( ملفوظ 466 ) دو عرب سائلوں کی خانقاہ آمد

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ صبح دو شخص سائل عرب کے آئے تھے تھوڑے بہت پر اکتفا نہ کرتے تھے ارب ہی کی تلاش تھی ، میں نے کچھ خدمت کرنا چاہی قبول نہیں کیا حلانکہ جب یہ لوگ پھرنے والے ہیں تو آنے دو آنہ دس جگہ سے لے سکتے ہیں جس جس کا مجموعہ مقدار کثیر ہو سکتا ہے مگر یہ ایک ہی جگہ سے لینا چاہتے ہیں سو یہ مشکل ہے گو ایسے مد کا روپیہ میرے پاس آتا ہے مگر وہ زیادہ مقدار میں نہیں ہوتا پھر یہ کہ ضرورت مند زیادہ ہوتے ہیں ان کو تھوڑا تھوڑا پہنچا دیتا ہوں اور اس میں اول ان کو جن کی شان ہے کہ ” لا یسئلون الناس الحافا ” یعنی کسی سے نہیں کہہ سکتے مگر اہل غرض سمجھتے نہیں جس کی خدمت نہ کی جائے وہ مجھ کو روکھا سوکھا سمجھتے ہیں میں ان کو عقل سے سوکھا سمجھتا ہوں ۔