( ملفوظ 16 )فرشتوں کو دیکھ کر مرغ کا بولنا ضروری نہیں

ایک صاحب نے تعجب سے سوال کیا کہ حضرت سنا ہے کہ مرغا فرشتوں کو دیکھ کر بولتا ہے ، کیا فرشتے اس کو مکشوف ہوتے ہیں ؟ فرمایا کہ ہاں انکشاف کا ہونا کیا بعید ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ ہر بار بولنے کا یہی سبب ہو یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی طبعی طریق پر بولتا ہو ۔ اس پر فرمایا کہ یہ تحقیق تو ہو گئی اور وہ مرغا جس وجہ سے بھی بولتا ہو مگر میں پہلے آپ کو اس بولنے کی وجہ پوچھتا ہوں ، آپ کو بیٹھے بٹھلائے کیا نظر آیا جو آپ ایک غیر ضروری سوال لے کر چلے ، کیا خاموش بیٹھا رہنا ، آپ کے نزدیک گناہ ہے ، عرض کیا کہ غلطی ہوئی معافی چاہتا ہوں ہوں فرمایا کہ معافی کو تو معاف کر چکا ، خدانخواستہ انتقام تھوڑا ہی لے رہا ہوں مگر کیا متنبہ بھی نہ کروں آخر جواب تو ملنا چاہیے ۔ آخر اس سوال میں اور اس تحقیق میں حکمت کیا ہے اس کے نہ معلوم ہونے پر کیا نقصان تھا اور معلوم ہونے پر کیا نفع ہوا ، ان صاحب نے اس پر کوئی جواب نہ دیا ، فرمایا کہ کیا گیا ، آپ لوگوں کو خواہ مخواہ بے ضرورت کلام کرنا اس وقت کے اس سوال سے آپ کی بے حد طبیعت منقبض ہوئی اس ہی لیے آنے والوں کے ساتھ شرط لگا دیتا ہوں کہ یہاں پر زمانہ قیام میں مکاتبت مخاطبت نہ کی جائے جہاں کسی کے ساتھ رعایت کی وہی سر چڑھ جاتا ہے یہ رعایت کا نتیجہ نکلتا ہے ۔ ( انا للہ و انا الیہ راجعون )