ایک مولوی صاحب کے سوال کے جواب میں آجکل کے مدعیانِ قرآن دانی کے متعلق فرمایا کہ یہ تو ان نا اہلوں کا محض دعوی ہے کہ ہم قرآن کو سمجھتے ہیں اور تفسیر کر سکتے ہیں اس کے لئے ذوقِ سلیم اور فہمِ سلیم کی ضرورت ہے اور وہ پیدا ہوتا ہے تقویٰ سے اور بدون تقویٰ کے نور فہم کہاں نصیب! گو نظر بھی وسیع ہو۔ اس وسعتِ نظر اور عمقِ فہم پر میرے ایک دوست نے عجیب بات کی تھی کہ متبحر کی دو قسمیں ہیں ایک کدو متبحر، ایک مچھلی متبحر۔ کدو تو دریا کے تمام سطح پر پھر جاتا ہے مگر اس کو یہ خبر نہیں کہ دریا کے اندر کیا ہے اور ایک مچھلی ہے کہ عمق میں پہنچتی ہے گو تمام دریا پر نہ تیرے سو یہ آجکل کے مدعی کدو متبحر ہیں، اوپر پھرتے ہیں اندر کی خاک بھی خبر نہیں جیسے ایک انگریز نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم اردو جانتا ہے اور میر کے اس شعر کی شرح کی تھی شعر یہ ہے ـ
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اسکی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
شرح یہ کی کہ ہم اور تم اور انڈیا کا یک بڑا آدمی، یہ میر کا ترجمہ ہوا، سب اس کے بالوں میں پھنس کر جیل کھانے ( خانہ ) چلا گیا۔ ایک ایرانی نے دعویٰ کیا تھا کہ ہم اردو سمجھتا ہے ہندستانی نے کہا چھیلی رنگیلی رسیلی فہمیدی تم سمجھے ایرانی نے کہا بلے فہمیدم ہاں سمجھا ہندستانی نے کہا چہ فہمیدی تم کیا سمجھے تو وہ ایرانی کہتا ہے کہ شش گربہ رنگین رسن گرفت (یعنی) چھ رنگین بلیوں نے رسی پکڑ لی۔ بس یہی حال ہے ان مدعیوں کا خوب سمجھ لو کہ قرآن مجید جیسا لفظاً مُعجِز ہے اسی طرح معناً مُعجِز ہے بدون نقل صحیح کے محض عقل کی وہاں تک رسائی نہیں ہو سکتی اور لفظی اعجاز کی سب سے واضح اور کُلی دلیل یہ ہے کہ اہلِ زبان نے اس کو خدا کا کلام تسلیم کیا اور کہا کہ ما ہٰذا قول البشر (یعنی) یہ بشر کا کلام نہیں ہے۔ باقی تفصیلات و جزئیات بھی مویدات ہیں۔ چناچہ ایک تائیدی دلیل ہے کہ حق سبحانہ تعالی فرماتے ہیں ـ
اتدعون بعلا و تذرون احسن الخالقین
اگر یہ انسان کا کلام ہوتا تو بجائے تزرون کے یوں ہوتا کہ تدعون احسن الخالقین کیونکہ تدعون کے معنی بھی چھوڑ دینے کے ہیں اور تزرون کے بھی وہی معنی ہیں اور تدعون میں صنعت ہے تو بشر صنعت کو ترجیح دیتا ہے۔ اسی کو فرماتے ہیں کہ بعض مصنفین نے قرآن کی بعض آیات کی تفسیر کو نجوم کے اصول پر مبنی کیا ہے خدا کا شکر ہے کہ تفسیر بیان القرآن ایسی سب باتوں سے پاک ہے ـ
