( ملفوظ 116 )دوسروں کی مصلحت کو اپنی نیک نامی پر مقدم رکھنا

ایک نو وارد صاحب کی غلطی پر مواخزہ فرماتے ہوئے فرمایا کہ یہ تو کوئی ایسی بات نہ تھی جس میں تعلیم کی ضرورت ہوتی یہ تو فطری چیز ہے فطریات میں کسی کی تعلیم کی کیا ضرورت کیا یہ امر فطری نہیں کہ آدمی جس کام کو آوے صاف کہدے پھر جو جواب ملے اس پر عمل کرے مگر لوگ ایسا نہیں کرتے پھر چاہتے ہیں کہ اس کی اصلاح نہ کی جاوے ـ رعایت کی جاوے حالانکہ اصلاح کر دینا یہی رعایت ہے اور اسی قاعدہ کے موافق میں ہمیشہ آنے والوں کی رعایت کرتا ہوں اور ان کی دینی مصلحت کو کہ اصلاح ہے مقدم رکھتا ہوں اپنی دنیوی مصلحت پر کہ نیک نامی ہےاور اسکے خلاف کو خیانت سمجھتا ہوں کیونکہ اگر میں آنے والوں کی وہ رعایت کروں جس کویہ رعایت سمجھتے ہیں تو پھر تربیت اور اصلاح کی کیا صورت ہے مگر یہ ان کی رعایت تھوڑا ہی ہوگی بلکہ یہ تو میری اپنی رعایت ہوگی کہ کوئی برا نہ مانے بدنام نہ کرے ـ اب یہ اس کو اپنی بدفہمی کی وجہ سے نہ سمجھیں تو میرے پاس اس کا کوئی علاج نہیں میں تو جو کچھ کرتا ہوں آنے والوں کی مصلحت کی وجہ سے کہ ان میں آدمیت پیدا ہو جاوے پھر اس کو اگر یہ اپنا نقصان سمجھیں سمجھا کریں یہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص وقف علی الاولاد کرے تو اس سے اپنی اولاد کو نفع پہچنا مقصود تھا لیکن اگر اس پر کوئی نقصان سمجھے سمجھا کرے باپ کی جوتی سے اور میں تو صاف پکار کر کہتا ہوں کہ اگر میرا یہ طرز کسی کو نا پسند ہو وہ میرے پاس نہ آوے میں کسی کو بلانے کب جاتا ہوں کسی کو سو دفعہ غرض ہو آؤو نہ کہیں اور جاؤ ـ
کسی نے کیا خوب ہی کہا ہے ـ
در کوئے نامی مارا گزر نہ دادند گر تونمے پسندی تغیر کن قضاء را
اور میں تو ایسے موقع پر یہ پڑھ دیتا ہوں
ہاں وہ نہیں وفا پرست جاؤ وہ بیوفا سہی
جس کو ہو جان عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جس طرح سے پرانا ڈھیرا چلا آ رہا ہے ویسے ہی یہاں بھی ہو صدیوں کے بعد تو باب تربیت حق تعالی کے فضل سے کھلا ہے ـ یہ نا معقول پھر اس کو بند ہوا دیکھنا چاہتے ہیں ـ سو میں تو انشاءاللہ تعالی اپنے طرز کو کسی کی خوشی کی وجہ سے بدل نہیں سکتا اور اگر بالفرض ایسا کروں بھی تب بھی کسی نہ کسی کے تو پھر بھی خلاف ہو ہی گا تو اس صورت میں ساری دنیا کو کہاں تک راضی رکھ سکتا ہوں ۔