورت نے پوچھا کہ کس نے خطاب دیا ، کہا کہ بادشاہ نے ، اس نے کہا کہ کوئی خوشی کی بات نہیں اور نہ مبارک باد کی ، اس لیے کہ بادشاہ اس فن سے ناواقف ہے وہ کیا جانے اس فن کو اگر چار بھائی نائی مل کر خطاب دیں تو وہ ہے مسرت کی بات اس لیے کہ وہ اس فن سے واقف ہیں ۔ واقعی نہایت ہی کام کی حکایت ہے ۔ اسی طرح اگر چند طلبہ مل کر کسی کو طالب علم کہہ دیں تو وہ ہے مسرت کی بات ورنہ کچھ بھی نہیں ۔ گو اس مسرت کے بعد کی اب بھی خبر نہیں کہ آخرت میں کیا خطاب تجویز ہوا ہے اس لیے وہ بھی کوئی زیادہ خوشی کی بات نہیں مگر خیر اگر ایسی ہی جہالت کی خوشی ہے تو اہل کے لقب سے خوشی ہونا چاہیے نہ کہ عوام کے القاب دینے پر خوش ہونا ، انہیں کیا خبر ۔
