( ملفوظ 318 )دوسرے کو تکلیف سے بچانا حقیقی ادب ہے

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ میرے نزدیک ادب کی حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کو جس چیز سے تکلیف ہو اس سے اجتناب کرنا چاہیے یہی ادب ہے ، صرف تعظیم کا نام ادب نہیں ، اس میں بڑوں کی بھی تخصیص نہیں ، چھوٹوں کا ادب بھی یہی ہے کہ ان کو تکلیف نہ پہنچائی جائے ۔ گو وہ فعل تکلیف کے لیے موضوع نہ ہو ۔ ایک پیر صاحب کی حکایت ہے کہ مرید اپنی جوتیاں ڈھونڈ رہا تھا ، پیر نے اٹھا کر دے دیں ، سو یہ فعل گو موضوع نہیں تکلیف دینے کے لیے مگر تاہم یہ بڑا ہی ظلم تھا ، بے چارے مرید پر کہ اس کو تکلیف پہنچائی بڑی چیز علم صحیح اور عمل خالص ہے اس کے مقابلہ میں کہ ان کی کرامت کہاں کا کشف اور اگر کرامت ہی مطلوب ہے تو آفاقی کرامت کی ضرورت نہیں انفسی کرامت چاہیے ۔