فرمایا کہ مولوی صاحب کا جو ایک مدرسہ میں مدرس ہیں خط آیا لکھا ہے کہ پہلے سے علالت کا سلسلہ تھا اب طبیعت سنبھل چلی تھی ، صرف کمزوری کی شکایت باقی رہ گئی تھی مگر مدرسہ والوں کے اصرار پر سبق پڑھانے میں تقریر کرنا پڑی ۔ اس سے پھر دوبارہ علالت عود کر آئی ، دعاء کا خواستگار ہوں ، جواب غلطی ہے اگر خود ایسا کیا تو اپنی ورنہ آمر کی فرمایا کہ اکثر مدرسہ والے کسی کی راحت یا آرام کا خیال نہیں کرتے ایک مرتبہ مجھ کو ایک مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں مدعو کیا گیا اس وقت مجھ کو بخار آ چکا تھا ، کمزوری باقی تھی تعلقات کی وجہ سے بلانے پر چلا گیا مگر میں نے پہنچ کر کہہ دیا کہ میں حاضر تو ہو گیا ہوں مگر میری طبیعت اچھی نہیں بیان نہ کروں گا ۔ اس پر اصرار ہوا میں نے عذر کیا کہ کمزوری کی وجہ سے میں بیان پر قادر ہی نہیں اور اگر ہمت کر کے تقریر شروع بھی کر دی تو درمیان میں بوجہ ضعف کے تقریر کو قطع کرنا پڑے گا ۔ ایک طبیب صاحب نے کہا کہ میں ایسی دوا دوں گا کہ ضعف نہ ہو گا ۔ انہوں نے ماء الحم کسی اچھے نسخہ کا بنا ہوا تھا اس کی ایک خوراک مجھ کو دے دی اس کو پی کر طبیعت میں نشاط پیدا ہوا میں نے بیان شروع کر دیا اور مرتبہ سے زیادہ جوش کے ساتھ بیان ہوا وجہ یہ ہوئی کہ دوا خود گرم تھی ، اس نے حرارت عزیزیہ کو مشتعل کر دیا ، درمیان بیان ہی میں بخار شروع ہو گیا ، اسی وقت بعضے دیکھنے والے حاضر جلسہ طبیبوں نے کہہ دیا کہ طاعونی بخار ہو گیا وہاں سے آ کر مجھ پر سترہ روز تک غشی طاری رہی مگر یہ اللہ کا فضل تھا کہ عین نماز کے وقت ہوش ہو جاتا تھا بحمد اللہ ایک وقت کی بھی قضاء نہیں ہوئی بلکہ فرض بھی کھڑے ہو کر پڑھے ۔
